تازہ ترینکالممحمداعظم عظیم اعظم

کوئی بتائے کہ بارش سے کراچی کیوں اور کیسے ڈوبا…؟

Azam Azim Azamکراچی میں ہفتے کی صبح سے شروع ہونے والی مون سون کی پہلی موسلادھاربارش نے شہرقائد میں نظامِ زندگی مفلوج کرکے رکھ دیاہے ،سڑکیں ، گلیاں اور شاہراہیں ندی نالوں میں تبدیل ہوگئے ہیں،انڈرپاسز تلاب بن گئے ہیں،گٹراُبل پڑے ہیں، سڑکوں پر کچرے کے انبار لگ گئے ہیں ،یوں دونوں( ہفتے اور اتوار ) کی بارشوں کے دوران شہر کے مختلف مقامات پر کرنٹ لگنے، ڈوبنے اور مکانات کی چھتیں گرنے کے واقعات میں بچوں اور خواتین سمیت 30افرادجاں بحق ہوگئے ہیں ، ملیر ندی اور لیاری ندی میں شدیدطغیانی کے باعث اطراف میں قائم مکانات کو خطرات لاحق ہوگئے ہیں، کورنگی کراسنگ ندی میں شدیدطغیانی کے باعث کورنگی اور لانڈھی کو صدر سے ملانے والی سڑک بندکردی گئی ہے، جس کی وجہ کورنگی اورلانڈھی کا صدر سے رابطہ منقطع ہوگیا ہے، شہر میں ایمرجنسی نافذکردی گئی ہے ، ایڈمنسٹربرطرف ، شہر کا انتظام فوج نے سنبھال لیا ہے ،کے ای ایس سی کے کم و بیش 500 فیڈر بند ہونے سے کراچی میں اندھیروں کا راج قائم ہوگیا،اِس صورتحال میں شہرکراچی کا ہر باسی ذہنی وجسمانی اذیت میں مبتلاہے، یوں مون سون کی پہلی موسلادھار بارش نے سندھ حکومت کے انتظامات اور اقدامات کی قلی کھول دی ہے، کہ آج اِس کے پاس عوام کو مطمئن کرنے کے لئے کوئی جواب نہیں ہے کہ وہ پریشان حال عوام کاسامناہی کرسکے،آج کیوں کہ سندھ میں جس جماعت کی حکومت ہے اِس نے اپنے پچھلے دورِ حکومت میں بلدیاتی نظام پر اپنی سیاست چمکائے رکھی،یوں اِس حکومت نے کراچی سمیت سندھ بھر میں بلدیاتی انتخابات نہ ہونے دیا(اور تاحال ایسامحسوس ہورہاہے کہ اپنے دوسرے دورِحکومت میں بھی کراچی اور سندھ میں شائدبلدیاتی انتخابات پر سیاست جاری رکھے اور یہ معاملہ اگلے پانچ سال تک بھی گھٹائی میں پڑارہے)، یہی وہ حکومت ہے جو اپنے پہلے دورِ حکومت میں شہر کراچی سے تعلق رکھنے والی اپنی ساتھی جماعت کو بلدیاتی انتخابات کرانے اور پھر نہ کرانے کا جھانسہ دے کر اپنی مدت پوری کرکے گزرگئی، اگر موجودہ سندھ حکومت اپنے پہلے دورِ اقتدارمیں کسی کے بہکاوے میں نہیں آتی اور اپنی اتحادی جماعت ایم کیو ایم کے مشوروں اور اِس کے دیئے گئے نکات پر عمل کرتے ہوئے کراچی اور سندھ میں باہمی صلاح ومشوروں سے اپنی مرضی و منشاکے عین مطابق بلدیاتی انتخابات کروادیتی تو شائدسندھ ، حیدرآباداور کراچی میں یہ صورتحال تو پیدانہ ہوتی جیسی اِن دنوں سندھ ،حیدرآباد اور کراچی میں ہونے والی مون سون کی پہلی موسلادھارباش کے دوبالٹی پانی گرنے کے بعدانتہائی گھمبیر صورت حال پیداہوگئی ہے، آج جواِس کے بس میں بھی نہیں ہے۔
جبکہ یہ حقیقت ہے کہ شہرکراچی میں گزشتہ ہفتے کے روز سے شروع ہونے والی دوروزہ موسلادھاربارش کے دوبالٹی پانی نے نصب سے زائد شہرِ کراچی کو ڈبوکررکھ دیاہے اور اِسی بارش کے ہی بہانے محکمہ کے ای ایس سی کے پانچ سو سے زائد فیڈربندہونے سے اندھیروں نے بھی شہر کراچی کو پریشانیوں اور مسائل کی آغوش میں ایسے دپوچ لے لیا ہے کہ اِس شہر کے گرمی اور بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ کے ستائے شہری جو اللہ سے بارش کے لئے دعائیں کیاکرتے تھے آج یہی بار ش کو رکنے کی دعائیں کرتے نہیں تھک رہے ہیں ،کیوں کہ آج شہرِ کراچی کے باسیوں کے لئے بارش رحمت کے بجائے زحمت بن گئے ہے۔
شہرِ کراچی جو دنیا کا بارھواں بڑا انٹرنیشنل اور پاکستان میں مرکزی صنعت و تجارت اور اقتصادی و معاشی حب کا درجہ رکھتاہے ، اِس شہر میں پہلے روز صرف چندگھنٹوں کی ہونے والی موسلادھار بارش کے دوبالٹی پانی نے شہر کانصف سے زائد حصہ ڈوب دیا اور اِس کا نظامِ زندگی بری طرح مفلوج ہوکررکھ دیاہے اگرچہ وزیراعظم نوازشریف شہرکراچی سمیت مُلک بھر میں ہونے والی بارشوں اور سیلاب کی صورت حال سے پل پل باخبرہیں، اور وفاق اور صوبائی سطح پر حکومتوں سے مسلسل رابطے میں ہیں اور بارشوں اور سیلابوں سے پیداہونے والے مسائل کے حل کے لئے بروقت اقدامات اور انتظامات کے لئے احکامات بھی جاری کررہے ہیں، جو کہ وزیراعظم نوازشریف کا قابل تعریف اقدام ہے ،جہاں کراچی سمیت مُلک بھر میں فوج اور سماجی تنظیموں کے رضاکار اور صوبائی حکومتیں اپنی مشینری کے ساتھ ہنگامی بنیادوں پر بارش اور سیلاب کی صورت حال سے نمٹنے کے لئے تو متحرک ہیں مگرمیں بالخصوص کراچی، حیدرآباد اور سندھ کے حوالے سے یہ کہناضروری سمجھتاہوں کہ آج سندھ ، حیدرآباد اور کراچی میں مون سون کی پہلی بارش کے بعد جیسی گھمبیر صورت حال پیداہوگئی ہے ، کہ آج اِس سے بروقت نمٹنا سندھ حکومت اور حیدرآباد اور کراچی کی انتظامیہ کو مشکل ہوگیاہے، کیا ہی اچھاہوتاکہ ماضی میں کراچی اور سندھ میں یوسیز کی سطح کے بلدیاتی انتخابات کرادیئے جاتے توکم ازکم اِس طرح کراچی، حیدرآباد اور سندھ کی انتظامیہ بھی ٹھیک طرح سے کام کررہی ہوتی اور یہ کچھ بھی نہ ہوتاجیسا آج ہوگیاہے ۔مگرابھی وقت نہیں گزراہے موجودہ حکومت یوسیز کی سطح پر یاجیسابھی چاہئے جلدازجلدسندھ، حیدرآباد اور کراچی میں بلدیاتی انتخابات کردے تاکہ آئندہ سال مون سون کے آنے سے قبل بلدیاتی اداروں کا کوئی سیٹ اَپ سامنے آجائے تاکہ وہ آنے مون سون سے متحرک ہوکر نمٹ سکیں۔
بہر حال آج یقینایہ سیاسی بازی گروں کے لئے منہ چھپانے اور بغلیں جھانکنے کا مقام ہی تو ہے کہ اِن کی سیاسی چکمہ گیری کی وجہ سے دنیا کا بارھواں انٹرنیشنل اور پاکستان میں اقتصادی اور معاشی حب کا درجہ رکھنے والا شہرِ کراچی صرف دونوں کی چندگھنٹوں کی بارش سے دوقطرے پانی میں نصب سے زیادہ ڈوب گیاہے،وہ بارش جو اللہ کی خاص نعمتوں میں سے ایک نعمت سمجھی جاتی ہے ، مگرآج یہی بارش میرے شہرِ کراچی
میں رحمت کے بجائے اِس سال اپنی خصوصیات کے اُلٹ ثابت ہوئی ہے ،(ماضی میں جب یوسیز کی سطح کا بلدیاتی نظام قائم تھااور کراچی کے ناظم مصطفی کمال تھے توایسانہیں ہواتھاکہ کبھی شدیدترین بارشوں میں بھی شہرکراچی ڈوب گیاہو) وہ شہرِ کراچی جو اپنے نام اور مقام کے لحاظ سے بین الاقوامی سطح پر اپنا ایک منفرد پہنچان رکھتاہے ۔
آج یہ شہر جس خستہ حالی اور تباہی کا منظرپیش کررہااِس کے ذمہ دار حکومت ، انتظامیہ اور وہ شہری ادارے ہیں جنہوں نے اِس شہر کی بہتر کی جانب توجہ دینے کے بجائے ،اِس شہر کے بلدیاتی اداروں کے فنڈز کو روکنے اور جو ملااِسے کسی دوسرے مصرف کے لئے استعمال کیا اور وہ وزراء ہیں جنہوں نے شہراداروں کے ملازمین کی تنخواہیں روکنے اور اِنہیں پریشانی کرنے کوتواپنی شان اور آن کا حصہ بنائے رکھامگراداروں کی بہتری اور مزدوروں کی خوشحالی کی جانب سنجیدگی سے اقدامات نہیں کئے یہی وجہ ہے کہ اِس سال مون سون کی پہلی ہی چندگھنٹوں کی موسلادھار بارش کے دوبالٹی پانی میں شہرکراچی سمیت حیدرآبادبھی ڈوب گیاہے۔

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button