تازہ ترینعلاقائی

کراچی:گاڑیوں کی مانٹرنگ کےلئے کمپیوٹرائزڈ چیک پوسٹیں قائم کی جائیں گی

karachiکراچی (نامہ نگار) صدر پاکستان آصف علی زرداری کی زیر صدارت اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ کراچی کے تمام داخلی اور خارجی راستوں پر گاڑیوں کی تلاشی اور موثر مانٹرنگ کے لئے کمپیوٹرائزڈ چیک پوسٹیں قائم کی جائیں گی اور ان میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کئے جائیں گے۔ سندھ پولیس کو مزید 100 بکتر بند گاڑیاں اور 5000 بلڈ پروف جیکٹس فراہم کئے جائیں گے۔ کراچی کے حساس علاقوں میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے پولیس، رینجرز اور ایف سی کی مشترکہ چیک پوسٹیں قائم کی جائیں گی۔ اس بات کا فیصلہ پیر کو صدارتی کیمپ آفس بلاول ہاؤس کراچی میں صدر مملکت کی زیرصدارت امن و امان کے اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس میں کراچی سمیت سندھ بھر میں امن و امان کی صورتحال، پولیس کو درپیش چیلنجز اور ان کے وسائل کو بڑھانے کے حوالے سے تفصیلی غور کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ، ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ وسیم احمد، آئی جی سندھ فیاض لغاری، ایڈیشنل آئی جی کراچی اقبال محمود، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اعلیٰ افسران شریک ہوئے۔ اجلاس میں وزیر اعلیٰ سندھ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران نے صدر مملکت کو کراچی سمیت سندھ بھر میں امن و امان کی مجموعی صورتحال پر بریفنگ دی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ کراچی سمیت سندھ بھر میں امن و امان کا قیام حکومت کی اولیں ترجیح ہے۔ انہوں نے کہاکہ کراچی میں کسی کو بھی امن خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور عوام کے تحفظ کے لئے حکومت تمام اقدامات بروئے کار لائے گی۔ صدر نے سندھ حکومت کو ہدایت کی کہ کراچی میں ٹارگٹ کلرز، بھتہ خوروں اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے جاری ٹارگیٹیڈ کاروائیوں میں مزید تیزی لائی جائے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کراچی کے تمام داخلی اور خارجی راستوں پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کمپیوٹرائزڈ چیک پوسٹیں قائم کی جائیں گی اور ان پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کئے جائیں گے۔ اجلاس میں پولیس کے وسائل کو بڑھانے کے لئے فیصلہ کیا گیا کہ سندھ پولیس کے بم ڈسپوزل اسکواڈ کو جدید آلات سے لیس کیا جائے گا اور ماسٹر ٹرینرز کی مدد سے بم ناکارہ بنانے والے اہلکاروں کو جدید خطوط پر تربیت دلوائی جائے گی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سندھ پولیس کو 100بکتر بند گاڑیاں اور 5000 بلڈ پروف جیکٹس اور کمیونیکشن کے مزید آلات فراہم کئے جائیں گے۔ اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ تمام حساس علاقوں میں پولیس، رینجرز اور ایف سی کی مشترکہ چیک پوسٹیں کے قیام کے علاوہ تینوں ادارے دہشتگردوں کے خلاف بھرپور ٹرگٹیڈ کاروائیاں کریں گے۔ کراچی کے حساس علاقوں میں مزید سی سی ٹی وی کیمرے نصب کئے جائیں گے اور ان کے نظام کومزید فعال بنایا جائے گا۔ اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ وفاقی و سندھ حکومت اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے درمیان رابطوں کے نظام کو مزید بہتر کیا جائے گا اور تمام علاقوں میں تینوں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے گشت میں اضافہ کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں صدر مملکت کو اسلحہ لائسنس اور کمیونیٹی پولیسنگ کے نظام پر بھی بریفنگ دی گئی۔ صدر نے ہدایت کی کہ تمام لائسنس یافتہ اسلحہ کو فوری طور پر کمپیوٹرائزڈ کیا جائے اور اس حوالے سے اگر نادرا کی ضرورت ہو تو ان سے بھی مدد لی جائے۔ صدر نے کہا کہ کراچی سمیت سندھ بھر میں کمیونیٹی پولیسنگ کے نظام کو بھی وسعت دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو اس وقت دہشتگردی اور انتہا پسندی جیسے چیلنجز کا سامنا ہے اور ملک سے دہشتگردی کے خاتمے کے لئے حکومت کے ساتھ سیاسی جماعتوں اور معاشرے کے ہر طبقہ کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہم متحد ہوکر ہی ملک سے دہشتگردی کا خاتمہ کرسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں  پری مون سون بارشوں کا سلسلہ آج ختم ہو جائے گا: محکمہ موسمیات

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker