پاکستان

کراچی:میری منظوري کے بغير دو رينٹل پاور پلانٹس لائے گئے،لیاقت جتوئی

کراچی(نامہ نگار)  سابق وفاقي وزير پاني و بجلي اور سندھ کے سابق وزيراعليٰ لياقت جتوئي کا کہنا ہے کہ جب وہ بجلي و پاني کے وزير تھے تب ان کي منظوري کے بغير دو رينٹل پاور پلانٹس لائے گئے۔ کراچي ميں اپني رہائشگاہ پر پريس کانفرنس کرتے ہوئے لياقت جتوئي کا کہنا تھا کہ ان پر رينٹل پاور پلانٹس کي مد ميں خورد برد کے بے بنياد اور جھوٹے الزامات لگائے گئے ہيں۔ ان کا کہنا تھا کہ جو دو رينٹل پاور پلانٹس لائے گئے اس سے ان کا کوئي تعلق نہيں۔ وہ وفاقي وزير پاني و بجلي ضرور تھے ليکن ان کي منظوري نہيں لي گئي۔۔ نہ ہي وہ کميٹيميں شامل تھے۔ سب کچھ پريزيڈنسي سے ہوا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ انکے دور وزارت ميں ملک ميں بجلي کا کوئي بحران نہيں تھا۔ انہوں نے بارہ انرجي منصوبے شروع کيے۔ جس ميں سے چار ان کے دور ميں کام کرنے لگے تھے۔ اور اگر يہ حکومت نہ ہوتي تو باقي منصوبے بھي شروع ہوجاتے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے انتہائي محنت اور جانفشاني سے کامکرکے نيشنل گرڈ مين سترہ سو ميگاواٹ بجلي شامل کي۔ لياقت جتوئي نے کہا کہ اگر سپريم کورٹ ميں يہ ثابت ہوجائے کہ انہوں نے وزارت  بجلي و پاني سے کسي بھي منصوبے کي مد ميں ايک روپيہ بھي کھايا ہے تو وہ سزا بھگتنے کےليے تيار ہيں اور ضمانت بھي نہيں کرائيں گے۔ ان کا کہناتھا کہ انہوں نے اين آر او سے کبھي فائدہ نہيں اٹھايا۔

یہ بھی پڑھیں  ڈاکٹرارسلان افتخار نے اپنا بیان سپریم کورٹ میں جمع کرا دیا

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker