پاکستانتازہ ترین

سندھ اسمبلی نےسندھ پیپلزلوکل گورنمنٹ آرڈینینس منظور کرلیا

کراچی(نامہ نگار) سندھ پیپلز لوکل گورنمنٹ آرڈی نینس2012ء سندھ اسمبلی میں منظور کرلیا گیا۔ آرڈی نینس صوبائی وزیر قانون ایاز سومرو کی جانب سے پیش کیا گیا۔ اس موقع پر اپوزیشن ارکان نے آرڈی نینس نامنظور، نامنظور کے نعرے لگائے جبکہ اس سے قبل اپوزیشن ارکان سیاہ پٹیاں باندھ کر اسپیکر کے سامنے زمین پر بیٹھ گئے۔ انہوں نے اس موقع پر بھی سخت نعرے بازی کی ۔ احتجاج کرنے والی جماعتوں میں فنکشنل لیگ، اے این پی، مسلم لیگ ق اوراین پی پی نے شامل تھی۔ اپوزیشن بینچز الاٹ نہ کئے جانے کے خلاف سراپائے احتجاج تھے۔ ان جماعتوں نے حکومتی نشستوں پر بیٹھنے سے انکار کردیا۔ اپوزیشن رہنما جام مدد علی کا کہنا تھا کہ درخواست جمع کرانے کے باوجود اپوزیشن بینچ الاٹ نہیں کئے گئے۔ اسپیکر سندھ اسمبلی کا کہنا تھا کہ وزرا کی حیثیت سے آپ کے استعفے منظور نہیں ہوئے، وزرا کے علاوہ دیگر اراکان اپوزیشن کی نشستوں پر بیٹھ سکتے ہیں۔ استعفے کے نوٹی فیکیشن تک نشستیں الاٹ نہیں کرسکتا۔ جام مدد علی کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ اور گورنر سندھ کو استعفے دے دیئے ہیں امید ہے جلد منظور ہو جائیں گے۔سندھ اسمبلی کے جاری اجلاس میں سندھ پیپلز لوکل گورنمنٹ آرڈیننس دوہزار بارہ پیش کیا گیا جو ایجنڈے میں چوتھے نمبر پر ہے۔ سندھ اسمبلی میں اپوزیشن اراکین بازو پر سیاہ پٹیاں باندھ کر ایوان میں داخل ہوئے۔ گزشتہ روز مسلم لیگ فنکشنل ، این پی پی اور ہم خیال گروپ کے ارکان کا مشترکہ اجلاس ہوا جس میں نئے بلدیاتی آرڈیننس کی مخالفت کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ سندھ میں نئے بلدیاتی نظام کے خلاف فنکشنل لیگ ، این پی پی کے وزراء کے استعفے گورنر ہاؤس میں جمع کرادیئے گئے۔ فنکشنل لیگ کے رہنما امتیاز شیخ کہتے ہیں آٹھ وزراء ، مشیر ، اور معاون خصوصی کے استعفے گورنر سندھ کے ملٹری سیکریٹری پاس جمع کرائے گئے ہیں۔ سندھ میں پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کے حکمراں اتحاد کی بھاری اکثریت ہے۔ سندھ اسمبلی کے ایک سو سڑسٹھ ارکان میں پیپلزپارٹی کے ارکان کی تعداد بانوے اور متحدہ قومی موومنٹ کے ارکان کی تعداد اکیاون ہے۔ دیگر مختلف ارکان کو ملا کر حکمراں اتحاد کو ایک سو تیرپن ارکان کی حمایت حاصل ہے۔ اپوزیشن میں صرف چودہ ارکان ہیں۔ جن میں مسلم لیگ فنکشنل ،نیشنل پیپلزپارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں  کشمیریوں کا لہو پاکستانیوں پرقرض ہے۔محمدناصراقبال خان

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker