شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / منصف کے فرائض

منصف کے فرائض

آخر جج کا فر ض کیا ہے۔اس کا یہ فرض ہر گز نہیں کہ وہ انصاف کو تحفے کے طور پر اپنی مرضی کے مطابق  سیم کرے۔ جج کا کام حق کے مطابق فیصلہ دینا ہے۔اس نے حلف اٹھایا ہے کہ وہ اپنی پسند ناپسندکے مطابق نہیں بلکہ قانون کے مطابق انصاف کریگا۔ یہ الفاظ یونان کے عظیم فلسفی اور دانشور حکیم سقراط کے ہیں ۔جو اس نے  یک ملزم کی حثیت سے ایتھنز کی عدالت میں ادا کئے۔ سقراط پر الزام تھا کہ وہ نوجوانوں کو بگاڑ رہا ہے۔سقراط کہتا تھا کہ نیکی علم ہے۔جبکہ اس کے مخالفین کا موقف تھا کہ آباواجداد کی روایات پر عمل کرنا نیکی ہے۔یہ وہ دور تھاجب ایتھنز کی حکومت پر جاگیرداروں کا غلبہ تھا۔سقراط کہتا تھا کہ کاروبار حکومت میں صرف جاگیرداروں کو نہیں بلکہ اہل علم کو بھی شامل کرناچاہیے۔ اس نے انصاف کے نئے معیار مقرر کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ جسں کے بعد عدالتوں کا جج بھی سقراط کو ناپسند کرنے لگے ۔شاید اسی جیے کٹہرے میں کھڑے سقراط نے اپنے عدالتی بیان میں کہاتھا کہ میں مجرم نہیںہوں لیکن چونکہ حکومتی لوگ مجھ سے ناراض ہیں۔اس لیے ان کی ناراضگی مجھے مجرم قراردیدے گی۔ سقراط کے خلاف مقدمے کی سماعت کرنے والی عدالت کے ارکان کی تعداد ۱۰۵ تھی۔ سقراط کے دلائل نے عدالت کے بہت سے ارکان کو متاثر کیا۔لیکن حکومت سقراط کو اپنی تو ہین کا ذمہ دار سمجھتی تھی۔ انصاف کی بجائے ذاتی عناد کا جذبہ بدتر تھا۔ لٰہذا عدالت کے ۱۸۲ ارکان نے سقراط کو مجرم قرار دینے کے بعد عدالت نے اسے کہا کہ وہ اپنے لیے سزا بھی تجویز کرے۔ اس موقعہ پر سقراط نے عدالت سے کہا کہ میں نے کبھی کسی کو آزار نہیں پہنچایا ۔میں نے کبھی کسی کے ساتھ نا انصافی نہیں کی پھر میں اپنے ساتھ کیسے نا انصافی کر سکتا ہوں؟ میں خود کو مجرم نہیں سمجھتا تو اپنے خلاف سزا کیسے تجویز کروں ؟یقین ہے کہ میں جہاں
بھی جاوں گا نوجوان میرے گرد اکھٹے ہو جایئں گے۔اگر میں انہیں اپنے سے دور کروں گا تو وہ مجھے اپنے شہر سے نکال دیں گے اور اگر میں انہیں نہ ہٹاوں گا تو ان کے والدین اور حاکم مجھے شہر بدر کر دیں گے۔یہ ہو سکتا ہے کہ کچھ جج حضرات کہیں کہ سقراط تم یہاں سے مت جاو۔بس خاموشی کی زندگی گزارو لیکن یہ میرے لیے مشکل ہے۔ایک آدمی کی زندگی کا سب سے بڑا مقصد یہ ہے کہ خود نیکی پر قائم رہے اور دوسروں کو نیکی کی ہدایت کرے۔میرے لیے تحقیق اور تجسس کے بغیر زندہ رہنا دوبھر ہے ایسی زندگی جینے کے قابل نہ ہو گی۔
سقراط کا بیان ختم ہوا تو جج ملی ٹس نے سقراط کے لیے سزائے موت تجویز کی۔عدالت کے ارکان کی اکثریت نے سزائے موت کی تو ثیق کر دی۔سزائے موت کا فیصلہ سننے کے بعد سقراط نت کہا۔میرے لیے موت سے بچنا اہم نہیں۔بلکہ بے ایمانی سے بچنا زیادہ اہم ہے۔ بے ایمانی موت سے زیادہ خطر ناک ہے۔مجھے آپ نے سزائے موت دی ہے اور جنہوں نے مجھ پر مقدمہ قائم کیا ہے انہیں ذلالت کی سزا ملی ہے۔میں اپنی بے گناہی کی سزا بھگتوں گا اور وہ اپنی جزائ کو پہنچیں گے۔ عدالت میں بیٹھے ہوئے ۱۰۵ جج سقراط کے سامنے بونے لگ رہے تھے ۔کیو نکہ یہ عدالت سچائی اور انصاف سے محروم تھی ۔آخر میں سقراط نے ججوں کے بارے میں کہا کہ میں آنے والی موت کے سائے میں پیش گوئی کرتا ہوں کہ تم پر عذاب نازل ہو گا جو میرے قتل سے زیادہ  کربناک ہو گا۔تم نے میرے ساتھ یہ سب اس لیے کیا تاکہ تم مواخزے اور احتساب سے بچے رہو اور اپنے اعمال و افعال کے لیے کسی  کے سامنے جوابدہ نہ رہو ۔ لیکن اس کا نتیجہ تمہاری توقع کے خلاف ہو گا ۔سقراط کو جیل بھیج دیا گیاں ایتھنز کے نو جوانوں نے عدالت کافیصلہ قبول نہ کیا۔ اور انہوں نے سقراط کے دوستو ں کے ساتھ مل کر اپنے استاد
کو جیل سے فرار کرانے کا منصوبہ بنایا ۔ ایک دن سقراط کا دوست کریٹن اسے ملنے جیل گیا اور فرار کے منصوبے سے آگاہ کیا سقراط نے اس منصوبے کو اپنے نظریہ انصاف سے منافی قرار دیا ۔ سقراط نے کہا کہ میرے خیا ل میں ظلم و نا انصافی کے جواب میں ظلم اوناانصافی حق نہیں ۔ مجھے قانون کے تحت سزا دینے کی بجائے زاتی عناد کی بنیاد پر سزا دی گی ہے۔لیکن اس میں قانون کا کیا قصور۔جیل سے فرار ہونا قانون سے
خلاف ورزی ہے ۔سقراط یہ بھی کہ سکتا تھا کہ مملکت نے غلط استعمال کر کے ظلم کیا ہے۔اس لیے میرا فرار جائز ہے۔لیکن وہ ایتھنز کی عدالت کو تاریخ سے سزا دلوانا چاہتا تھا ۔یہ قانون کے جعلی خداوں اور ایک صاحب علم و فکر کی جنگ تھی سقراط جانتا تھا کہ اپنی موت کے بعد وہ ہمیشہ کے لیے زندہ ہو جائے گا۔ اور پھر ایک دن سقراط نے شام کے وقت زہر کا پیالہ اپنے منہ کو لگا لیا۔سقراط نے جان دے کر ان اعلیٰ اقدار کو زندہ کر دیا ۔جو انسانی عظمت کی بنیاد ہے۔یہ یونان کی عظمت کا زمانہ تھا۔قانون اور جعلی خداوں کی عدالت نے سقراط کو موت کے منہ میں دھکیل کر بھی اس کے خلاف جنگ نہ جیت سکے۔موت کی سزا پر عملدرآمد کر کے وقتی طور پر عدالت جیت گی تھی۔ مگرحقیقت میں عدالت ہار چکی تھی۔قانون پر سے لوگوں کا اعتماد اٹھ گیا تھا۔ملک میں انتشار پھیلنے لگا حالات خراب ہو گے اور عظیم یونان زوال کا شکار ہو گیا۔سقراط کو سزا سنانے والی عدالت کے کسی جج کا نام تاریخ میں احترام نہ پا سکا۔لیکن اس عدالت سے سزا پانے والے سقراط کا نام آج بھی زندہ ہے۔آج ہمارے ہاں کیسا انصاف ہے کیسی عدالتیں ہیں ؟مجرم کھلے عام عیشو نشاط کی زندگی گزار رہے ہیں اور مظلوم اکثر جیلوں میں ۔بڑوں کے لیے سزا سب  سے چھوٹی اور چھوٹوں کے لیے سزا بہت بڑی یہاں تو جج اپنی مرضی سے ہی انصاف تقسیم کر رہے ہیں ۔آج تیس تیس سیکنڈکی سزا بھی متعارف ہوگئی ۔جو تاریخ میں آج تک نہیں سنی نا دیکھی ۔کروڑوں روپے ہضم کرنے والے باعزت بری ہو کر خوب  عیش کرتے ہیں ۔آج جس طرح انصاف کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں انصاف بھی انصاف مانگنے ہر مجبور ہو گیا ہو گا مگر مانگے کس سے ۔منصفی کرے گا کون ۔فاروقِ اعظم (رض) جیسا عظیم منصف اور اس دور جیسی عدالتیں اب کہاں تلاش کریں ۔جاگیرداروںحکمرانوں نے عدلیہ کو بھی اپنی رکھیل بنا رکھا ہے ۔جیسا چاہتے ہیں ویسا ہی کروا لیتے ہیں ۔جج صاحبان بھی انصاف کو تحفتاََ تقسیم  کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں  اب پیروں فقیروں کی دعائیں قبول کیوں نہیں ہوتیں۔۔۔