تازہ ترینسیّد ظفر علی شاہ ساغرؔکالم

کاسہء الزامات اور سیاسی زبان درازیاں

zafar ali shah logoہمارے ہاں سیاسی جماعتوں میں برداشت کا فقدان کیوں ہے اور سیاسی جماعتیں اپنی اچھی کارکردگی قوم کے سامنے لانے اوررکھنے کے برعکس ایک دوسرے کو تنقید اور الزامات کا نشانہ کیوں بنارہی ہیں کیا یہ ہمارے سیاسی عمل کے ایک ایسے ماحول کی عکاسی ہے جس سے سیاسی جماعتوں کا باہر نکلنا مشکل ہے،یہ ایسے سوالات ہیں جن کے جوابات ڈھونڈنا اور ہمارے ہاں سیاسی عمل کو صحیح خطوط پر ڈال کر پروان چڑھانا وقت کا اہم تقاضاہے ورنہ ہماراسفر آگے کی بجائے پیچھے کی جانب اسی طرح جاری رہے گا جس طرح نظرآرہاہے۔ ہمیں سوچناہوگا، غورکرنا ہوگا کہ دنیا کہاں سے کہاں پہنچی اور ہم کہاں پائے جاتے ہیں ۔۔سوال یہ بھی اہم ہے کہ کیاسیاست ملک و قوم کی ترقی وخوشحالی،اداروں کے استحکام،قوانین کے تعین،ریاست کے نظریاتی اور جغرافیائی حدود کے تحفظ،قومی وقار کی بحالی ،عوام کو سہولیات اور حقوق کی فراہمی ، عوام کی جان ومال کی حفاظت اورانہیں مشکلات اور مایوسی کے دلدل سے نکالنے اورہرلحاظ سے سے بہتراور مبنی بر انصاف نظام رائج کرنے کے لئے کاعمل ہوتاہے یا سیاست کا مقصدومطلب خودنمائی،ذاتی مفادات،اپنی تعریف اور دوسروں پر تنقید ذریعے بلاجوازکیچڑاچھالناہوتاہے۔ اس میں تو کوئی شک نہیں کہ اتحادواتفاق کا مظاہرہ کئے بغیر کبھی بھی کسی قوم کی ترقی وخوشحالی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔اگر اقوام مغرب (ترقی یافتہ)اقوام میں رائج سیاسی اور جمہوری نظام کاجائزہ لیاجائے تو وہاں الگ پالیسی اور الگ ترجیحات رکھتی سیاسی جماعتیں اداروں کے استحکام،ملکی سلامتی،بقاء اور قوم کی ترقی و خوشحالی کے تناظر میں ایک دوسرے پر سبقت لینے کی کوشش میں لگی رہتی ہیں لیکن کوئی جماعت دوسری جماعت کو پیچھے دھکیل کر آگے نکلنے کی کوشش کرتی ہے نہ ہی ایک دوسرے پرکیچڑ اچھالنے، بلاجواز تنقید اور بے بنیاد منفی پروپیگنڈے کا سہارہ لیتی ہے ۔کسی بھی قومی ایشوپر تمام جماعتیں اپنی پالیسی اور ترجیحات کو بالائے طاق رکھ کر قومی اور مفاد عامہ کے لئے پوری طرح متحد اور یکجا نظرآتی ہیں اور یہی ان کی ترقی کا سب سے بڑارازہے۔لیکن ہمارے ہاں کیاہوتا ہے یہاں سیاسی جماعتوں کی پالیسیاں اور ترجیحات کیا ہوتی ہیں بس یہی کہ بے بنیاد الزامات اور منفی پروپیگنڈہ کے ذریعے ایک دوسرے پر کیچڑ اُچھالنا،آگے نکلنے کی دوڑ میں دوسروں کو بری طرح روندلینااور ایوانِ اقتدار تک رسائی کے لئے جھوٹ اور دھوکہ دہی پر مبنی دعوں اور وعدوں کا سہارہ لینااور پھرانجیرکے پھول کی طرح غائب ہوجاناجس طرح پشتوکا مقولہ ہے کہ(سم دانزرگل شوی اڈوخکاری نہ)۔۔بدقسمتی سے ہمارے ہاں دیگر کمزوریوں کے ساتھ ساتھ سیاسی جماعتوں کے اندر برداشت کا فقدان بھی بدرجہ اتم پایاجاتاہے جوقومی ایشوز پر سیاسی جماعتوں کے یکجاہونے میں بڑی رکاؤٹ بنتی ہے یہی ہماراالمیہ ہے اوریہی ہماری پسماندگی کی بڑی وجہ ہے۔۔ بات ہورہی ہے سیاسی رویوں کی تو میں گزشتہ دنوں اپنے آبائی علاقہ چکدرہ دیر لوئر میں علاقے کو سوئی گیس کی فراہمی جیسے ایشوپرمنعقدہ ایک قومی جرگے کا ذکر کرتا چلوں جس میں تمام سیاسی جماعتوں کے مقامی،ضلعی اور صوبائی سطح کے عہدیداروں ،سیاسی وسماجی ورکرز،صحافیوں اور عمائدین سمیت کئی موجودہ اور سابق سینیٹرزاور اراکین قومی وصوبائی اسمبلی شریک تھے جن میں عوامی نیشنل پارٹی کے سینیٹرزاہدخان،مسلم لیگ نون کے سینیٹرنثار خان مالاکنڈ،جمعیت علماء اسلام کے سابق سینیٹر مولانا گل نصیب خان،پیپلزپارٹی کے سابق ایم این اے اور وفاقی وزیر مملکت ملک عظمت خان ،جماعت اسلامی کے ممبرقومی اسمبلی صاحبزادہ یعقوب خان،ممبران صوبائی اسمبلی مظفرسید،سعیدگل اور قومی وطن پارٹی کے سابق صوبائی وزیر بخت بیدارخان شریک تھے۔ ابتدائی کلمات ایک مذہبی سیاسی جماعت کے رہنماء نے پیش کئے انہوں نے تمہیدباندھ کرباہمی اتحادواتفاق قائم رکھنے ،برداشت،تحمل اورایک دوسرے کوعفودرگزر کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایک دوسرے پر تنقید اور الزامات لگانے کے برعکس قومی ایشوزاور مفادعامہ پر سیاسی سوچ اور پارٹی ترجیحات سے بالاتر ہوکرایک ہی ایجنڈے پر اکتفاکریں گے تومنزل تک رسائی آساں ہوگی جبکہ سیاست کرنے اور تنقیدوتعریف کے لئے اور بھی فورمز موجود ہیں۔ماضی میں کس نے کیاکیاتھااور کس کی کتنی غفلت ولاپرواہی تھی ان ایشوز پر وقت ضائع کرنے اور مزید تلخیاں پیداکرنے کی بجائے حال اور مستقبل پر توجہ دیں گے تو زیادہ بہتر ہوگا۔ان کے خطاب کو سب نے سراہااوراراکین پالیمنٹ سمیت تمام شرکاء میں کسی نے سر ہلاکر کسی نے دبی زبان میں توکسی نے بہ اَوازبلند عزم ظاہر کیا کہ آج کے دن تو ایسا ہی ہوگااورایسا ہی کریں گے۔۔اور کتناہی اچھا ہوتا اگر ایساہی ہوتا، کاش کہ ایسا ہی ہوتااورہمارے سیاسی رہنماء محض باتوں کے بھوت نہ ہوتے وہ بردباری،وسیع القلبی اوربالغ النظری کامظاہرہ کرنے کی بھی روایت ڈال لیتے حالانکہ لگ ایسا رہاتھا کہ سیاسی روایات کے برعکس معاملہ انجام پائے گااگرچہ ایک دو مقررین صبروتحمل کامظاہرہ کرتے ہوئے مثبت پیغام دیتے دکھائی دیئے۔لیکن سیاسی روایات کیوں دم توڑتیں،سیاسی رہنماء ایسی تقریر کیوں کرتے جس میں اپنی تعریف اور دوسروں پرتنقید نہ ہو۔۔سو وہی ہوا جو ہوتارہاہے ،وہی ہواجو ہمارے سیاسی عمل کا خاصہ رہاہے دوسیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے ایک دوسرے کو زبردست تنقید کا ن
شانہ بنایا اور تنقید بھی کوئی سیاسی نہیں بلکہ بھرے مجمعے میں کھلے عام اور سرعام ذاتی نوعیت کی۔۔اس سے پروگرام کا سارا مزہ بدمزہ ہوگیا۔ماضی کی تلخیوں نے حال کو جھنجوڑکے رکھ دیا۔برداشت ختم اور جذبات غالب آگئے،پورا ماحول سکتے میں آگیا اور ایسے میں جرگے کے شرکاء سمجھنے سے قاصررہے کہ ہوکیارہاہے اور ہوگا کیا۔یہ تومحض ایک عوامی ایشو پر بلائے گئے جرگے کا احوال تھاڈھیر سارے ایشوز پر کریڈٹ لینے ،برتری قائم کرنے اورسبقت لینے کی دوڑ میں ایک دوسرے پر نہ صرفٖ تنقید بلکہ تنقیدبرائے تنقید ، منفی پرپیگنڈہ،بلاجوازاوربے بنیاد الزامات کے ذریعے ایک دوسرے کو زیر کرناانتخابی مہم میں زہراگلتے کلمات اورمچھلی بازار کا نظارہ پیش کرتے منتخب ایوانوں میں ان سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اور منتخب اراکین کا دست وگریباں ہونا دراصل ہمارے سیاسی عمل کے وہ سرائیت کرتی روایات ہیں جن سے باہر نکلنا سیاسی جماعتوں کے لئے آسان ہے نہ ہی سیاسی رہنماؤں کے لئے ممکن یا شائد یہ وہ زریں ،مروجہ اور آزمودہ اصول ہیں جن کے بغیر سیاسی عمل مکمل ہوتاہے نہ ہی سیاسی کامیابی کا حصول ممکن ہے۔یہاں جو زیادہ الزامات عائد کریں اور جو پرپیگنڈہ کرنے کے ماہرہوں وہی بڑے لیڈرکہلاتے ہیں اور انہیں بڑے لیڈربنانے کا کریڈٹ یقینی طورپرعوام ہی کوجاتاہے جنہیں اچھے برے کی تمیزہے نہ چھوٹے بڑے کے معیار کا اندازہ ان کاکام تو بس تالیاں بجانااورزندہ ومردہ باد کی صدائیں بلند کرناہوتاہے۔یاپھر یہ کہ جوجیتاوہی سکندر۔

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button