ایس ایم عرفان طا ہرتازہ ترینکالم

کشمیرجنت نظیر میں انسانی حقوق کی پامالی

کشمیری معاشرے کو جرائم ذدہ بنانے اور اس کی تباہ کاریوں میں بلاشبہ بھارتی حکومت کا اہم رول ہے۔پوری دنیا میں جمہوریت کے دعویٰ پر یہ نام نہاد لیڈر ز اور حکومتی کارندے کشمیری مسلمانوں کی زبوں حا لی اور پسماندگی کا با عث بنے ہو ئے ہیں اورمقبو ضہ کشمیر میں ظلم وتشدد کے باوجود خاموش تماشائی کاکردار ادا کررہے ہیں۔ بھا رتی حکومت نے گذشتہ برسوں میں مبینہ سکیس سکینڈل کو منظر عام پر آنے تو دیا مگر جب یہ مقدمات عدالت میں پہنچے تو یہ کسی منطقی انجام کو نہ پہنچ سکے ان کیسوں میں ملوث کئی سیاسی مگر مچھ اور بیورو کر یٹ بغیر سزا کے چوڑدئیے گئے۔سرکار کے اس امرسے بے راہ روی کی بد ترین طویل داستا نیں رقم ہو ئی ریپ کیسز کو ایگریمنٹ کے سانچے میں ڈھال کر جا ئز قرار دے دیا گیاجس نے انسانی سوچ اور عظمت وعصمت کی دھجیاں بکھیر دیں اس گناہ کو قا نو نی طور پر تحفظ فراہم کر تے ہو ئے اصولا اورعملی طور پر ریپ کی اجازت دے دی گئی جس کی بھینٹ اس جنت نظیر میں بسنے والی کئی حواکی بیٹیاں نہ چاہتے ہوئے بھی چڑھاوے چڑھا دی گئیں،عجیب بات یہ ہے کہ کشمیر میں اتنا خون خرابہ ہوا اتنی زیادہ گردنیں کٹی ہر ایک گھر سے لا شیں برآمد ہوئیں قربانی وایثارکی عملی تحریکیں رقم ہوئیں لیکن ان کے باوجود زوال ہی زوال سامنے نمودار ہوا۔کئی برس بیت گئے کئی صدیاں بیت گئیں لیکن اس بستی میں شہنائیوں کی جگہ آج بھی ماتم منایا جارہا ہے۔آج بھی بھوک اور افلاس سے وابستہ کشمیر ی مرد و زن ظلم وبریریت کی تصویر بنے ہوئے ایک آزادی کی اُمید کے سہارے اپنی زندگی کا تماشا دیکھ رہے ہیں۔ایک خوشگوار انقلاب ہی موجودہ حالت میں ان کی بے بسی ولاچاری کا مسئلہ حل کر سکتا ہے اور اس کے ذریعہ سے کشمیری شہید وں اور آبائ اجداد کی ارواح کو ریلیف بخشا جا سکتا ہے۔ یہ حسین وجمیل گلستان کشمیر کئی برسوں سے پھولوں کی بجائے کانٹے اگل رہا ہے۔بلاشبہ کشمیری سماج کی اپنی انوکھی پہچان تھی یہ روایت پسند معاشرہ تھااور اس میں اخلاقی قدریں مقدم تھیں۔ مگر ان کی کایا پلٹ رہی ہے ۔جرائم پیشہ عناصر اس کی المنا ک تباہی پر کمر بستہ دکھائی دیتے ہیں۔معاشرے میں مسلح جدوجہد کے بعد عدم برداشت کا عنصر پیدا ہونا ایک فطری عمل ہے۔ خودکشی اور بے راہ رو ی کا و ائرس اسے اخلاقی طور پر دیوالیہ بنارہا ہے۔عام طور پر خود کشی اور حرام موت کے واقعات ذہنی تنائو اور نفسیاتی دبائو کا نتیجہ ہوتے ہیں اور اس کے محرکات کبھی کبھار گھریلو پریشانیاں یا ذاتی مشکلات ہوتی ہیں۔مگر یہ سچ ہے کہ بیشتر واقعات کے پس منظر میں بہر حال کوئی نہ کوئی محبت یا عداوت کی داستان ضرور چھپی ہوتی ہے۔خود کشی ہویا بے راہ روی کے واقعات کشمیر میں معمول بن چکے ہیں۔بے راہ ر وی ہویا بھیانک جرائم کا بڑھتا ہوا گر ا ف یہ دونو ں عوامل اس حقیقت کا غماز ہیں کہ کشمیر بتد ریج برائی اور نحوست کا محور بنتا چلا جارہا ہے۔کشمیری معاشرے میں اس تشویشناک بگاڑ اور کرمنلا ئزیشن کی کئی ایک وجوہات ہیں پہلی بات یہ ہے کہ جرائم اور بے راہ روی کے وائرس کو پنپنے کے لیے سازگار ماحول دستیاب ہے کیونکہ مغرب ذدہ کشمیری معاشرے کی اخلاقی بنیادیں تیزی سے منہدم ہورہی ہیں۔
رکھتا ہے وہ منصف سے وکیلوں سے مراسم مجرم کو عدالت سے سزا کیسے ملے گی
بھارتی حکومت کے اشیروات سے مقبوضہ علاقہ میں کالے قانون کے ذریعے فوج نے بے حیائی اور عصمت دری کا بازار سرگرم کر رکھا ہے۔سرکار نے محض اپنی انا اور بے عزتی کو چھپا نے کی خا طرایک آدھ ملزمان پر پہلے ہاتھ ڈال دیا کیونکہ مقدمہ کو Hush-upکرکے واضح طور پر یہ بیان کیا گیا کہ ایگریمنٹ کے ذریعے ہر روز بھی کوئی ریپ کرے تو اس پر موجودہ قانون کے تحت کوئی گرفت نہیں ہوسکتی ہے۔ایک اور رائے یہ بھی ہے کہ ملی ٹینسی کے باعث عورتوں کے جنسی استحصال یا بلیک میلنگ کے مواقع پیدا ہوئے اس جنگ کے دوران جنگجوئوں اور عام لوگوں کے درمیان قریبی میل جول رہا اور کریک ڈائون کے دوران جنگجوئوں کو بچانے کی غرض سے بسااوقات گھر والوں نے صنف نازک کو آگے کر کے زبردست خطرہ مول لیا۔ایک زمانہ وہ بھی گزرا جب ہوم ٹرینڈ وں کا ایک سیلاب امڈآیا۔ان کو بہر حال گھروں میں ٹھکانے ملتے تھے۔ اس تعلق کی نوعیت اور ضرورت اپنی جگہ مگر اس کے نتیجے میں عمومی پر ا ئیو یسی بھلا متاثر ہوئے بغیر کیوں کر رہ سکتی تھی۔کشمیری معاشرے میں سنگین جرائم کی پرورش سے ہر ذی حس انسان لرز اٹھتا ہے۔ اس مسئلے کا100فیصد تدارک ممکن نہیں کیونکہ کشمیری اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ ایک مثالی معاشرہ بنا سکیں اور پھر گلوبلائزیشن اور میڈیاکی یلغارسے اندیشہ ہے کہ آئندہ ہر کلچر اور تہذیب Cross Breedingسے دوچار رہے گی۔ ہمیں اسلامی اصولو ں اور مسلم تہذب وتمدن کی درس گاہ میں رہتے ہوئے حا د ثا تی طور پر درمیا نہ راستہ اختیار کر نا پڑے گا اور غیرت مندی کا یہ تقاضا ہے کہ اخلاقی اور ذاتی آلودگی کے طوفانی مرحلے کو روکنے کے لیے مضبوط بندھ بنا دیا جائے ۔ورنہ کشمیر تھائی لینڈ میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
پوری دنیا میں بسنے والے امن اور آشتی کے دعویٰ دار اور تحفظ کے ٹھیکیداروں کو چائیے کہ انسانی حقوق کی اس بد ترین تصویر کو گہری نظر سے سامنے رکھتے ہوئے ایک مضبوط اور مربوط قا نو ن کا نفاذ یہاں اس دیس میں عمل پذیر رکھیں دنیا کے نقشہ میں موجودہ دور میں یہ ایک مثا لی امن و امان کی تباہ کن صورتحال بے قاعدگیوں اور لا قانونیت کی وجہ سے رد عمل کے طور پر غلط رنگ میں وجود پکڑے گی اور یہ دنیا کو متاثر کئے بغیر نہ رہے گی۔
کشمیری نوجوانوں کے تربیتی کیمپوں کو دہشت گردی کی نرسریاں قرار دے کر اکھاڑ پھینکنے اور بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی سرحد کو خا ردار تاریں لگا کر بند کرنے کی کوششوں تک کو جائز قرار دینے کے ایسے اقدامات کئے گئے جن میں سے بعض نہ صرف پاکستان کے قومی وقار کے منافی اور تنازع کشمیر کے بارے میں اس کے اصولی موقف سے انحراف کے مترادف تھے بلکہ ان سے یہ بھی صاف ظاہر ہوتا تھا کہ نئی دہلی سے تعلقات کو نئی جہتوں پر استوار کرنے کے لیے اس کی طرف ایسے یکطرفد جھکائو سے کام لیا جارہا ہے جو کہ عمومی طور پر ہماری حکومت کی کمزوری کو ظاہر کرنے کی کوشش کرتا تھا۔ پاکستان میں نافذ ہونے والی تمام ترسیاسی طاقتیں اور حکومتیں ہر سطح پر اس مسئلہ کی تکمیل اور خاتمہ کے لیے کوشاں رہے ہیں۔ موجودہ دور حکومت میں خود کشمیریو ں نے بھارتی مظالم سے تنگ آکر اپنی جدوجہد کو آگے بڑھانے کے لیے ایک ایسا لائحہ عمل اختیار کیا ہے کہ خود بھارتی لوگ سبھا کے بعض ارکان اور وادی کشمیر کے کٹھ پتلی حکمران مل کر یہ کہنے پر مجبو ہوگئے ہیں، کہ بھارت جتنی جلدی ہو سکے اپنی فوجیں کشمیر سے با ہر نکال لے یہ عمل ان کے لیے بہتر ہوگا۔اس صورتحال میں نہ بھارت کشمیر پر اپنا غاصبانہ قبضہ زیادہ دیر برقرار رکھ سکتا ہے نہ عالمی برادری کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ یہ سب کلچر دیکھتے ہوئے خاموش تماشائی بنی رہے۔اس لیے مسئلہ کشمیر کو کشمیری عوام کی امنگوں اور اقوام متحدہ کی قرار داروں کے مطابق حل کرانے کے لیے کوئی موثر قدم اٹھانا ہی پڑے گا۔
حیرت اس بات پر ہے کہ کشمیر کے بارے میں اقوام متحدہ کی قرار داروں کا 63 برسوں سے مسلسل مذاق اڑانے والا مجرم اور سفا ک قاتل بھارت اب اس بات کا خواہاں ہے کہ اسے سلامتی کو نسل میں مستقل نشت دے دی جائے اور علاقائی وعالمی مفادات رکھنے والے بعض ممالک اس مقصد کے لیے اس کی پیٹھ بھی ٹھونک رہے ہیں۔ لیکن اگر اقوام متحدہ کی قرار داروں کو پائوں تلے روند دینے والے ایک ملک کو اس ادارے میں مستقل نشت دینے کا اہتمام کر لیا گیا تو اس سے نہ صرف دنیا بھر میں غاصب اور سہوتی ظالم قوموں کی اپنے محکموں پر عرصہ حیات تنگ کرنے کی شہ ملے گی بلکہ یوں اس دنیا میں تمام انسانی حقوق سے وا بستہ اداروں کا کردار گندہ ہوگا خود اقوام متحدہ کا اپنا وقار بھی متاثر ہوئے بغیر رہ سکے گا۔ یہ خطر ناک صورتحال اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ پاکستانی ارباب اختیار زمینی حقائق کا ادراک کریں اور بھارتی حکمرانوں کی جانب سے گاہے بگاہے چھوڑے جانے والے شوشوں سے متاثر ہوکر اپنے اصولی موقف کو کسی قیمت پر ترک نہ کریں اور کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی قرار داروں کے مطابق استصواب را ئے کے ذریعے حق خودارادیت دلانے کے لیے اپنی جدوجہد کو پوری قوت اور استقامت کے ساتھ اس طرح سے آگے بڑھائیں کہ بھارت کے لیے اس سے انحراف کا کوئی راستہ باقی نہ رہے۔
کشمیر کی جلتی ہوئی وادیوں میں اپنے تن من دھن سے بڑھ کر اپنی جان اور آبروکی قربانیاں دینے والے یہ نہتے لوگ پوری دنیا میں بسنے والے حکمرانوں کو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہتے ہیں کہ ان کی بے بسی اور بدحالی کا تماشا نہ دیکھا جائے بلکہ ان کے زخموںپر مرحم رکھنے والا کوئی تو ہمدرد اور ہمنوا پیدا ہوجائے جو اس دنیا میں جہنم کی زندگی اور طاغوتی طاقتوں کے چنگل سے نجات دلائے اور دنیا میں اس مسئلہ کے خاتمہ سے نہ صرف حق کا بول بالا ہوتا ہے بلکہ انسانی حقوق اورانصاف کی عملی طور پر تکمیل بھی ہو جاتی ہے۔
صدائے کشمیر
دوستو پھر غم دوراں نے پکارا ہے تمہیں
یم بہ یم شورش طوفاں نے پکارا ہے تمہیں

یہ بھی پڑھیں  جھنگ:شاہ جیونہ ٹکسٹائل ملز کے مزدوروں کو تنخواہیں نہ ملنے پر چوتھے روز بھی دھرنا جاری

تم کو پھر جنت کشمیر نے دی ہے آواز
وادی شعلہ بد اماں نے پکارا ہے تمہیں

یہ بھی پڑھیں  پاکستان کا نیوزی لینڈ سے ہوم سیریز کے شیڈول کا اعلان

سرفر وشانہ گھٹاٹوپ اندھیروں میں بڑھو
اک چراغ تہ داماں نے پکارا ہے تمہیں

یہ بھی پڑھیں  پنجاب میں کورونا کے 90 فیصد مریض معمولی نوعیت کے ہیں: وزیر صحت

دیکھنا وقت کی رفتار نہ تھمنے پائے
ایک مستقبل تاباں نے پکارا ہے تمہیں

ٹوٹنے ہی کو ہے افسوس سلاسل یا رو
اے خوشاقوت ایمان نے پکارا ہے تمہیں

خر من کفر پہ پھر بن کے گرو برق بلا
اب نہ گھبرائو کہ یز داں نے پکارا ہے تمہیں

را ہر وترک سفر کا نہ ارادہ کرنا
آج خود منزل جاناں نے پکارا ہے تمہیں

بڑھ کے ہر اہرمن وقت سے ٹکڑا جائو
غیرت خون شہیداں نے پکارا ہے تمہیں

تہنیت باد کہ اے خاک نشیناں وطن
تاج اورنگ سلیماں نے پکارا ہے تمہیں

تم کوہمت کی قسم تم کو شجاعت کی قسم
ہمد مو آئو کہ طوفاں نے پکارا ہے تمہیں

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker