تازہ ترینسیّد ظفر علی شاہ ساغرؔکالم

کراچی میں اَمن آج بھی دیوانےکاخواب

zafarکراچی میں کیاہورہاہے اور کیوں ہورہاہے،کیاکراچی کے حالات میں بہتری آپائے گی ، کیا یہاںپہلے جیسا اَمن قائم ہوسکے گا ،سیاسی جماعتوں کا کراچی کے حالات کی خرابی میں کتناہاتھ رہارہے اور اب سُدھارنے میں ان کا کردار کیاہوگا،کیاسیاسی جماعتیںقیام ِاَمن میں مخلص نظرآرہی ہیں ،کراچی میں حالات کی خرابی کے ذمہ داروں کے ساتھ اِنصاف کیا جاسکے گایا ماضی کی طرح سیاسی مصلحتوںسے کام لیاجائے گا،کیاکراچی میںجاری اَپریشن درست سمت جارہاہے،یہ ایسے جواب طلب سوالات ہیں جن کے بغیر کراچی میں قیامِ اَمن کا تصورکیاجاسکتاہے نہ ہی ایساکوئی خواب شرمندہ تعبیرہوسکتاہے ۔شہرِقا ئد کراچی نہ صرف آبادی کے لحاظ سے بڑاشہربلکہ ملک کا بڑامعاشی حب بھی ہے ۔ یہ خوبصورت شہرکتنا بڑا سینہ رکھتاہے اور اس کی فراخدلی کتنی وسعت رکھتی ہے اس کا اندازہ اس بات سے باآسانی لگایا جا سکتاہے کہ اس شہر نے کروڑوں پاکستانیوںکواپنے سینے میں جگہ دے رکھی ہے جو ہیں تواس ملک کے شہری لیکن الگ الگ بولی بولنے والے ذات پات اور مسلک وعقیدہ کے اعتبار سے ایک دوسرے سے مختلف۔۔ کر اچی کو شہرِقائد کے بعدشہرِ مزدورکہا جا ئے تو غلط نہیں ہوگا کیونکہ ملک کے طول وعرض میں ایساکوئی علاقہ ،وادی،گائوں محلہ اور چھوٹابڑا شہر نہیں جس سے تعلق رکھتے باسی پیٹ کی آگ بجھانے اور اپنے بہتر مستقبل کی تلاش میںمحنت مزدوری کے لئے اس شہر کا رخ نہیں کرتے۔ ا گرچہ اس وقت جاری اپریشن سے حالات میں بہتری اور یہاں ہونے والی قتل وغارت گری اور سٹریٹ کرائمز میں بڑی حد تک کمی واقع ہوتی نظرآگئی ہے جس کی نشاندہی ملک کاپرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کررہاہے ۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے مزیدبہتری کی امید بھی کی جاسکتی ہے تاہم رواں صورتحال اور سالوں سے نظرآتے حالات کے تناظرمیں اس حقیقت کو رد کیاجاسکتاہے کہ ملک کے ماتھے کاجھومرکراچی جل رہاہے اور جلتاآیاہے نہ ہی اس معاملے میں ریاستی اور سیاسی وانتظامی اداروں کی غفلت ولاپرواہی کونظانداز کیا جاسکتاہے۔اگرچہ کراچی میںکئی بارآپریشن ہوتے نظر آئے چاہے ذکرہووزیراعظم شہید بے نظیربھٹواور وزیرداخلہ نصراللہ خان بابر مرحوم کے دور میں پیپلزپارٹی کی سابق حکومت کے آپریشن کا۔۔جس کے مثبت نتائج فی الوقت بر آمد ضرور ہوگئے تھے لیکن کچھ عرصہ بعد حالات دوبارہ خرابی کے ڈگر پر چل پڑے تھے۔یاتذکرہ ہوسابق فوجی امرجنرل﴿ر﴾پرویزمشرف یاپھر2008میں پیپلزپارٹی کی بننے والی حکومت کی جانب سے اَپریشنز کی بازگشت کاجو بعد میں سیاسی جماعتوں کے بنتے ٹوٹتے اتحاداور راضی و ناراضگی جیسے مصلحتوں کے شکارہونے کے باعث نتیجہ خیزثابت نہیں ہوسکے۔کراچی بداَمنی کے معاملے کا سپریم کورٹ آف پاکستان بھی نوٹس لے چکی ہے اوراس حوالے سے چیف جسٹس افتخارمحمدچوہدری کئی دفعہ ریاستی اور انتظامی اداروں سمیت سیاسی جماعتوں کی کارکردگی پرشدیدبرہم بھی نظرآئے ہیں۔تاہم اب جبکہ کراچی میں جرائم پیشہ عناصرکے خلاف آپریشن شروع کیاگیاہے تو اسے پایہئ تکمیل تک پہنچانے اور کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لئے ناگزیرہے کہ بلاامتیازاور بے رحم کارروائی ہواور ان عناصرکے ساتھ کسی قسم کی کوئی بھی رعایت نہ ہوجوماضی میں جرائم پیشہ سرگرمیوں میں ملوث رہے ہوں یارواں حالات میںان کے ہاتھ رنگے ہوںکراچی کے امن وسکون کی بربادی میں۔ ماضی بعید ہوکہ ماضی قریب سیاسی جماعتیں ہویاریاستی اور انتظامی ادارے جو کوئی بھی غفلت و لاپرواہی اور فرائض کی انجام دہی میں کوتاہی کامرتکب ٹہراہے اِن پر ہاتھ ڈالے اور اِن کا کڑااحتساب کئے بغیر آگے بڑھناوقت کے ضیاع کے سوائ کچھ نہیں ہوگا کیونکہ جو لوگ کراچی میں قیام ِاَمن کے لئے ماضی میں مخلص رہے اُن کی اب بھی خواہش ہوگی کہ یہاں اَمن قائم ہولیکن یہاں اَمن کی تباہی اور عوام کوعدم تحفظ سے دوچارکرنے والے کبھی نہیں چاہیںگے کہ اَمن قائم ہو اور کراچی کے مکین سکھ کا سانس لیں۔المیہ یہ بھی ہے کہ ماضی کے دریچوںمیں جھانکاجائے تو کراچی میں جب بھی حالات خراب ہوئے متحدہ قومی موومنٹ حکومت وقت کوذمہ دار ٹہراکر بدانتظامی اور حکومتی کارکردگی پرشدیدتنقیداورآپریشن کا مطالبہ کرتی نظرآئی لیکن جب بھی حکومت کی جانب سے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف آپریشن شروع کیاگیا متحدہ قومی موومنٹ واویلا کرتی دکھائی دی کہ آپریشن اُن کے خلاف کیاجارہاہے۔رواں اَپریشن میں ایم کیوایم کے قائد الطاف حسین کی حالیہ ہرزہ سرائی اس کی واضح مثال ہے جس میں وہ سنائی دیئے کہ یہ اَپریشن اُن کے خلاف ہورہاہے اور اُن کی جماعت کے کارکنان کو چن چن کر گرفتار کیاجارہاہے۔ وہ تو مذہبی سیاسی جماعت، جماعت اسلامی اور اس کی ذیلی تنظیم اسلامی جمعیت طلبہ کے خلاف بھی بول اٹھے اور نہ صرف جماعت اسلامی اور اسلامی جمعیت طلبہ کے کارکنان پر دہشت گردی میں ملوث ہونے کاالزام لگایابلکہ الزام یہ بھی عائد کیا اُن کے کارکنوں کوقانون نافذکرنے والے ادارے پکڑتے بھی نہیں اور اگر کوئی ادارہ ان کا کارکن پکڑبھی لے تو اسے رہاکردیاجاتاہے۔الطاف حسین کی جانب سے لگائے گئے ایسے الزامات پر جماعت اسلامی اور اسلامی جمعیت طلبہ کی جانب سے بھی سخت ردعمل سامنے آیا۔ادھر وفاقی حکومت اور سندھ کی صوبائی حکومت کراچی اَپریشن سے مطمئن نظرآرہی ہے پچھلے دنوں وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کا کہنایہ تھا کہ وہ کراچی میں ہونے والے آپریشن سے مطمئن ہیں انہوںنے پولیس اور رینجر
زکی کارکردگی کو بھی اطمینان بخش قرار دیتے ہوئے کہاکہ اَپریشن کی غیر شفافیت کے حوالے سے گفتگوکرنے والوںکے پاس اگرکوئی ثبوت ہو تو ان سے رابطہ کریں۔سیاسی امور کے ماہرین کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ کا یہ بیان درحقیقت ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کی جانب سے لگائے گئے الزامات کاجواب تھاوزیراعلیٰ یہ بھی کہتے سنائی دیئے کہ حکومت کے پاس جادوکی کوئی چھڑی نہیں کراچی میں مکمل اَمن قائم کرنے میں وقت لگے گا۔ دوسری جانب کراچی میں جاری اَپریشن کے حوالے سے کراچی پولیس چیف شاہد حیات کا کہنایہ ہے کہ اَپریشن درست سمت میں جارہاہے اور اس کے بہتر نتائج برآمد ہوناشروع ہوگئے ہیںتاہم ابھی اَپریشن شروع ہوئے محض تین ماہ کامختصرعرصہ ہواہے جبکہ اسے نتیجہ خیزبنانے کے لئے مزید وقت درکار ہوگا ۔ ایک نجی ٹی وی سے گفتگوکرتے ہوئے پولیس چیف نے کہاکہ سیاسی جماعتوں کو چاہیئے کہ جرائم میں ملوث کارکنوں کوقانون نافذکرنے والوں کے حوالے کریں لیکن وہ مطلوب ملزمان کو حوالہ نہیںکررہی ہیں۔اگرچہ اَپریشن کی کامیابی کے لئے مزید کتناوقت درکارہوگا اس کا تعین،وفاقی حکومت نے کیاہے نہ وزیراعلیٰ سندھ نے اور نہ ہی کراچی پولیس چیف نے مگر اس ضمن میں یہ کہنا کہ مکمل کامیابی تک یہ اَپریشن جاری رہے گا زیادہ مناسب ہوگا بہرحال ذکر ہورہاہے کراچی میں قیام اَمن کا تو وہاں جلد اَمن قائم ہو اور دیرپا بھی ہویہ ملک بھر کے شہریوںکی خواہش ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی جماعتیں ذاتی اور جماعتی مفادات کوبالائے طاق رکھتے ہوئے اَپریشن کو کامیابی سے ہمکنارکرنے،جرائم پیشہ عناصر کی مکمل سرکوبی اور قیائم اَمن کو یقینی بنانے کے لئے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مکمل تعاون کریں بصورت دیگر کراچی میں اَمن قائم ہو یہ محض دیوانے کاخواب ہی ثابت ہوگا۔۔

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button