بلال حیدر اعوانتازہ ترینکالم

کراچی اورکم ظرف حکمران

bilalشہر قائد جسے کبھی روشنیوں کا شہر بھی کہاجاتا تھا۔ آج اندھیروں کی آماجگاہ اور انسانی شکار گاہ بنا ہوا ہے۔ آج کراچی میں منظم طریقے سے قتل عام ہو رہا ہے اورحکمرانوں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں مست ہیں۔ پاکستانی عوام سیاستدانوں کے لئے کیڑے مکوڑوں کی طرح ہیں جب چاہا مسل دیا۔ کیا انسانیت اس قدر ارزاں بھی ہو سکتی ہے، سوچ کر ہی خوف آتاہے۔ جنازے اٹھتے جارہے ہیں، عورتیں بیوہ ہوتی جارہی ہیں اور بچے یتیم ہوتے جا رہے ہیں۔ کبھی بوری بند لاشیں ملتی ہیں تو کبھی انسانی چیتھڑے۔کبھی دھماکے ہوتے ہیں تو کبھی ٹارگٹ کلنگ۔ کبھی کسی سیاسی جماعت کے کارکن کو نشانہ بنایا جا رہا ہے تو کبھی کسی مذہبی جماعت کے کارکن کو۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی عالم کو شہید کیا جاتا ہے تو کراچی ہی کے کسی گوشے میں دس بیس لاشیں اور ملتی ہیں تاکہ عالم کے قتل کی خبر سے بڑی خبر دس بیس انسانوں کی بن جائے اور اس طرف سے توجہ ہٹ جائے۔ علماء کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ایک عالم کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے تو پھر ایسے ملک میں قہرِ خداوندی آتے ہیں نہ کہ انقلاب۔
جس قدر انسانی خون کراچی میں بہا ہے، بحرۂ عرب بھی سرخ ہو رہا ہوگا۔ مرنے والوں میں سنی بھی ہیں شیعہ بھی۔ پختون بھی ہیں ہزارہ بھی اور مہاجر بھی۔ ہربندہ رنگ ، نسل اور نظریہ میں مختلف ہے لیکن سب میں ایک بات مشترک ہے کہ وہ انسان ہیں۔ مرنے والوں کے لواحقین کہتے ہیں کہ حکومت سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ وہ مسائل پر توجہ نہیں دے رہی۔مجرموں کو گرفتار نہیں کرتی لیکن سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ مسئلہ عوام خود تیار کرتی ہے۔سنی شیعہ اختلاف کو صدیاں ہوگئیں ہیں لیکن اتنی گمبھیر صورتحال آج سے پہلے نہیں سنی۔ ہمارے عوام اس عالم یا ذاکر کا سننا زیادہ پسند کرتے ہیں جو علمی کم اور جذباتی تقریر زیادہ کرے۔ عوام میں تنقید کرنے کو خوبی رکھتی ہے لیکن تحقیق کرنے سے ان کا جی چراتا ہے۔ تنقید اس حد تک کی جاتی ہے کہ بعض اوقات واضح طور پر اصحابِ رسول اور اکابرینِ امت کی کردار کشی کر دی جاتی ہے اور جب تحقیق کی جاتی ہے تو اپنے نظریہ سے مطابقت رکھنے والی کتب یا اپنے ہی مسلک کی کتب سے استفادہ کر لیا جاتا ہے ۔ جب بات رنگ و نسل کی آتی ہے۔ تو کیا امتِ مسلمہ کو یہ یاد رکھنا چاہئے کہ جس نبیﷺ کے وہ نام لیوا ہیں انہوں نے رنگ و نسل کی تقسیم نہیں کی۔ آپﷺ کے لئے بہتر وہ تھا جو تقویٰ میں اچھا تھا۔ پاکستان میں اس وقت زوروشور سے نسلی بنیاد پر صوبوں کی تقسیم کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ اگر صوبوں کی تقسیم واقعی ضروری ہے تو نسلی بنیاد پر ہی کیوں؟
پاکستانی سیاست کا معیار اس قدر گر چکا ہے کہ ہر پارٹی اپنی مفادات کیلئے کام کرتی ہے۔ جہاں ان کے مفادات کو تقویت مل سکے وہاں ہاں میں ہاں ملاتیں ہیں اور جہاں ان کے مفادات کو نقصان پہنچتا ہے وہاں شوروغوغا کرتی ہیں۔ PPP,MQM اور ANP تینوں جماعتیں کراچی میں حکومت کر رہی ہیں لیکن انسانیت کے بدترین قتل پر خاموشی کیوں؟ کیا کراچی میں بہتی خون کی ندیاں بہتی نظر نہیں آرہیں۔ گزشتہ پانچ سالوں میں ان تینوں پارٹیوں نے عوام کے خون سے ہولی کھیلی۔ درندگی کی انتہا تو یہ ہے کہ دو موٹر سائیکل سوار دیدہ دلیری سے تین علماء کا قتل کر جاتے ہیں اور رحمان ملک کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔ ویسے رحمان ملک کو ہر دھماکے، ہر قتل کا علم پہلے سے ہوتا ہے یقیناً اس کا علم بھی پہلے سے ہوگا۔ MQM کے بارے میں صرف یہی کہ سکتا ہوں کہ انہیں ان کا من پسند انتخابی نشان ’’بوری‘‘ ملنا چاہئے۔ MQM کے بارے میں مزید بات کرنے سے پہلے مجھے اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر یہ سوچنا پڑا کہ مجھے اور جینا ہے یا نہیں۔ تو جواب ملا کہ مجھے تو جینا ہے اس لئے جو کہا واپس لیتا ہوں۔ مسلم لیگ ن کا گزشتہ دنوں ایک کارکن کراچی میں مارا گیا جس پر مسلم لیگ ن نے خوب احتجاج کیالیکن مسلم لیگ ن یہ بتا سکتی ہے کہ کیا آپ کے لئے صرف آپ کے کارکن ہی اہمیت رکھتے ہیں؟ پی ٹی آئی نے کوئٹہ میں ہونے والے سانحے پر حکومت سے شدید احتجاج کیا۔ اس بات پر عمران خان صاحب کو خراجِ تحسین پیش کرنا چاہئے۔ کیا لیکن کیا عمران خان کراچی کے ان لواحقین کو دلاسہ دے سکتے ہیں کہ جن کا پورا پورا خاندان ایک ہی دن لقمہ ء اجل بن گیا؟ یا پھر آپ کی سیا ست کا بھی ایک ہی اصول ہے ۔مفاد، مفاد اور صرف مفاد۔ مولانا فضل الرحمٰن ایک عالم ہیں لیکن بد قسمتی سے یہ کہنا پڑتا ہے کہ انہوں نے ایک عالم ہونے کا حق ادا نہیں کیا۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس بار کون حکومت بنائے گا؟ مولانا صاحب کا اڑن کھٹولہ تو ادھر ہی لینڈنگ کرے گا۔ انہیں کیا کہ کون کٹا اور کون مرا۔ جماعتِ اسلامیMMA میں رہ بھی کرپشن سے بچی رہی لیکن چند فیصلے ہر چیز پر پانی پھیر گئے جو انہیں آج تک بھگتنے پڑ رہے ہیں۔ لیکن انہوں نے کراچی تشدد، کوئٹہ سانحہ اور ڈرون اٹیک وغیرہ کی مذمت کی اور اسمبلی سے باہر رہ کر بھی کسی حد تک اپنا کردار ادا کیا۔ لیکن اب مذمت کرنے سے کام نہیں چلے گا۔
علما کرام اور ذاکرین کرام کومسائل کے حل کی طرف جانا چاہئے نہ کہ عوام کے جذبات کو بھڑکانا چاہیے۔ اپنی تقریروں اور کتب میں ایسے الفاظ استعمال نہیں کرنے چاہئیں جو کسی مذہبی شخصیت یا ایمان کے کسی جزو کی کردار کشی کرے۔میڈیا والوں کو خبر دیتے وقت خبر کی نوک پلک پر دھیان رکھنا چاہیے کہ کہیں یہ خبر کسی مسلک کی ہتک تو نہیں کر رہی یا انہیں احساسِ کمتری کا شکار تو نہیں بنا رہی کیونکہ بہرحال مذہب ایک انتہائی حساس پہلو ہے۔ صدر زرداری سے استدعا ہے کہ جو دن آپ پاکستان کا کرکٹ میچ دیکھنے کسی دوسرے ملک جاتے ہیں اگر وہی ایک دن اس گمبھیر مسئلے کو حل کرنے کے لئے وقف کردیں تو امید ہے کہ یہ مسئلہ ایک دن میں حل ہو سکتا ہے۔ گزشتہ دنوں جب طاہر القادری صاحب نے اسلام آباد پر قبضہ کیا ہوا تھا اوربھارت کی طرف سے سرحد پرمسلسل گولہ باری کی جارہی تھی تو زرداری صاحب کراچی میں مقیم تھے کیونکہ انہیں ان کے پیر نے کہا تھا کراچی سے باہر نہ جانا تمہاری جان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔ PPP کی لیڈر شپ کو سلام ہے کہ دالحکومت کے اردگرد خطرات کے بادل منڈلا رہے تھے اور زرداری صاحب دقیانوسی سوچ لئے کراچی میں مسند افروز تھے اور تو اور عمران خان صاحب نے اس پر زرداری صاحب کو تنقید کا نشانہ نہیں بنایا اگر یہ کام مسلم لیگ ن نے کیا ہوتا تو PTI تو کی ہاؤ ہو دیدنی ہوتی۔ زرداری صاحب اگر اور کچھ نہیں کر سکتے تو کم از کم کراچی کے ہر انسان کو ایک عدد پیر دلا دیں جو انہیں یہ بتا سکے کہ کراچی کے فلاں حصے میں مت جانا تمہاری جان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔ زرداری صاحب اگرچہ آپ ملک چلانے کے اہل نہیں ہیں اور یہ ہماری بد قسمتی ہے کہ آپ ہم پر مسلط ہو گئے لیکن ملکی پھر بھی بادل ناخواستہ استدعا ہے کہ حالات پر توجہ دیں بالخصوص کراچی پر۔ ورنہ مرنا تو آپ نے بھی ہے اپنے رب کو کیا جواب دیں گے۔ وہاں آپ کا آقا امریکہ آپ کے لئے کچھ نہیں کر سکے گا۔

یہ بھی پڑھیں  شرم تم کو مگر نہیں آتی!!

note

یہ بھی پڑھیے :

One Comment

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker