تازہ ترینکالممیرافسر امان

کالاباغ ڈیم کی تعمیر؟مجرمانہ غفلت کہ مجبوری؟

پانی انسان کی اولین ضرورت ہے شاید اس لیے ربِ کائنات نے اپنی تخلیق میں سب سے پہلے پانی کو پیدا کیا۔ اب بھی زمین کے تقریباً 27 فی صد حصے پر خشکی ہے 73 فی صد حصے پرپانی ہے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق کی ضرورت ہے اس کے بغیر زندگی ناممکن ہے بنی آدم نے بھی ہمیشہ پانی کے قریب اپنی رہائش اختیار کی۔ نظر آرہا ہے قوموں میں پانی کی غیر مناسب تقسیم کی وجہ سے آئندہ جنگیں ہونگی۔اس لیے ہر حکومت اپنے عوام کی ضرورت کے لیے پانی کا مناسب انتظام کرتی ہے۔پاکستان ہمالیہ کی ڈھلان پر واقع ہے اس لیے ہمالیہ کااس سمت کاپانی پاکستان میں مشرق سے مغرب کی طرف بہتا ہے پاکستان کی سرزمین میں پانچ دریا بہتے ہیں پنج ند کے مقام پر آپس میں مل کر ایک ہو جاتے ہیں پاکستان میں دنیا کا بہترین نہری نظام موجود ہے۔پاک بھارت سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کی طرف بہنے والے تین دریا،ستلج،راوی اور چناب کے پانی بھارت کو دے دیے گئے اور پاکستان کے پاس جہلم اور سندھ دریا رہ گئے ۔ان تین دریاؤں کا پانی بھارت کے پاس چلے جانے کی وجہ سے جہلم اور سندھ کے پانی کو بڑی بڑی نہریں بنا کر واپس ان دریاؤں کے پاٹ میں ڈال دیا جاتا ہے تاکہ ان کے زیرین علاقوں میں آبپاشی کے نظام کو پانی ملتا رہے۔پاکستان نے جہلم پر منگلا اور سندھ پر تربیلا ڈیم بنا کر اپنے پانی کو کنٹرول کرنے کا انتظام کیا ہوا ہے باقی بند اس کے علاوہ ہیں جو آبپاشی اور بجلی پیدا کرنے کے کام آتے ہیں۔آبادی بڑھنے سے غذائی اور توانائی کی ضرورت کے تحت زمین پر زیادہ کاشتکاری کی ضرورت ہے ساتھ ہی ساتھ بجلی کی مانگ کے لیے ڈیم کی ضرورت ہے اس کے لیے موجودہ پانی بہت ہی کم پڑتا ہے۔سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بھارت نے جہلم اور سندھ کا پانی بھی روکنا شروع کر دیا ہے بلکہ کافی حد تک روک کر اپنے علاقوں کی طرف موڑ دیا ہے پاکستان نے بھارت کے خلاف بین الاقوامی اداروں میں مقدمے قائم کئے ہوئے ہیں۔ان سب باتوں کے باوجود پاکستان میں بارشوں کے سیزن میں پانی ذخیرہ کرنے کا انتظام نہ ہو تو پانی ضائع ہو جاتاہے دوسرا انسانی جانوں اور مالوں کا نقصان بھی ہوتا ہے جس کا مظاہرہ ہم 2010ء اور موجودہ سیلابی کیفیت کے دوران پہلے بھی دیکھ چکے ہیں اب بھی دیکھ رہے ہیں باوجود بیرونی اور پاکستانی قوم کی امداد کے اب تک سیلاب کی تباہ کاریوں کا مداوہ نہیں ہو سکا۔ قومی ترقی آبپاشی اور بجلی پانی سے ممکن ہے اس لیے وقت کی یہ مجبوری ہے ا ورکالاباغ ڈیم بہت ضروری ہے ویسے بھی کالا ڈیم پر ابتدائی طور پر دو ارب پچاس کروڑروپے خرچ کرنے کے بعد اس کی تعمیر کواُدھورا چھوڑ دینا کہاں کی دانشمندی ہے ۔ اس کے علاوہ آئے دن پانی کی قلت کی وجہ سے صوبوں میں لے دے ہوتی رہتی ہے بجلی نہ ہونے کی وجہ سے پورے ملک میں پر تشددہنگامے ہو رہے ہیں۔ہمارے کارخانے بند ہو گئے ہیں، ہماری زمینیں بنجر ہو رہی ہیں کالا باغ ڈیم پن سے بجلی پیدا کرنے کا سستا منصوبہ ہے۔یہ کالا باغ کے مقام ضلع میانوالی پنجاب میں مٹی سے بند بنا کر بنانے کی تجویز ہے۔ ڈیم کا منصوبہ عالمی مالیاتی اور تحقیقاتی اداروں کی فزیبلٹی رپورٹس کے بعد شروع کیا گیا تھا ورلڈ بنک پہلے اور اب بھی فنڈ دینے پر آمادہ ہے ماہرین کے مطابق پاکستان مطلوبہ دنوں تک پانی کا ذخیرہ نہیں کر سکتا جب کے دنیا کے کئی ممالک تین سال تک کاپانی اسٹور کر سکتے ہیں ہمارا پڑوسی بھارت چھ ماہ سے ایک سال تک کا پانی اسٹور کر سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس ڈیم کی اونچائی259 فٹ تجویز کی گئی ہے۔61 ہزار فٹ ایریا میں پانی اسٹور کرنے کا پروگرام ہے۔170 فٹ اونچائی سے پانی گرا کر 3600میگاواٹ بجلی حاصل کی جاسکتی ہے اقوام متحدہ اور ورلڈ بنک کے مستقل ایڈوائزر جناب بشیر اے ملک کا کہنا ہے اگر ڈیم نہ بنا تو سندھ اور خیبر پختوخواہ کی زمینیں خشک ہو جائیں۔ویسے بھی اس میں کوئی ٹیکنیکل رکاوٹ نہیں… ملک کی پانی کی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے کالا باغ ڈیم کا اعلان 1984 ء میں ورلڈ بنک کے تعاون سے کیا گیا تھا ۔جس نے پانچ سال کی قلیل مدت میں مکمل ہونا تھا۔ ماہرین کی رپورٹ کے مطابق اس ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت 8 ملین ایکڑ فٹ اور قابل استعمال پانی کا ذخیرہ6 ملین ایکڑ فٹ ہوتا اگر بارشوں کے موسم میں پانی کو ذخیرہ کر لیا جائے اور ایسے ڈیم پاکستان میں جہاں جہاں ممکن ہوں بنا لیے جاتے تو سیلاب کی تباہ کاریوں سے عوام کو بھی بچایا جا سکتاتھا یہی بات پاکستان کے سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی صاحب نے بھی 2010ء کے سیلاب کے موقعے پر فرمائی تھی…ڈیم سے 3600 میگاواٹ بجلی اور سالانہ 1.6 ارب ڈالر کی سستی بجلی حاصل ہو سکے گی۔ جس سے ہمارے ملک کی غربت کا خاتمہ ،بے روز گاری اور معاشی ترقی صرف سستی بجلی سے ہی ممکن ہے۔ کاش! اگر ڈیم بن جاتا تو آج جو عوام بجلی کے لیے ترس رہے ہیں، فیکٹریاں جوبند ہو رہی ہیں جس سے باہر سے زرمبادلہ نہیں آ سکتا، عوام بے روزگار ہو رہے ہیں اور خودکشی پر مجبور ہورہے ہیں ، مہنگائی ہے کہ بڑھتی ہی جا رہی ہے،ہسپتالوں کے اندر لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے موت و زندگی میں مبتلامریضوں کے آپریشن نہیں
ہو سکتے، لوگ کرب میں مبتلا ہیں، پانی کی موٹریں نہیں چل سکتیں جس سے شہروں میں پانی کی سپلائی میں خلل پڑتاہے ، لوڈشیڈنگ کی وجہ سے بازاروں میں کاروبار نہیں ہو سکتا، بچے امتحانوں کی تیاری نہیں کر سکتے… ڈیم پر جو 8ارب ڈالر لاگت تخمینہ تھا وہ ڈیم اپنی لاگت 5سال میں پوری کر لے گا .. پھر سالانہ آمدنی1.6 ارب ڈالے کی آمدنی کی وجہ سے پاکستان ایم آئی ایف کے دروازے پربار بار قرض کی بھیک نہ مانگتا…ڈیم سے کل 83000 افراد بے گھر ہو تے یہ کم از کم قربانی ہے دنیا میں قومی مفادات کے لیے قومیں بڑی بڑی قربانیاں دیتی آئی ہیں تب جا کر قوموں کا وقار بلند ہوتا ہے۔ ڈیم سے سارا پاکستان مستفیض ہوتا ۔جہاں تک صوبوں کا تعلق ہے توڈیم سے پنجاب کے وہ علاقے جس میں پانی کی قلت ہے اور خصوصاًتھل ڈیو لپمنٹ اتھارٹی والے علاقے سیراب ہوتے ۔ ڈیم سے صوبہ پختونخواہ میں دریا سے بلندی پر واقع 8 لاکھ ایکڑرقبہ زیرِکاشت آتا۔ڈیم سے صوبہ سندھ میں خریف کی فصل کی کاشت کے لیے ذخیرہ کیا ہوا پانی دستیاب ہو تا جس کی شدید قلت ہے۔ڈیم سے بلوچستان کے میدانی علاقے جو دریا سندھ کے قریب ہیں اور کچھی کینال میں پانی کی مقدار سے فائدہ اُٹھاتے ۔ ڈیم سے انڈس ڈیلٹا کی سیم زدہ 20لاکھ ایکڑ زمین قابل کاشت ہو جاتی جس سے ملک کی غذائی ضرورت پوری ہوتی بلکہ غلہ باہر ملکوں کو ایکسپورٹ کیا جاتااور زرمبادلہ کمایا جا سکتا تھاملک میں غربت کم ہوتی لوگ خوشحال ہوتے۔پنجاب کے اندر آباد پختون بھائیوں کے لیے فائدہ مند ہے سب سے پہلی بات ڈیم کی مخالفت تکنیکی نہیں سیاسی ہے۔ اب اعتراضات کا جائزہ لیتے ہیں صوبہ سندھ کے صاحبان فرماتے ہیں ہمار ے حصے کا پانی روک لیا جائے گا۔ فالتو پانی بجائے کہ بارشوں کے سیزن میں ضرورت کے لیے ذخیرہ کیا جائے اسے سمندر میں جانے دیں ورنہ ہمارے سمندر کے قریب زمینیں سمندر خراب کر دے گا۔ جب بارش نہیں ہو گی تو پانی نیچے کی طرف نہیں آئے گا اس سے ہمارے جھیلوں میں پانی کم ہو جائے گا۔ پہلے ہی پاکستان میں منگلا اور تربیلا ڈیم بن چکے ہیں وغیرہ۔ اب ان اعتراضات کا جائزہ لیتے ہیں 1991 ء میں پانی کی تقسیم کا تمام صوبوں سے منظور شدہ فارمولہ پہلے سے موجود ہے لہٰذا ایک دوسرے کاپانی کوئی بھی نہیں روک سکتا۔عقل کا تقاضہ ہے کہ ایک حد سے زیادہ پانی سمندر میں کیوں جانے دیا جائے بلکہ یہ آپ کی ہی ضرورت کے لیے ذخیرہ کر جائے گا اس سے تھر پارکر جیسے خشک سالی کا شکار علاقے جوپانی کی بوند بوند کو ترستے ہیں ان کے لیے ضروری ہے۔ کیا آپ کا پڑوسی بھارت درجن سے زائد میگا ڈیم نہیں بنا چکا ہے؟ جبکہ اس کے چھوٹے چھوٹے ڈیموں کا شمار ہی نہیں۔ہمارے دریاؤں پر60 سے زیادہ ڈیم؍بند نہیں بنا چکا! پاکستان کیوں نہ اپنے دریاؤں پر ضرورت کے مطابق ڈیم؍بند بنائے؟جھیلوں میں ذخیرہ توجمع شدہ پانی کسی وقت بھی چھوڑا جا سکتا ہے۔صوبہ خیبر پختونخواہ کے صاحبان کا اعتراض ہے کہ ڈیم سے ہمارا نوشہرہ شہر ڈوب جائے گا جبکہ اس کا جواب اس وقت کے واپڈا کے سابق سربراہ جن کا تعلق خیبر پختونخواہ سے ہی ہے ٹیکنیکل ثبوت پیش کر چکے ہیں کہ پانی کی اونچائی اتنی تجویز کی گئی ہے کہ نوشہرہ شہر کو کوئی نقصان نہیں ہو گا۔اے این پی کے مرحوم لیڈر کا بیان ریکارڈ پر موجود ہیں کہ ڈیم بننے کی صورت میں اس پر بم گرا دیا جائے گا۔ ڈیم بننے سے جیسے اوپر عرض کیا جا چکا ہے کہ خیبر پختونخواہ کے 8 لاکھ ایکڑ رقبہ زیر کاشت لایا جا سکے گا اور بم تو جنگ کی شکل میں دشمن پر گرایا جاتا ہے نہ اپنے ہی ڈیموں پر… صوبہ بلوچستان کو ڈیم بننے سے فائدہ ہے کوئی نقصان نہیں لیکن سندھ اور خیبر پختونخواہ کی پنجاب مخالف لابی کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے وہ صاحبان ڈیم پر اعتراضات کرتے ہیں۔
قارئین ! اب مجرمانہ غفلت کی بات کرتے ہیں۔ سب سے پہلے فوجی آمروں کی مجرمانہ غفلت ہے انہوں نے کئی بارقوم کو فتح کیا اور سیاہ سفید کے مالک بن جانے کے بعد ڈیم بنا سکتے تھے مگر انہوں نے ڈیم نہیں بنایا… اس کے بعدان سیاستدانوں،جن کو پارلیمنٹ میں ٹو تھرڈ مجارٹی ملنے کے باوجود وہ مجرمانہ غفلت کرتے ہوئے قوم میں اتفاق پیدا نہیں کر سکے اور ڈیم نہ بنا سکے …کوئی مانے نہ مانے بھارت ہمارا ازلی دشمن ڈیم مخالف لوگوں کی خاموشی سے مدد کرتا رہا ہے جس وجہ سے ڈیم نہ بن سکا…پنجاب میں جہاں ڈیم بننا ہے وہاں کے سیاست دانوں نے بھی مجرمانہ غفلت کرتے ہوئے اور اپنا اپنا اقتدار بچانے کے لیے ڈیم کا صحیح مقدمہ پیش نہیں کیا ان میں سے صرف دو سیاستدانوں کے بیان پیش کرتے ہیں پی پی کے نمائندے اور اس وقت کے بجلی پانی کے وفاقی وزیر اور موجودہ وزیر اعظم صاحب نے فرمایا تھا کالا ڈیم نہیں بننا چاہیے… نواز شریف سابق وزیر اعظم پاکستان نے 1998 ء میں فرمایاتھا ڈیم بننے سے ملک کمزور ہو گا… اسلامی ذہن،تعصب سے پاک، پاکستان کی ترقی کے خواہشمند پاکستانی عوام نے بھی کوئی بڑی تحریک ڈیم بننے کے لیے برپا نہیں کی کہ ڈیم بننے میں مددگار ہوتی… کالا باغ ڈیم پیپلز پارٹی کے بانی جنا ب ذوالفقار علی بٹھو صاحب کا تجویز کردہ ہے اس لیے مرکز میں موجوو حکمران جماعت کو اس معاملے کو پارلیمنٹ کے اندر ڈیبیٹ کروا کے اتفاق رائے پیدا کروانا چاہیے… اس طرح پنجاب کی حکمران جماعت اپنے صوبے کے عوام کو لوڈ شیڈنگ سے نجات ا ور ان کی فلاح وبہبود کے پیش نظر ڈیم کے معاملے کو پنجاب اسمبلی میں ڈیبیٹ کرواکر منظور کروائے۔ پنجاب سے تعلق رکھنے والے پاکستان کی تمام سیاسی پارٹیوں کے ممبران بھی عوام میں ڈیم بنانے لے لیے مثبت تبدیلی لانے کی کوشش کریں۔ واپڈا نے پہلے ہی لاہور ہائی کورٹ میں داخل کیے گئے بیان کے مطابق کہا ہے کہ اگرمشترکہ مفادات کی کونسل اجازت دے تو ڈیم 2020ء تک بن سکتا ہے۔
صاحبو! ہم سب پاکستانی ہیں جس جس سے کسی مجبوری کی وجہ سے کوتاہی ہوئی اللہ ان سب کو معاف کرے… دشمن پاکستان کو تباہ کرنے کے منصوبے بناہ رہے ہیں اس لیے ہم پاکستانی عوام سے دردمندانہ درخواست کرتے ہیں ابھی نہیں تو کبھی نہیں کے فارمولے کے تحت کہ وہ اس کام میں اپنا اپناحصہ ڈالیں۔ مثل مدینہ اسلامی مملکت جمہوریہ پاکستان کی بقا ء اور آئندہ نسلوں کے لیے کالا ڈیم بننا ضروری ہے ورنہ ہمارا ملک بنجر ہو جائے گا۔ کالا باغ ڈیم بنانے کے لیے ایک شعوری مہم شروع کرنا چاہیے الیکٹرنک اور پرنٹ میڈیا، محب وطن این جی اوئز،کالم نگار ، اخبارات کے مالکان ،ٹی وی کے مالکان اور مذہبی جماعتوں کے علماء جمعہ کے خطبات وغیرہ کے ذریعے شروع کرنی چاہیے تاکہ بزدل مقتدر لوگوں پر پریشئر بڑھے اور وہ ڈیم بنانے پر مجبور ہوں… قابل قدر ہے روز نامہ امن فیصل آباد جس نے یہ کام شروع کیا ہوا ہے عوام یاد رکھیں اگر مصر کے عوام تحریر چوک بنا کر ایک آمر سے اپنے جائز مطالبات منوا سکتے ہیں تو پاکستان کے عوام بھی یہ کام کر سکتے ہیں … اللہ ہماری قوم کو صحیح فیصلہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔

یہ بھی پڑھیں  اوکاڑہ:پنجاب بھرمیں پراپرٹی ٹیکس جمع کروانے کی آخری تاریخ 30 ستمبر مقرر

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker