تازہ ترینفیصل اظفر علویکالم

سانحہ لاہور و کراچی‘ حادثہ یا سازش؟

گزشتہ دنوں پاکستان کی تاریخ کے المناک ترین واقعات سے جہاں قوم کا دل خون کے آنسو رہا ہے وہیں حکمران جماعت اور دیگر سیاسی جماعتوں کے سربراہان کی روایتی بے حسی پر بھی تاریخی ماتم کرنے کو دل کرتا ہے‘ مملکت خداد پاکستان کے عوام شرعو دن سے ہی کسی نہ کسی سانحے سے دوچار ہوتے آرہے ہیں‘ حالیہ بارشوں کی وجہ سے آنے والے سیلاب نے ملکی معیشیت کی رہی سہی کمر بھی توڑ دی ایسے حالات میں کون محب وطن شہری خوش ہو سکتا ہے؟ لیکن موجودہ دور میں المیہ اس بات کا ہے کہ وطن عزیز میں رونما ہونے والے بڑے حادثات اور آنے والی قدرتی آفات پر خوشیاں منانے والا بھی ایک طبقہ ہمارے ملک میں موجود ہے‘ ملک و قوم جب بھی کسی ہنگامی حالت سے دوچار ہوتے ہیں تو اُس طبقے کیلئے وہ سنہری وقت ہوتا ہے کیونکہ اُنہیں عالمی برادری سے ملنے والے بھیک میں خاطر خواہ اضافہ ہو جاتا ہے۔
پاکستان کے بڑے بڑے چور‘ ڈاکو آفات و بلیات میں گھری ہوئی قوم کو دیکھ کر شیطانی قہقہے ہوا میں بلند کر رہے ہوتے ہیں‘ صدمات سے دوچار افراد کے گھر جا کر اُن کے ساتھ تصاویر بنوائی جاتی ہیں اور عوام کے ہی لوٹے ہوئے روپوں‘ پیسوں سے دو چار افراد کی چند لاکھ روپے امداد کر دی جاتی ہے اور اس کیساتھ ساتھ دوچار ’’ہمدردانہ‘‘ بیانات ’’داغ‘‘ دیئے جاتے ہیں اور اس طرح اپنا ’’فرض‘‘ پورا کر لیا جاتا ہے۔ سادہ لوح عوام جذبات میں آکر ان کے مکروہ چہرے بھی بھول جاتے ہیں اور اس طرح یہ عوامی حمایت حاصل کرنے میں کسی حد تک کامیاب بھی ہو جاتے ہیں۔
معاشی طور پر ہمارا ملک اس وقت بہت بڑے بحران کا شکار ہے اس پر ستم ظریفی یہ کہ اگر کہیں کسی صوبائی حکومت یا مرکزی حکومت کی طرف سے برائے نام ہی کوئی ترقیاتی کام کروا دیا جائے تو صوبائی اور مرکزی حکومت ایک دوسرے پر بازی لے جانے کے چکر میں اربوں روپے تعریفی اشتہارات کی مد میں آگ میں جھونک دیتے ہیں یعنی مثال کے طور پر 10 کروڑ روپے کا کوئی ترقیاتی کام کروایا جاتا ہے اور 20 کروڑ روپے کے تعریفی اشتہارات جاری کر دیئے جاتے ہیں جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان کی سسکتی معیشیت کو کتنا’’سہارا‘‘ ملتا ہے۔ وطن عزیز میں کوئی ڈینگی مارنے میں مصروف ہے تو کوئی ڈینگی بڑھانے میں‘ کوئی سانحہ لاہور اور کراچی میں جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین کے ساتھ تصویریں بنوا کر اپنی سیاسی دوکان چمکانے اور خود کو شیر ثابت کرنے میں مصروف ہے ‘ اسی طرح ’’عوامی ہمدردی‘‘ کا ’’جذبہ‘‘ رکھنے والا کوئی عوامی نمائندہ دوسروں پر کیچڑ اچھالنے میں مصروف ہے‘ ’’عوامی خدمت‘‘ کا راگ الاپنے والوں کو حقیقت میں عوام الناس سے کوئی ہمدردی نہیں‘ کسی کو اس بات کی پروا نہیں کہ کراچی اور لاہور میں ہونے والے سانحات کا ذمہ دار کون ہے؟ کراچی میں موجود فیکٹری سے بھتہ مانگنے والا کون ہے؟ فیکٹری میں استعمال ہونے والا بوائلر کس طرح پھٹا اور آگ کس طرح لگی؟ فیکٹری کے مالک نے فیکٹری کی کتنے روپے کی انشورنس کروائی ہوئی تھی؟ ہونے والے دونوں واقعات سانحات تھے یا سازشیں؟ خیر ان سب باتوں کی فکر کسی کو کرنی بھی نہیں چاہئے کیونکہ ان سب باتوں کا تعلق عوام سے ہے اور عوام نام کی کسی ’’مخلوق‘‘ کو ہمارے کرتا دھرتا سرے سے جانتے ہی نہیں۔
قوم ایسی حکومت سے کیا بعید رکھے گی جو اپنی ہی لیڈر کے قاتلوں کا ساڑھے چار سالوں میں سراغ نہیں لگا سکی‘ ہاں البتہ اس نقطے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ بے نظیر بھٹو کے قاتلوں کا سراغ تو لگا لیا گیا ہے لیکن ان قاتلوں کا نام عوام کاسامنے لانے شاید کسی میں جرات نہیں ہے‘ خیر ہمیں قاتلوں سے کیا لینا دینا‘ یہ ان کا آپس کا معاملہ ہے‘ میرے جیسے کم عقل لوگ تو عوامی مسائل پر سارا سارا دن کچھ نہ کچھ سوچتے رہتے ہیں کیونکہ سوچنا ’’فارغ‘‘ لوگوں کا کام ہوتا ہے مگر افسوس اس بات کا ہے کہ ماضی کی طرح اس مرتبہ بھی کراچی و لاہور کے سانحات میں جاں بحق ہونے والوں کے لئے کوئی خاص عملی اقدام اٹھانے کی بجائے برائے نام اعلان کر دیئے جائیں گے اور یہ بات بھی سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ حکومت کی جانب سے اس طرح کے اعلانات والی امداد کب اور کیسے ملتی ہے‘ یعنی ایک ڈیڑھ سال اسی چکر میں گزر جاتا ہے اور امداد لینے والا بلا آخر اس گھن چکر سے نکلنے میں ہی عافیت سمجھتا ہے‘ آخر میں اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ سیلاب اور آگ سے جاں بحق ہونے والوں کو جنت الفردوس میں جگہ اور ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین!

یہ بھی پڑھیں  ہارون آباد:چاپان ایجنسی جائیکا سرحد ی علاقہ میں آبپاشی کے نظام کا جائزہ

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker