انور عباس انورتازہ ترینکالم

انورعباس انورگڑے مردے اکھاڑنے کاکیافائدہ ؟

لاہور ہائی کورٹ نے تیس نومبر کو ایک فیصلہ سنایا ۔۔۔اس ایک فیصلے نے برسوں سے دفن ایک ’’ گڑے مردے‘‘ کو پھر سے زندہ کر دیا ہے….. جس کے بعد ملک میں وفاق پاکستان کو قائم رکھنے کے حوالے سے ایک نئی بحث شروع ہو گئی ہے…… اس’’ گڑے مردے ‘‘ کا نام کالا باغ ڈیم ہے. وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف نے لاہور ہائی کورٹ کے اس فیصلے کی ڈنکے کی چوٹ پر نہ صرف حمایت کی ہے..بلکہ کہا ہے ’’ کالا باغ ڈیم پر عدالتی فیصلہ تسلیم کیا جانا چاہیئے کیونکہ ملک کی معیشت کے لیے ڈیم کی تعمیر ضروری ہے‘‘ جبکہ ان کے بڑے بھائی میاں نواز شریف سمیت تمام سیاسی قائدین اس عدالتی فیصلے کی حمایت کرنے سے گریز کی راہ اپنا رہے ہیں… اور کہہ رہے ہیں کہ اس ڈیم کی تعمیر کے لیے و فاق کی چاروں اکائیوں ( چاروں صوبوں ) کے مابین اتفاق رائے ضروری ہے. لاہور ہائی کورٹ جانب سے اکھاڑے گے ’’گڑے مردے‘‘ کو حیاتی بخشنے (تعمیر کرنے) کے خلاف تین صوبوں سندھ بلوچستان اور خیبر پختونخواہ کی منتخب اسمبلیاں منتفقہ قرار دادیں منظور کر چکے ہیں….کالا باغ ڈیم کے منصوبے کو شہرت جنرل ضیا ء الحق کے دور میں حاصل ہوئی لیکن اسوقت بھی ان تینوں صوبوں نے اسکی حمایت نہ کی تھی…. حتیکہ جنرل ضیا ء الحق کے ہم پیالہ اور ہم نوالہ مارشل لا ایڈمنسٹریٹر صوبہ خیبر پختونخوا ہ جنرل فضل حق نے بھی اس کالا باغ ڈیم کی تعمیر میں جنرل ضیا ء الحق کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا تھا……..یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جنرل ضیا ء الحق کا دور حکومت کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے لیے انتہائی موزوں دور اور وقت تھا……لیکن جب کالا باغ ڈیم کے لیے اس ’’سنہری وقت‘‘ میں اسے تعمیر نہ کیا جا سکا تواب یہ کیسے تعمیر ہو جا ئیگا …….. کہا تو جاتا ہے کہ ہر ادارہ اپنی حدود میں رہے .لیکن اس بات پر عمل کرنے کو کوئی تیار نہیں ہے نہیں …… قومی اہمیت اور خاص کر متنازعہ مسائل پر عدالتوں کو دخل دینے کی چنداں ضرورت نہیں ہے یہ پارلیمنٹ کا کام ہے اور اسے ہی کرنے دیا جائے تو زیادہ بہتر ہوگا… متنازعہ چیزوں کوچھڑنے سے اگر عدالتیں گریز ہی کریں اور اپنے کام سے کام رکھیں تو یہ ملک اور قوم کے بہترین مفاد میں ہوگا…. لاہور ہائی کورٹ نے فیصلے سے ملک بھر میں بڑی بڑی باتیں ہو رہی ہیں لاہور ہائی کورٹ کے ساتھ ساتھ پنجاب کے عوام کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے. سندھ اسمبلی دو تین دن تک مچھلی منڈی کا منظر پیش کرتا رہا ہے .سندھ اسمبلی کے فلور پر کہا کہ ’’سندھ کے غیرت مند عوام کالا باغ ڈیم کسی صورت نہیں بننے دیں گے اور اسے مردہ گھوڑا اور ملکی سلامتی کے لیے اسے خطرناک ایشو قرار دیدیا گیا ‘‘ ظفر لغاری نے کہا کہ کالا باغ ڈیم ہماری لاشوں پر بنے گا. سندھ اسمبلی کے ارکان نے کہا کہ سندھ کے عوام پنجاب سے ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو کی شہادت کا حساب چاہتے ہیں…یہ بھی کہا گیا کہ لاہور ہائی کورٹ پر ذوالفقار علی بھٹو کے خون کے چھیٹے پڑے ہوئے ہیں اور لاہوئی کورٹ ابھی تک ان بد نما داغوں کو نہیں دھو سکی ….اگر پنجاب کے حکمران سازشوں سے باز نہ آئے تو سندھ کے عوام لاہور کی طرف مارچ کریں گے….سندھ اسمبلی کے اجلاس میں حکومتی اور اپوزیشن کے ارکان کے درمیان بہت زیادہ ’’ تو تو اور میں میں‘‘ ہوتی رہی…مسلم لیگ فنکشنل کی نصرت سحر عباسی نے یہاں تک کہا کہ ہمیں بار بار سندھ اسمبلی میں قرارداد لانے پر مجبور کیا جاتا ہے اب عملی اقدامات کرنے ہوں گے…….سندھ اسمبلی کے حکومتی اور اپوزیشن کے ارکان باہم ایک دوسر ے کے گلے پڑتے رہے تاہم کالاباغ ڈیم پر لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف پوری سندھ اسمبلی متفق نظر آئی……کسی قوم پرست یا وفاق کی حامی جماعت نے قراداد کے خلاف ووٹ نہیں دیا….. ابھی سندہ اسمبلی میں مچے طوفان کی گرد نہیں بیٹھی تھی کہ خیبر پختونخواہ بھی میدان میں آ گیا اور پشاور میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے خیبر پختونخواہ کے وزیر اعلی امیر حیدر ہوتی کے نانا جان اور عوامی نیشنل پارٹی کے صدر جناب اسفند یار و لی خان نے بڑے واضع طور پر پنجاب کے حکمرانوں کو وارننگ دیدی ہے کہ پنجاب اگر وفاق کی تین اکائیوں کے ساتھ ایک اکائی کے طور پر چل سکتا ہے تو تھیک ہے ست بسم اللہ….اور اگر وہ بطور کمانڈر حکم چلائے تو ہمیں منظور نہیں ہے….. ان کے خطاب سے ان کے پدر محترم جناب ولی خاں کی یاد تازہ ہو گئی ہے…..انہوں نے مذید کہا کہ’’ کالا باغ ڈیم اور پاکستان ایک ساتھ نہیں چل سکتے اسلیے دونوں میں سے کسی ایک انتخاب کرنا پڑے گا پاکستان چاہئے یا کالا باغ ڈیم‘‘ اسفند یار والی کے ساتھ خیبر پختون خواہ کے وزیر اعلی امیر حیدر ہوتی نے بھی کالا باغ ڈیم کی تعمیر کی مخالفت کی اور کہا کہ’’ کالاباغ نامنظور نامنظور ‘‘ لاہور ہائی کورٹ کے حکم میں کہا گیا ہے کہ ’’ مشترکہ مفادات کونسل کی جانب سے منظور کی گئی سفارشات کے مطابق کالا باغ ڈیم کی تعمیر فوری طور پر شروع کی جائے‘‘ اگر دیکھا جائے تو مشترکہ مفادات کونسل نے یہ سفارشات 1991 اور 1998 میں جب منظور کیں تو اس وقت ملک کے چاروں صوبوں میں اور وفاق میں بھاری مینڈیٹ والی مسلم لیگ نواز کی حکومتیں تھیں یہاں سوال پیدا ہوتی ہے کہ آج کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے لیے ہلقان ہونے والے میاں شہباز شریف اور میاں نواز شریف اسے تعمیر کرنے کے لیے مشترکہ مفادات کونسل کی سفارشات پر کیوں نہیں عمل درآمد کیا……مجھے تو صاف دکھا ئی دے رہا ہے کہ جن قو

یہ بھی پڑھیں  یادگار میٹرو سٹیشن کے قریب میٹرو بس میں آگ لگ گئی

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker