تازہ ترینعلاقائی

شباب ملّی کراچی کےتحت کل کراچی ورکرزکنونشن 2 فروری کوہوگا

karachiکراچی (نامہ نگار) شباب ملّی کراچی کے جنرل سیکرٹری عثمان فاروق نے کراچی میں ٹارگٹ کلنگ اور بم دھماکے کے نتیجے میں درجن بھر سے زائد ہلاکتوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک روز میں 12 سے زائد انسانی جانوں کا تشویشناک ہے ۔ موجودہ حکومت کے دور اقتدار میں کراچی کو لاوارث چھوڑ دیا گیا حکومت اور اتحادیوں نے کراچی میں قتل و غارت گری اور غنڈہ گردی کا کوئی حل نہیں نکالا موجودہ دور حکومت بد امنی اور قتل و غارت گری کے حوالے سے یاد رکھا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ وزیر داخلہ رحمن ملک نے یکم فروری سے کراچی میں جس جنگ کا عندیہ دیا تھا اس بیان نے شہر کراچی کے لوگوں کو خوف میں مبتلا کر دیا ہے۔ ایک روز میں 12 سے زائد افراد کی ہلاکت پر پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی بے بسی کی تصویر بنے ہوئے ہیں ۔انھوں نے کہا کہ وزیر داخلہ کو دہشت گردوں کی آمد کی پیشگی اطلاع تو مل جاتی ہے مگر دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کو ناکام بنانے کیلئے کوئی قابل ذکر کوشش نظر نہیں آتی ۔ کراچی میں ٹارگٹ کلرز کو فری ہینڈ حاصل ہے کہ وہ معصوم انسانی جانوں کو بے دریغ قتل کردیں ۔ عثمان فاروق نے کہا کہ کراچی میں دہشت گردوں سے نمٹنے کیلئے ٹھوس پالیسی بنائے بغیر قتل و غارت گری کی روک تھام ممکن نہیں ۔ کراچی کو قتل و غارت گری کے چنگل سے نکالنے کیلئے حکومت کو دباؤ میں آئے بغیر اہم فیصلے کرنا ہوں گے ۔ کراچی میں دہشت گردوں کیخلاف بلا امتیاز کاروائی کے بغیر امن قائم نہیں ہو سکتا ۔ انھوں نے مزید کہا کہ وزیر داخلہ رحمن ملک اپنے بیانات سے عوام کو خوف میں مبتلا کرنے کی بجائے عملی اقدامات کرکے کراچی کو مقتل گاہ بننے سے بچائیں

یہ بھی پڑھیں  بھارتی اداکار اوم پوری 9 جنوری کو کراچی آئیں گے

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker