بشیر احمد میرتازہ ترینکالم

حریت وفد کی آمد اور ہمارا مستقبل

دنیا میں دو اہم تنازعات کشمیر اور فلسطین نصف صدی سے زائد اقوام متحدہ سے حل نہیں ہو سکے جس کے نتیجہ میں لاکھوں افراد آذادی کی تڑپ ،حسرت اور تمنا لئے اپنی جانوں کے نذرانے دے چکے ہیں۔ان دونوں تنازعات کو حل کرنے کے لئے ہر دور میں مختلف سطحوں پر مذاکرات بھی ہنوز جاری ہیں مگر کسی قابلِ قبول حل تک نہیں پہنچا جا سکا۔اطلاعات ہیں کہ مسئلہ کشمیر کے حل کی جانب ایک اور کوشش آئندہ ہفتے ہو رہی ہے کشمیری قائدین کا ایک وفد جو حریت کانفرنس (ع)سے ہے جسکی قیادت میر واعظ عمر فاروق کر رہے ہیں ان کی پاکستان آمد 15دسمبر کو ہونا طے ہے۔اس سلسلہ میں حریت رہنماؤں کی باہمی مشاورت کا عمل بھی جاری ہے۔اس وفد میں میر واعظ عمر فاروق کی سربراہی میں دیگر قائدین پروفیسر عبدالغنی بٹ،بلال غنی لون،مولوی عباس انصاری،آغا سید حسن بڈگامی،مصدق عادل کے ناموں کی حتمی فہرست آ چکی ہے ۔جبکہ سید شبیر شاہ اور محمد عبداللہ طاری نے نئی دہلی سے جواب نہ آنے کے باعث اپنے سفر دستاویزات سرینگر مظفرآباد بس سروس کے حکام کو دئے ہیں۔حریت رہنماؤں کی 15سے 22دسمبر 2012ء تک پاکستان اورآذادکشمیر کے اہم رہنماؤں وزیر اعظم پاکستان راجہ پرویز اشرف ،صدر پاکستان آصف علی زرداری،وزیر خارجہ حنا ربانی کھر،پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر میاں نواز شریف ،وزیر اعظم آذادکشمیر چوہدری عبدالمجید،صدر آذادکشمیر سردار محمد یعقوب خان،اپوزیشن لیڈر اور مسلم لیگ ن کے صدر راجہ فاروق حیدر خان ،قائد مسلم لیگ ن سردار سکندر حیات خان ،مسلم کانفرنس کے صدر سردار عتیق خان ،سابق وزیر اعظم بیرسٹر سلطان محمود چوہدری،حریت رہنماؤں اور میڈیا سمیت کئی شخصیات سے ملاقاتیں کرنا طے ہیں۔
اگر چہ حریت کانفرنس (گ)کے قائد سید علی گیلانی اس مذاکراتی عمل سے باہر ہیں تاہم آمدہ حریت وفد نے امن کی بحالی کے لئے بڑا قدم اٹھایا ہے۔اس وقت پاکستان اور بھارت کے عوام دہشتگردی سمیت کئی مسائل سے نبرد آزماء ہیں ۔بے روزگاری ،غربت،افراط زر اور روز بروز گرتی ہوئی معاشی بد حالی اس امر کا تقاضا کر رہی ہے کہ دونوں ممالک امن اور ترقی کے لئے باہمی تنازعات کو جس قدر جلد ممکن ہو انہیں حل کیا جائے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان اور بھارت دو ایٹمی طاقتیں ہیں جن کے ڈیڑھ ارب عوام بارود پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ذرا سی کوتائی دونوں ممالک کا جغرافیہ،تاریخ اور معاشیات بدل سکتی ہے اس پُر خطر سطح پر دونوں ممالک کی عوام دوستی کا تقاضہ ہے کہ وہ سب سے پہلے مسئلہ کشمیر کے حل کی جانب مثبت رویوں کے فروغ کے لئے ٹھوس اقدامات کریں۔ماضی قریب میں سابق صدر پاکستان جنرل(ر) پرویز مشرف نے جس انداز سے CBMکے نام پر دوطرفہ تعلقات کے فروغ پر زور دیا تھا اور موجودہ جمہوری حکومت پاکستان نے دوطرفہ تعلقات کے استحکام کے لئے اسی سمت کاوشیں جاری رکھی ہیں اس سے تابناک مستقبل کی امید بڑھ رہی ہے۔
سب سے پہلے بس سروس کا آغاز کیا گیا جس سے کشمیر کے آرپار مثبت پیغام گیا،پھر دوطرفہ تجارت ٹرک سروس کے نام سے شروع کی گئی اس سے امید کی جا رہی تھی کہ معاشی طور پر اس کے دیرپا اثرات مرتب ہونگے مگر یہ دونوں اقدامات دوطرفہ انتظامیہ کی بلا جواز قاعدے ضابطوں سے شدید متاثر ہو رہی ہے حالانکہ بحالی امن کے لئے اعتماد سازی کو اولین قرار دیا گیا تھا مگر اس عمل کو جاری رکھنے پر بھارتی انتظامیہ نے دور اندیشی کا مظاہرہ نہیں کیا جس کی وجہ سے ہمیں آگے بڑھنے کی بجائے پھر تصادم کی جانب قدم بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں ۔بس سروس کے ذریعے مشکل قواعد و ضوابط رکھے گے ،نو فارمز پر مشتمل سفری دستاویز لازم قرار دی گئی جس میں شناختی کارڈ،پشتنی اور ڈومیسائل سرٹیفیکیٹ شامل ہیں اسی طرح ان دستاویزات کو جن جن مراحل سے گذارانا طے پایا گیا جس سے کئی کئی ماہ گذرنے کے بعد پرمٹ ملتا ہے پھر کشمیری آرپار جاتے ہیں جبکہ اگر واہگہ امرتسر کے راستے پاسپورٹ ویزہ لگوانے میں اتنا تردد نہیں ہوتا۔اسی طرح ٹرک سروس کے ساتھ کے ساتھ بھی غیر دانشمندانہ طرز عمل اختیار کیا گیا جس سے بجائے دوطرفہ تجارت کو فروغ ملتا اس کے برعکس آرپار کے کشمیری تاجروں کو کروڑوں روپے کے نقصانات کا سامنا ہے۔اب کئی ماہ سے ٹرک سروس دوطرفہ انتظامیہ کے از خود طے کردہ شرائط و قواعد سے شدید متاثر ہوتی جا رہی ہے،جب ٹرک سروس کا آغاز ہوا تھا اس وقت کشمیر(پاکستان) قریباً 900سے اور کشمیر( بھارت) سے قریباً300تاجرشامل تھے ۔آغاز میں دوطرفہ تجارت طلب و رسد کے مطابق شروع کی گئی مگر وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ اس میں بعض ناعاقبت اندیش عناصر نے دراڑئیں ڈالنا شروع کیں جس سے اب دونوں جانب سے تاجروں کو ناقابل تلافی نقصانات کا سامنا ہے اور تاجروں کی عدم دلچسپی کی بنا پر اب مجموعی طور پر دونوں طرف سے 20سے 25تاجر رہ گے ہیں ۔اس طرح ٹرک سروس کے متاثر ہونے سے ناصرف اعتمادسازی متاثر ہو رہی ہے بلکہ اس کے نتیجے میں سینکڑوں تاجر کروڑوں روپے کے خسارے میں چلے گے ہیں ۔بعض ذرائع سے یہ بھی علم ہوا ہے کہ کئی تاجر بھاری قرضوں کی وجہ سے بستر مرگ کا شکار ہو چکے ہیں۔اعتماد کی بحالی کے لئے بھی کشمیری تختہ ء مشق بن رہے ہیں ۔
حریت وفد کی آمد سے یہ توقعات ہیں کہ دونوں ممالک کے مابین بہتر تعلقات استوار کرنے کے لئے باہمی معاملات پر سیر حاصل مذاکرات کو معنی خیز بنایا جائے گا۔اطلاعات کے مطابق 1990ء سے اب تک 47375بے گناہ کشمیریوں کو بھارتی افواج نے گرفتار کیا ،جن میں 4افراد کو آذادی کے حصول کی پاداش میں سزائے موت،25کشمیری عمر قید ،2755افراد 10سے27سال اور18701کشمیری پانچ پانچ سال کی سزا بھگت رہے ہیں ۔اسی طرح حالیہ تحریک میں ایک لاکھ سے زائد کشمیری آٹھ لاکھ بھارتی فوجیوں کے وحشیانہ مطالم سے شہید کئے جا چکے ہیں۔یقینی طور پر کشمیر ی عوام کی جد وجہد بے شمار قربانیوں سے مرقوم ہے۔اس پس منظر میں دوطرفہ تعلقات کو بہتر بنائے جانے کے لئے کشمیری عوام کا اعتماد حاصل کرنا بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔پاکستان نے ہمیشہ رواداری اور نیک نیتی سے بھارت کے ساتھ ہاتھ بڑھایا مگر بھارتی سیاست کاروں اور منصوبہ سازوں نے اس رویہ کو کمزوری سمجھا جس سے دونوں ممالک کے درمیان تناؤ بڑھتا ہوا دکھائی دے رہا ہے ۔گذشتہ کئی روز سے پھر بھارتی افواج نے سیز فائر لائن کی بے شمار خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے اس سے بھی کشمیریوں کو مالی و جانی نقصانات ہو رہے ہیں ۔گذشتہ دنوں ایک شادی کے گھر میں بھارتی فوجیوں نے گولہ باری کی جس میں ایک شہری شہید اور کئی زخمی ہوئے۔جو کھلم کھلا اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ دنیا کے بدلتے ہوئے حالات کی روشنی میں انسانی جانوں کے بقاء اور سلامتی کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں ۔ دو طرفہ تعلقات کو بہتر بنانے کے لئے ضروری ہے کہ کشمیر میں بھارتی افواج کی نقل و حرکت محدود کی جائے ۔پابند سلاسل کشمیریوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے،مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے کشمیریوں کو اعتماد میں لایا جائے نیز اعتماد سازی کے جاری عمل کو فروغ دینے کے لئے دونوں جانب کے کشمیریوں کو ملنے میں آسانیاں پیدا کی جائیں ،تجارتی ماحول کو مفید تر بنانے کے لئے تجارتی اصول و قواعد مد نظر رکھے جائیں ،معاشیات کے بنیادی اصول طلب و رسد کی روشنی میں آئیٹم لسٹ مرتب کی جائے،جن کشمیری تاجروں کا اس اعتماد سازی کے عمل میں انتظامی خامیوں سے نقصانات ہوئے ہیں انہیں مزید مراعات دی جائیں تاکہ وہ تجارت کو جاری رکھ سکیں ۔امید ہے کہ حریت وفد کی پاکستان آمد کشمیریوں کے لئے نیک شگون اور پاکستا ن وبھارت کے لئے امن و سلامتی کا پیغام ثابت ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں  ہٹیاں بالا:ضلعی انتظامیہ ایک مربوط سازش کے تحت مجھے بےدخل کرناچاہتی ہے

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker