تازہ ترینعلاقائی

سرکاری وسائل کے بے دریغ استعمال کے بجائے سا دگی اختیارکی جائے،چیف سیکریٹری سندھ

karachiکراچی(نامہ نگار)چیف سیکریٹری سندھ محمد اعجا ز چو ہدری نے تما م ایڈیشنل چیف سیکریٹریز کو ہدا یت کی ہے کہ وہ سر کا ری وسائل کو اما نت سمجھ کر ان کے بے دریغ اور غیر مجا ز استعما ل سے قطع نظر سا د گی اور کفایت شعا ر ی اختیا ر کریں پا بندی وقت کو اپنا شعار بنا ئیں اور قانو ن و قوا ئد اوضوا بط کی با لا دستی یقینی بنا ئیں ۔جمعرا ت کو سندھ سیکریٹریٹ میں محکمہ جا تی سر برا ہو ں پر مشتمل اجلا س کی صدارت کے دوران چیف سیکریٹری نے وا ضح کیا کہ عدا لتی احکا ما ت کے تحت جن افسرا ن کی نا جا ئز ترقی اور تقر ریو ں کی تنسیخ کی گئی ہے انہیں کیس کی نوعیت کے مطا بق فا رغ کر دیا جا ئے اور جن اصل ادارو ں میں انہیں قوا ئد و ضوا بط کے مطا بق وا پس بھیجا گیا ہے وہا ں انکی مراجعت کی رپورٹ (مع فراغت نا مہ کی با بت معلو ما ت )سا ت رو ز کے اندر پیش کی جا ئے ۔چیف سیکریٹری نے زوردیا کہ اگر بعض افسرا ن اب بھی کالعدم تقرریوں کی مرا عات حا صل کر رہے ہیں تو ان پر تو ہین عدا لت کا قا نو ن لا گو ہو تا ہے چنا چہ ہیڈ آف دی ڈیپا ر ٹمنٹس کو چاہیے کہ وہ خود بھی محتا ط رہیں اورعدا لتی احکا ما ت کی تعمیل یقینی بنا کر سات رو ز میں رپو رٹ پیش کر یں ۔اعجا ز چو ہدری نے کہا کہ وہ دفتری اوقات میں کسی بھی دن حاضری چیک کریں گے اورجو افسرا ن و ملا زمین غیر حا ضر پا ئے گئے یا تا خیر سے سفر پہنچیں گے ان کے خلا ف کا ر وا ئی کی جائے گی جبکہ اس روز انکی تنخوا ہ میں سے کٹو تی بھی کی جا ئے گی ۔چیف سیکریٹری نے کہا کہ او پی ایس (OPS)کلچر کی کو ئی گنجا ئش نہیں نا جائز تعینا تی پر کو ئی سمجھو تہ نہیں کیا سکتا ۔ہر انتظا می سیکریٹری کو چا ہئے کہ وہ اپنے منصب کی ذمہ دا ر ی برقر ار رکھیں اورغلط کو غلط کہنے کے وضح اختیا ر کریں ۔چیف سیکریٹری سندھ نے قا نو نی اور نظم و نسق کے معا ملا ت سے نمٹنے کے لئے ہر محکمے میں فو کل پر سن کا تقرر کیا جا ئے اور غیر قانو نی معاملات کے لئے سمریا ں ارسا ل نہ کی جائیں ۔اجلا س میں چیئر مین CMIETعبدالسبحا ن میمن ،چیئر مین اینٹی کر پشن شا ہزر شمعون ،ایڈیشنل چیف سیکرٹری عار ف احمد خا ن ،سیکر یٹری تعلیم فضل شا ہ پیچو ہو ،سیکریٹری سروسز آصف حید ر شا ہ اوردیگر سینئر افسرا ن نے بھی شر کت کی ۔

یہ بھی پڑھیں  اس حکومت کا رویہ بھی سابق حکومت جیسا ہے، چیف جسٹس

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker