علاقائی

کراچی:قتل ہونے والےعوامی نیشنل پارٹی کےعلاقائی عہدیدارزین العابدین کی نمازہ جنازہ ادا،مقدمہ درج

کراچی ﴿نامہ نگار﴾کراچی میں بدھ کو قتل ہونے والے عوامی نیشنل پارٹی کے علاقائی عہدیدار زین العابدین کی نمازہ جنازہ ادا کر دی گئی ،مقدمہ درج ،مشتعل افراد نے مزید2گاڑیوں اورایک موٹر سائیکل کو نذر آتش کر دیا ،شہر میں اہم تجارتی مراکز بند ،پبلک ٹرانسپورٹ نہ ہونے سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کر نا پڑا ، نجی اسکول بند رہے ،جامعات اور کالجز میں حاضری نہ ہونے کے برابر تھی۔تفصیلات کے مطابق کراچی میں بدھ کو قتل ہونے والے عوامی نیشنل پارٹی کے علاقائی عہدیدار زین العابدین کی نمازہ جنازہ جمعرات کو کراچی کے علاقے پٹیل پاڑہ فٹبال گرائونڈ میں ادا کر دی گئی ، نماز جنازہ میں اے این پی کے عہدیداروں اور کارکنوں کے علاوہ علاقے کے لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔نماز جنازہ کے موقع پر سیکیورٹی کے بھی سخت انتظامات کئے گئے تھے۔ زین العابدین کی تدفین خاموش کالونی قبرستان میں کی گی ۔جمعرات کو اے این پی کے عہدیدار کی تدفین سے قبل مشتعل افراد نے قائد آباد کے قریب گاڑی کو نذرآتش کردیا جب کہ گرومندر پر بھی مشتعل افراد نے ہنگامہ آرائی کے دوران ایک موٹر سائیکل اور ایک گاڑی کو آگ لگا دی۔دوسری جانب اے این پی کی جانب سے سوگ کے موقع پر جمعرات کو شہر کے اہم تجارتی مراکز صدر ،ایمپریس مارکیٹ ،زینب مارکیٹ ،کھارادر،میٹھادر ،بولٹن مارکیٹ ،جونا مارکیٹ،طارق روڈسمیت دیگر مقامات مکمل طور پر بند رہے ،شہر کی کشیدہ صورتحال کے باعث اور گاڑیوں کو جلائے جانے کے واقعات کے بعد کراچی ٹرانسپورٹ اتحاد نے گاڑیاں سڑکوں پر نہ لانے کا فیصلہ کیاجس کے باعث سڑکوں پر پبلک ٹرانسپورٹ نہ ہونے سے نجی و سرکاری دفاتر میں بھی حاضری معمول سے کم رہی ،شہر میں پیٹرول پمپس اور سی این جی اسٹیشنز بھی بند ہونے سے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ ہوا ۔واضح رہے کہ پرائیوٹ اسکولز مینجمنٹ نے جمعرات کو اسکول بند رکھنے کا اعلان کیا تھا ۔آل پاکستان پرائیویٹ مینجمنٹ ایسوسی ایشن کے چیئرمین خالد شاہ کے مطابق امتحانات کے بعد 70 فیصد سے زائد اسکولوں میں چھٹیاں ہیں جب کہ حکومت سندھ کی جانب سے سرکاری اسکول کھلنے رہنے کے اعلان کے باعث سائٹ، بنارس چوک، پٹیل پاڑہ، پہاڑ گنج سمیت متعدد علاقوں میں سرکاری اسکولوں پر تالے تھے، جن علاقوں میں اسکول کھلے تھے وہاں پر طالب علموں کی تعداد برائے نام تھی، جہاں طالب علم تھے وہاں اساتذہ نہیں تھے اور جہاں اساتذہ تھے وہاں طالب علم غائب تھے۔

یہ بھی پڑھیں  پارلیمنٹ کا گھیراؤ کرنے والوں کی خوب خاطرتواضع کریں گے، منظوروٹو

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker