تازہ ترینحکیم کرامت علیکالم

حقیقی تعلیم

اللہ تعالیٰ نے پیارے پیغمبر پر پہلی وحی جو نازل فرمائی اس کا پہلا ،اقرائ، ہے یعنی پڑھ ۔اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے ہی علم حاصل کرنے کا حکم دیا ۔اس سے تعلیم کی اہمیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اللہ کے نذدیک تعلیم کی کتنی بڑی اہمیت ہے ۔ابتدائے نبوت میں ہی اللہ تعالیٰ نے پیغمبرنے کا حکم فرمایا ۔اور پڑھیا کیا ؟ سب سے پہلے اپنی پہچان کروائی کہ اس پوری کائنات کا خالق و مالک صرف ایک ہی ہے ۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے انسان کے متعلق بیان فرمایا کہ انسان کو جمے ہوئے خون سے پیدا کیا یعنی انسان کی تخلیق کے بارے میں علم عطا فرمایا ۔اس کے بعد نبی نے علم کی اہمیت پر بہت زیادہ زور دیا ۔تعلیم حاصل کرنے کے لیے باقاعدہ ادارے قائم فرمائے ۔آخر کیوں ؟ اس لیے کہ علم انسانیت کا خوبصورت لباس اور اس کا حسین زیور ہے علم ایک ایسی روشنی ہے جو دلوں کو پاکیزگی عطا کرتی ہے ۔علم انسانوں ذہنوں کو جلا بخشتا ہے ۔کردار کو نفاست دیتا ہے ۔اخلاق کو پاکی کی دولت سے نوازتا ہے۔بگڑئے انسانوں کو روشن راہیں عنائت کرتا ہے ۔بھٹکے ہوئے لوگوں کو عظمتوں سے ہمکنار کرتا ہے ۔علم ایک روشنی ایک ۔ایک ضیائ ہے ایک انمول خزانہ ہے ۔اس انمول خزانے کو بخشنے والے معلمِ انسانیت انسانیت کے سب سے بڑے محسن ہیں دوسرے الفاظ میں معلم انسانیت ہی محسنِ انسانیت ہے ۔انسانیت پر سب سے نرالہ احسان یہ ہے کہ آپ نے انسانیت کو علم جیسی دولت سے مالا مال کر دیا تاکہ لوگ اندھیروں سے نکل کر روشنیوں کے جہاں سے مستفید ہو ۔آپ نے بھٹکی ہوئی انسانیت کو اس لازوال دولت سے روشناس کروایا ۔آپ نے چھوٹوں پر شفقت اور بڑوں کی عزت کا درس دیا ۔مگر افسوس کہ آج کا طالب علم اس ارشاد مبارکہ کو صرف امتحان کی حد تک یاد کرتا ہے ۔حقیقی زندگی میں اپناتا نہیں ۔ ہم رسم ورواج کے دلدادہ ہیں والد بیما ر ہے اس کی چار پائی گھر کے ایک کونے میں پڑی ہوئی ہے ۔اسے ایک مصیبت سمجھا جاتا ہے کھانے پینے علاج معالجہ کی شاید ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی جب وہ چیختا چلاتا ہے بھوک یا پیاس سے تو گھر کا کوئی فرد یا نوکر اس پر احسانِ عظیم کرتے ہوئے کھانا یا پانی دے جاتے ہیں ۔اس قوت اس کے دل پر کیا گزرتی ہو گی کہ جس کی وجہ سے تو آج اس مقام پر پہنچا آج اس کے لیے کیا کر رہا ہے اسے ایک مصیبت سمجھ رہا ہے ۔جب وہ دنیا کے دکھ دل میں سمیٹے اس جہاں فانی سے رخصت ہو جاتا ہے ۔تو پھر کیا ہے ۔اس کا وہی بیٹا اپنے والد کے ایصال ثواب کے لیے برسی کا اہتمام کرتا ہے ۔کھانا تیار کرواتا ہے دیگیں پکواتا ہے ۔اپنے دوستوں کو بلاتا ہے ۔جو اسی کے ہم پلہ ہیں ۔اس محفل نما برسی میں غریبوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ۔کھانا کھایا جاتا ہے ۔خوب گپیں لگائی جاتیں ہیں ۔کس موقع پر والد کی برسی پر ۔جب وہ زندہ تھا ۔اس کی خدمت کرنا گوارا نہ تھا ۔مگر اس کا حوصلہ دیکھوں مر کر بھی تمہیں ایک مل بیٹھنے اور عیش و عشرت کے چند لمحات گزارنے کا موقع دے گیا ۔کیونکہ وہ باپ تھا ۔وہ حکم ِ پاک کہا گیا کیا یہ تعلیم کا مقصد ہے ۔کیا یہ آج کا متعلم ہے ۔نبی نے اسے زندگی کی راہوں پر چلنے کے انداز سکھائے جوآج ہم بھول گے کہ آپ کی ساری حیات مبارکہ ہمارے لیے ایک نمونہ ہے ۔کیا ہم نے کبھی سوچا کہ ہم اس معاشرے میں کس کی تقلید کر رہے ہیں ۔کیا ہمارا رہنا سہنا ہماری موجودہ تہذیب و تمدن اسلامی ہے ۔کیا ہم ان راہوں پر چلے جن کا درس ہمیں معلمِ کائنات محسن انسانیت نے دیا ۔اگر ہم نے وہی راہ اپنائی ہے تو ہم واقع ہی ایک متعلم ہیں ۔اگر ہم نے معلم کائنات کی دی ہوئی تعلیم کو اپنایا ۔تو کامیابی ہماری منزل ہے ۔اگر ہم نے اسلامی تعلیمات کو محض امتحان تک اور ڈگری حاصل کرنے تک محدود رکھا اور اپنی زندگی کو تقلیدِ غیر میں گزاری تو پھر دنیا کی عیش تو ہے مگر آخرت میں ذلت مقدر بن جائے گی ۔
تعلیماتِ نبوی سے ہمیں روزی کمانے کے اسباب کا پتہ چلا وہ اسباب اپنا تو لیے مگر بعد میں ان کے تقاضے بھول کر ناجائز ذرائع کے متلاشی ہو گئے۔دنیاوی حس بڑھنی شروع ہوگی اور ہم نے نت نئے اور ناجائز ذرائع اور زیادہ تلاش کرنے شروع کر دیے ۔ اپنی اصلی تعلیم اور مقاصد تعلیم کو بھول گئے ۔یہ نہ سوچا کہ آج ہم جس اولاد کے لیے دوسروں کی حق تلفی کر رہے ہیں ۔ظلم کے ساتھ کمائی ہوئی روزی اپنے بچوں کو کھلا رہے ہیں ۔جب یہ حرام کی کمائی سے خریدی گئی خوراک ان کے وجود میں خون بن کر دوڑئے گی تو کیا گل کھلائے گی ۔کیا وہ اس کی ذندگی میں اس کی تابعدار اور خدمت گزار بنے گی ۔ نہیں ایسا ناممکن ہے ۔کیونکہ اس کی رگوں میں دوڑنے والا خون ہی حرام ہے ۔اس کی وفات کے بعد کیا ایسی اولاد باپ کی قبر پر دعا مغفرت کرے گی ۔اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری اولاد ہماری تابعدار اور فرما بردار رہے تو پھر ہمیں دوسری تربیت کے ساتھ ساتھااکلِ حلال کا سوچنا ہو گا اور حرام کو ختم کرنا ہو گا ۔مقاصدِ تعلیم کو یاد بھی رکھنا ہو گا اور اس پر عمل پیرا بھی ہونا ہو گا اسلامی تعلیمات ہی کی بدولت ہمیں حلال و حرام کی تمیز کا شعور ملا ۔اسے اندھیروں سے نکال کر روشنی کے دکھائے انسان کو کامیابی کے راز بتائے۔انسان کو عظمتوں پر فائز ہونے کے ڈھنگ سے روشناس کروایا ۔اسے زندگی گزارنے کے مثبت اور کامیاب طریقے بتلائے انسان کو اخلاق و کردار کی بلندیوں پر پہنچنے کے وسیلے سمجھائے۔
حضور نبی کریم کی ذاتِ اقدس کو جس جہت سے دیکھیں جس حثیت سے دیکھیں اس مقدس رسول کی حیاتِ طیبہ کا مطالعہ کریں تو یہ ہر قدم ہر جانب سے مشعلِ راہ ہے۔اور ہم پر یہ فرض ہے کہ ہم اپنی زندگیوں کو اسلامی تعلیمات کے مطابق گزار کر اپنی دنیا اور آخرت کو کامیاب بنا لیں ۔ انگریزی تقلید کو چھوڑ دیں ۔اپنے حقیقی مقاصد کو یاد رکھیں ۔اللہ عمل کی توفیق عطا فرمائے۔آمین

یہ بھی پڑھیں  بھارت اپنی حد سے تجاوز نہ کرے ورنہ منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے گا،عقیل خان

یہ بھی پڑھیے :

One Comment

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker