تازہ ترینعلاقائی

کراچی شہرکی تاریخ پوری قوم کے لیے قیمتی سرمایہ ہے، کشور زہرہ

کراچی﴿نامہ نگار﴾ممبر قومی اسمبلی کشور زہرہ نے کہا ہے کہ کراچی شہر کی تاریخ پوری قوم کے لیے قیمتی سرمایہ ہے اور ہم سب کا یہ فرض ہے کہ اس قیمتی سرمائے کی حفاظت کریں اس فرض کی ادائیگی میں جو افراد اور ادارے شامل ہیں وہ سب مبارکباد کے حقدار ہیں کہ وہ اپنے اس عمل سے شہر کی تاریخ کو محفوظ بنارہے ہیںشہر کی تاریخ جاننے کے حوالے سے یہاں آنے والوں کی دعوت فکر دی گئی ہے ہمیں چاہئے کہ اس فکر کو آگے بڑھاتے ہوئے لوگوں میں اس بات کا شعور پیدا کریں کہ وہ اپنی تاریخی عمارتوں اور ورثے کی حفاظت کریں کراچی کے قدیم ورثے اور تاریخ کی حفاظت کے لیے جوکام کیا جارہا ہے وہ ناصرف کراچی بلکہ پاکستان اور دنیا کے لئے بھی اہم ہے آنے والی نسلیں اس کام سے استعفادہ کرسکیں گی ان خیالات اظہار انہوں نے منگل کی دوپہر کو کے ایم سی بلڈنگ میں واقع آرکائیواینڈ ریسرچ ونگ کے دورے کے موقع پر کیا خواتین کے وفد میں سابق کونسلر سمیت سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والی خواتین شامل تھیں اس موقع پر کنسلٹنٹس شکیل احمداور حسن امام صدیقی نے کراچی کے حوالے سے ’’مچھیروں کی بستی سے میگا سٹی تک ارتقائی سفر‘‘کے حوالے سے وفد کو پر وجیکٹر کے ذریعے تفصیلی بریفنگ بھی دی آرکائیوڈپیارنمنٹ کے ڈائریکٹر عدنان قریشی اور ڈائریکٹرکونسل غفران احمد بھی اس موقع پر موجود تھے ممبر قومی اسمبلی کشور زہرہ نے آرکائیوڈپیارنمنٹ میں ہونے والے کاموں کو سراہتے ہوئے کہا کہ کے ایم سی بلڈنگ سے ملنے والے قدیم نقشہ جات اور دستاویزات وہ قیمتی خزانہ ہے جس سے معلوم ہوسکتا ہے کہ کراچی نے کس طرح مرحلہ وار ترقی کی کنسلٹنسٹ شکیل احمد خان نے وفد سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شہر کا ارتقائی عمل عمارتوں سے دیکھا جاسکتا ہے مگر اس عمل میں رہنے والوں کے رویے اور امتزاج بھی شامل ہیں جس طرح عمارتوں کو خوبصورت بنانے کے لیے رنگ وروغن کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح ہمیں بھی اپنے رویوں اور مزاج کوبار بار پر کھنے کی ضرورت ہوتی ہے کہ کہیں ہمارے رویے دوسرے کے لیے تکلیف دہ تو نہیں انہوں بتایا کہ 1933ئ سے پہلے کے دور میں کے ایم سی کا سربراہ میونسپلٹی کا صدر ہوتا تھا جبکہ 1933ئ کے بعد میئر کے ایم سی کا سربراہ ہوتا ہے انہوں نے مزید بتایا کہ کراچی میونسپل ایکٹ کے رائج ہوتے ہی میونسپلٹی کا درجہ بڑھ کر میونسپل کار پوریشن ہوگیا کراچی کے پہلے میئر جمشید نصروان جی جبکہ آزادی کے بعد کراچی کے پہلے میئر حکیم احسن بنے کنسلٹنسٹ حسن امام صدیقی نے بتایا کہ کراچی کی سابق نائب ناظمہ نسرین جلیل نے شہر کے اس تاریخی ورثے کو محفوظ بنانے کے لیے عملی جدوجہد کی تھی جس میں ہیرٹیج فاؤنڈیشن نے نمایاں خدمات انجام دیں انہوں نے کہا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کے ایڈمنسٹر محمد حسین سید کی خصوصی دلچسپی توجہ اور رہنمائی میں آرکائیوڈ پیارٹمنٹ میںکراچی کے حوالے سے تاریخی دستاویزات نقشہ جات اور کاغذات کو محفوظ بنانے کا عمل جاری ہے اس موقع پر وفد نے سٹی ہال کا بھی دورہ کیا۔#

یہ بھی پڑھیں  حکومت خواتین کے تحفظ اور خوشحالی کیلئے ہرممکن اقدام کرے گی، وزیراعظم

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker