شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / کرتار پور راہداری۔ایک تاریخ ساز عہد کا آغاز

کرتار پور راہداری۔ایک تاریخ ساز عہد کا آغاز

نو نومبر کو دنیا کے عظیم شاعر اورپاک و ہند میں دو قومی نظریہ کے خالق،عاشق رسول ﷺ ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کا یوم پیدائش ہے جنہوں نے بر صغیر میں بسنے والی مسلم امت کو بیدار کیا،خودی کا فلسفہ اور نظریہ پیش کیا اس تاریخی موقع پر ہی پاکستان دین اسلام کے سب سے زیادہ قریب سکھ ازم کے سب سے بڑے مذہبی پیشوا بابا گرو نانک کے550ویں جنم دن کی مناسبت سے کرتار پور راہدرای کا افتتاح ہو رہا ہے،دنیا بھر میں دیگر مذاہب کا احترام و تقدس کو ہمیشہ مہذب اقوام نے ملحوظ خاطر رکھا جاتا ہے البتہ وہاں کبھی یکجوئی یا یکسوئی نہ ہوسکی جہاں اس حوالے سے ظلم و ستم،جبر و استبداد کی تاریخ رقم کی گئی ہو جس کی سب سے بڑی مثال یہودیت اور ہندو ازم ہے اسی طرح احمدیوں کو اسلامی جمہوری ریاست میں اقلیت قرار دے کر ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی آخرت سنوار لی عقیدہ ختم نبوت دین اسلام کی اساس ترین اکائی ہے جس کے بغیر کوئی بھی شخص دائرہ اسلام میں داخل ہی نہیں ہو سکتا،کفار میں سکھ مذہب الراقم کی معلومات کے مطابق وہ واحد مذہب ہے جس کے پہلے پیشوا بابا گرونانک دین اسلام کے بہت قریب رہے،تقسیم برصغیرکے وقت ریڈ کلف ایوارڈ کے تحت پنجاب کو دو حصوں میں تبدیل کر دیا یوں سکھوں کا مقدس ترین یہ مقام پاکستان کی حد میں آ گیا، ننکانہ صاحب اور کرتار پور سکھوں کے نزدیک سب سے مقدس ترین مقامات ہیں اور دونوں پاکستان میں ہیں،کرتار پور پاک انڈین بارڈر سے نزدیک ترین ہونے کے باوجود سکھ قوم روزانہ کی بنیاد پر دوربینوں سے حسرت بھری نگاہوں سے اپاس مقدس ترین مقامات کو دیکھتی اور نم آنکھوں کے ساتھ واپس لوٹ جاتی،آج پاکستان کی جانب سے سکھ کمیونٹی کے لئے کرتار پور راہداری کے خواب کی تکمیل کی جائے گی،وزیر اعظم عمران خان اس تاریخی،اہم اور سکھ کمیونٹی کی مذہبی مقدس ترین جگہ تک رسائی کے لئے آج کرتار پور راہداری کا افتتاح کررہے ہیں،عمران خان نے کہا سکھ قوم کے نزدیک دیوار برلن ختم کرنے کے مترادف ہے،عمران خان کی بطور وزیر اعظم تقریب حلف برداری میں سابق کرکٹر اور رکن پارلیمنٹ نوجوت سنگھ سدھو کو چیف آرف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باوجوہ نے خوشخبری سنائی کہ پاکستان کرتار پور راہدرای کھولے گا،یہ خبر نوجوت سدھو نے عام کی تو دنیا بھر میں مقیم سکھ کمیونٹی میں خوشی کی لہر دوڑ گئی،کرتار پور راہداری ضلع ناروال کی تحصیل شکر گڑہ میں ناروال سے شکر گڑھ روڈ پرچند کلومیٹر دور گاؤں پنواں سے آگے اور منظور پور پلاٹ سے قبل مین روڈسے دائیں جانب کچھ فاصلہ پر واقع ہے،وفاقی دارالحکومت اسلام آبادسے305کلومیٹر جبکہ بھارت کی طرف سے امرتسر سے اس کا فاصلہ 52.2کلومیٹر ہے،یہ راہداری دریائے راوی کے مغربی کنارے بھارت سے محض 4.7کلومیٹر دور پاکستان میں فاصلہ پر ہے راوی کے مشرقی جانب خاردار تاروں والی انڈین سرحد ہے جس کے ساتھ ہی ڈیرہ بابا نانک ہے ان دو مقامات کو800میٹر طویل پل کے ذریعے ملایا گیا ہے، اس سے قبل لوگ ویزہ لے کر مقدس مقامات کی زیارت کے لئے آتے انہیں براستہ لاہور اس مقام تک پہنچنا پڑتھا اب 125کلومیٹر کامزید سفری اخراجات کا بوجھ الگ،اب یہ فاصلے سمٹ چکے ہیں،28نومبر2018کو عمران خان نے کرتار پور گاؤں میں اس راہداری کا سنگ بنیاد رکھا جس میں دو بھارتی وزراء سمر ت کور بادل اور پر دیپ سنگھ،امرتسر کے ایم پی اے گر جیت سنگھ اوجلا اور نوجوت سنگھ سدھو سمیت سکھ کمیونٹی اور پاکستانی اہم شخصیات نے شرکت کی تھی، اس سے دو روز قبل بھارتی نائب صدروینکائیا نائیڈو نے بھارتی پنجاب کے ضلع کوکا کے گاؤں مٹن میں ڈیرہ بابا ناک میں اس کا سنگ بنیاد رکھا تھا،افتتاحی تقریب میں پاکستان میں پہلے سے موجود2000زائرین جبکہ مجموعی طور پردنیا بھر سے تعلق رکھنے والے5ہزارسکھ مردو خواتین سمیت 12ہزار سے زائد افراد شرکت کریں گے،کرتار پور میں زائرین کی سہولت کے لئے،چیک پوسٹ، دو کمرشل ایریاز،دو کار پارکنگ،ٹورسٹ انفارمیشن سنٹر،3.5کلومیٹر 4لین بہترین کشادہ روڈ،بارڈر سے شٹل بس سروس،طبی مرکز،ایمبولینسز،پاور گرڈ،عارضی رہائش گاہیں،دیوان استھان،بارہ دری سنگت کے کمرے اور لنگر خانہ مکمل کئے جا چکے ہیں،سکھ یاتریوں کی آمد کا سلسلہ گذشتہ کئی دن سے جاری ہے جو درجنوں بسوں میں گوردوارہ جنم استھان ننکانہ مسلسل پہنچ رہے ہیں،اس راہداری کے روح رواں نوجوت سنگھ سدھو،سابق وزیر اعطم منموہن سنگھ،اداکار سنی دیول بھی اس پر وقار تقریب کا حصہ ہوں گے،سکھ یاتری اسی روز واپس چلے جائیں گے،سکھوں کی مذہبی رسومات کے حوالے سے اس بہترین سہولت پرعمران خان او ر نوجوت سنگھ سندھو کے حق میں جالندھر لگائے گئے مگر دنیا کی سب سے زیادہ متعصب قوم کی حکومت اس بات کو بھی برداشت نہ کرسکی، کچھ پاکستانی سیاستدان بھی سیاست کرنے سے باز نہیں آئے اور کرتار پور راہداری کو مسئلہ کشمیر سے نتھی کر دیا، پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفورکو کہنا پڑا کہ کرتار پورراہداری کو مسئلہ کشمیر سے نہ جوڑا جائے،مسئلہ کشمیر پرپاکستان نے نہ کبھی سمجھوتہ کیا ہے اور نہ ہی کبھی کرے گا،سکھ زائرین ویزے کے حصول کے بعد ہی متعلقہ جگہوں پر آ سکیں گے سکھ یاتری صرف حاضری دے کر واپس چلے جایا کریں گے یہ انتہائی مضحکہ خیز بات ہے اس متعلق منفی بیانات اور سوشل میڈیا پر پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے یہ زائرین اپنی متعلقہ جگہ سے ایک انچ بھی آگے نہیں جا سکے گے پاکستانی فوج یا حکومت ایسے تمام حساس معاملات سے پوری طرح نہ صرف با خبر بلکہ اس کا حل بھی جانتی ہے،اس کے بر عکس انڈیا کے آرمی چیف بین راوت نے اس اہم ترین راہداری کی مخالفت کی جبکہ انڈین میڈیا مسلسل زہر اگلنے میں مشغول ہے،دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر فیصل کے مطابق حکومت نے بابا گرونانک کے 550ویں جنم دن کی مناسبت سے سکھ یاتریوں کے لئے خصوصی مراعات جاری کی ہیں جن میں مختلف ممالک میں موجود پاکستانی سفارت خا نے اس وقت10 ہزار سے زائد سکھ یاتیروں کو ویزے جاری کر چکے ہیں ایک سال کے لئے پاسپورٹ کی شرط ختم،10روز قبل یاتریوں کی فہرست فراہم کرنے کی شرط ختم،9تا12نومبر تک فی یاتری فیس20ڈالر نہیں لی جائے گی کوئی بھی سکھ یارتی شناختی کارڈ،ڈرائیونگ لائسنس یا راشن کارڈ دے کر کرتار پور آنے کی اجازت حاصل کر سکتا ہے، پاکستان نے سکھوں کی مقدس عبادت گاہ کو منسلک کر کے ایک تاریخی کام کیا سکھ کمیونٹی بھارت میں ایک بہت بڑی طاقت کی حامل کمیونٹی جس کا پھیلاؤ دنیا بھر میں ہے،ان کی خوشنودی سے پاکستان کو سفارتی محاذ پر بہت کامیابی ملے گی،دنیا بھر میں پاکستان کے اس اقدام کو سراہا جا رہا ہے،کشمیر میں بھارتی بربریت کی وجہ سے انڈیا کے ساتھ تجارتی تعلقات ختم اور سفارتی تعلقات محدود ہونے کے باوجود پاکستان نے سکھ کمیونٹی کے دل جیت لئے اگر یہی سکھ کمیونٹی 3سے8جون1984میں انڈین آرمی کے آپریشن بلیو سٹار کا شکار نہ ہوتی تو اس وقت یہ قوم اس قدر طاقت پکڑے رکھتی کہ یقیناً آج کشمیرمیں نریندر مودی اس ظلم و ستم اور بر بریت کے قابل نہ ہوتا یہ تو کچھ پاکستانیوں کی مہربانی تھی جنہوں نے سکھوں کے خلاف انڈین حکومت کی بھرپور مدد کی جس کے باعث سکھ کمیونٹی اس قابل نہ رہی کہ وہ حکومت کے آگے مزید مزاحمت کر سکتی،اب بھی سکھ برادری اس آسانی سے جس قدر خوش ہیں اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا، قیام پاکستان کے بعددوسری جنگ1965کے بعد تک سکھوں کو پاکستان آنے کی اجازت نہ تھی اس آمدرورفت کا باقاعدہ آغاز1874میں ہوا،1999میں اس وقت کے پاکستانی اور انڈین وزیر اعظم نواز شریف اور اٹل بہاری واچپائی کرتار پورراہداری پر بات کا آغاز کیالاہور دہلی دوستی بس سروس اسی بات چیت کا نتیجہ تھی،2000میں جنرل پرویز مشرف نے بھی اپنے دور میں اس کی تعمیر کا اعلان کیا تھاجس کا ٹاسک جنرل جاوید ناصر کو سونپا گیا مگر کارگل وار کی وجہ سے کام نہ ہوا،2005میں سکھ یاتریوں کی تعداد میں اضافے کی یادداشت پر دستخط ہوئے 2008میں بھارتی وزیر خارجہ پرتاب مکھر جی نے فری ٹریول کرتار پور کا افتتاح کیامگر اس وقت ممبئی حملے ہو گئے،2018میں نوجوت سنگھ سدھو کی قسمت میں یہ کام تھا2019میں دونوں حکومتوں کے درمیان باقاعدہ معاہدہ ہوا، عمران خان نے سنگ بنیاد رکھ دیا،بھارتی پنجاب کے وزیر اعلیٰ امریندر سنگھ نے30اکتوبر کو اپنی جانب سنگ بنیاد رکھانومبرمیں انڈین پارلیمنٹ نے اس منصوبے کو منظور کیا،دنیا سے الگ تھلگ یہ جگہ اب عالمی شہرت حاصل کر چکی ہے،یہاں 18سال سے گرنتھ پڑھنے والے گوبند سنگھ کے مطابق یہ سب کسی معجزہ سے کم نہیں، کرتا پور کی قدیم عمارت راوی میں سیلاب کے باعث تباہ ہو گئی تھی جسے بعد میں پٹیالہ کے راجہ سردار پھوبندر سنگھ نے تعمیر کرایا1995میں پاکستانی حکومت نے اس عمارت کی مرمت کرائی اب یہ قدیمی عمارت پوری شان و شوکت سے بحال ہو چکی ہے،حکومت نے اس تاریخی موقع پر 50روپے کا سکہ اور یادگاری ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیا ہے،بابا گورونانک 15اپریل1469کو رائے بھوئی تلونڈی (ننکانہ صاحب)میں کلیان چند داس بیدی کے گھر پیدا ہوئے والدہ کا نام ترپتا اولاد مین سری چند،دکھمی داس اوربیٹی بی بی نانگی شامل تھے،ان کا خاندان ہندو تاجر اور انتہائی بت پرست تھا ان کے والدتلونڈی میں محصولات کے پٹواری تھے،مگر بابا گورونانک کے اندر اسلام،توحید،سلکھنی شامل تھی آپ نے سات سال کی عمر میں حروف تہجی اور حساب کے عدد 1کواللہ کی وحدانیت سے تعبیر کیا تو استاد بھی حیران رہ گیا،آپ نے زندگی کے آخری 17برس گذار کر ستر سال کی عمر میں 22ستمبر1539کو ان کی یہیں وفات پائے،بابا گورونانک سکھ مذہب کے بانی اور دس گروؤں میں سب سے پہلے گرو تھے ان کا یوم پیدائش کوپورب کے طور پردنیا بھرمیں ماہ کاتک (اکتوبر،نومبر)میں پورے چاند کے دن یعنی کاتک پورن ماشی کو منایا جاتا ہے،آپ نے ابتادائی تعلیم مسلمان اتالیق سے حاصل کی اور ہندو دھرم سے سخت نفرت کا اظہار کیا،بابا گورونانک نے مکہ معظمہ،ایران،افغانستان،عراق سمیت متعدد مسلمان ممالک کا سفر کیا6سال بغداد میں گذارے،حضرت بابا فرید الدین ؒ اور حضرت خواجہ معین الدین چشتی کے مزارات پر چلہ کاٹے،آپنے اپنے بھائی لہنا کو اپنا جا نشین بنایا،سکھ روایات کے مطابقبابا گورونانک کے چولہ جو ان کے چیلوں کی رہنمائی کے لئے تھایہ چولہ اب بھی ڈیرہ بابا نانک میں موجود ہے جس پر بسم اللہ،کلمہ شریف،آیتہ الکرسی،سورہ عصر،سورہ اخلاص،اسمائے حق تعالیٰ سمیت متعدد قرآنی آیات لکھی ہوئی ہیں،آپ نے ایک مسلم خاتون سے بھی شادی کی،بابا گورونانک کو ایک عظیم ہستی تصور کیا جاتا ہے جنہوں نے دور دراز سفر کرتے ہوئے لوگوں کو ایک خدا کا پیغام پہنچایا جواپنی ہر تخلیق میں جلوہ گر اورلازوال حقیقت ہے انہوں نے منفرد روحانی،سماجی و فلاحی نظام ترتیب دیاجس کی بنیاد مساوات،بھائی چارے،نیکی اور حسن سیرت پر ہے،گورونانک کا کلام ان کی مقدس کتاب گرنتھ جو974منظوم بھجنوں کی صورت میں موجود ہے سکھ عقیدے کے مطابقبعد میں آنے والے 9گروؤں کو یہ منصب عطا ہوا تو گرو نانک کے مقدس،الوئیت اور مذہبی اختیارات کی روح ان میں سے ہر ایک میں محلول کر گئی،بابا گرونانک نے دریا روای کنارے گاؤں فقیر آباد میں گذارے یہاں ْکرتار پور قصبہ آباد کیایہ زمین انہیں ایک مسلمان رئیس نے دی اسی دور میں یہاں ایک مسجد کی بھی تعمیر کی گئی تھی،پاکستان کی پر خلوص کوششوں سے کرتار پور راہداری رشتوں کی ایک نئی عبارت لکھے گی۔

یہ بھی پڑھیں  اوکاڑہ: حکمرانوں کو جوش سے نہیں بلکہ ہوش سے حالات کا رخ بدلنا ہوگا،مہر عبدالستار

What is your opinion on this news?