شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / کشمیری رپورٹ

کشمیری رپورٹ

جموں و کشمیر کونسل فار ہیومن رائٹس نے بھارتی جیلوں میں کشمیری قیدیوں پر بہیمانہ تشدد اور غیر انسانی سلوک کی ابتر صورتحال پر ایک مفصل رپورٹ جنیوا میں اقوام متحدہ کے ہیومن رائٹس کمیشن کے36ویں اجلاس میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو پیش کی ہے اور سیکرٹری جنرل کی ہدایت پر اس رپورٹ کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی دستاویز کا حصہ بنایا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی دستاویز کی حامل JKCHRکی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی حکومت نے کشمیریوں کو بھارت کی مختلف دور دراز کے علاقوں کی جیلوں میں قید کر رکھا ہے اوربھارتی جیلوں میں قید ان کشمیریوں کی اکثریت سیاسی قیدیوں کی ہے جنہیں جھوٹے مقدمات میں گرفتار اور قید کیا گیا ہے۔

بہپورہ ڈاؤن ٹاؤن سرینگر کے رہائشی42افراد نومبر2005کو گرفتار کئے گئے اور انہیں12سال کے بعد عدالتی کاروائی کے ذریعے 16فروری2017کو تہاڑ جیل سے رہا کیا گیا۔ان افراد نے بتایا کہ انہیں تہاڑ جیل میں قید کے دوران ایک دوسرے کے منہ میں پیشاب کرنے پر مجبور کیا گیا،روٹی کے ساتھ پیشاب اور انسانی فضلہ کھانے پر مجبور کیا گیا،ان کی شلواروں میں چوہے ٖڈالے گئے،کشمیری قیدیوں کے منہ پر گندگی مل کر سور سے ان کے منہ چٹوائے گئے۔ان میں سے ایک قیدی ،محمد حسین فاضلی نے 20فروری 2017کو پریس کے نام اپنے بیان میں بتایا کہ گرفتاری کے وقت میری عمر30سال تھی اور اس وقت میرے گھر والے میری شادی کی تیاری کر رہے تھے۔اب میری عمر43سال ہے او ر تہاڑ جیل میں قید کے ان 12سالوں میں نے اپنے گھر والوں کی شکل نہیں دیکھی کیونکہ مالی مشکلات کی وجہ سے میرے گھر والے اس قابل نہیں کہ وہ کشمیر سے دہلی جا کر جیل میں مجھ سے مل سکتے،وکیل کو فیس دینے کے لئے میرے خاندان کو شدید مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا،مجھے اپنی زندگی کے 12سال جیل کی قید میں رہنا پڑا،مجھے اپنی ماں ،فاطمہ کی صحت کی مصیبت زدہ حالت دیکھ کر بڑا صدمہ ہوا،مجھے معلوم نہ تھا کہ میری قید سے میرے والدین کو اتنے مصائب اور صدمے سے گزرتے ہوئے اس ابتر حالت کا سامنا کرنا پڑے گا،میری ماں کو میرے قید ہونے کے صدمے سے برین ہیمرج ہو گیا،ماں کے جسم کا ایک حصہ معذور ہو گیا ، اس کی یہ حالت دیکھ کر میں ٹوٹ کر رہ گیا ہوں۔

یہ بھی پڑھیں  مسلمان ایک جسم کی مانند ھیں

اس وقت جبکہ بھارتی حکومت نے اقوام متحدہ کے کمشنر ہیومن رائٹس کی طرف سے اقوا م متحدہ کی ٹیم کو کشمیر میں رسائی دیئے جانے کی درخواست کو مسترد کیا ہے اور کشمیر کا دورہ کرنے کے حوالے سے’او آئی سی ‘ کی طرف سے اقوام متحدہ کے غیر جانبدار مستقل ہیومن رائٹس کمیشن(IPHRC)کو کشمیر میں وسیع پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے واقعات اور صورتحال کا جائزہ لینے ،تحقیقات کرنے کی اجازت دینے کے مطالبے سے بھی بھارتی حکومت نے انکار کیا ہے۔یوں وادی کشمیر کے لوگوں کو بھارتی فورسز کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے جو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور ا صولوں کے برعکس کشمیریوں کے خلاف ظلم و جبر کا ہر حربہ استعمال کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں  اب ضد چھوڑو

JKCHRکے صدر ڈاکٹر سید نزیر گیلانی نے بھارتی جیلوں میں قید کشمیری قیدیوں کی حالت زار سے متعلق اس رپورٹ کے حوالے سے کہا ہے کہ بھارتی حکومت کشمیر میں چومکھی لڑائی لڑتے ہوئے کشمیریوں کو بے بس ،بے اختیار کرنے کا ہر طریقہ استعمال کر تے ہوئے کشمیریوں کو جیلوں میں بھر رہی ہے۔بڑی تعداد میں کشمیریوں کو بھارتی جیلوں میں قید کیا گیا ہے ۔دہلی کی تہاڑ جیل میں سب سے زیادہ کشمیری قید میں رکھے گئے ہیں اور بھارت کے دور دراز علاقوں کی جیلوں میں بھی کشمیریوں کو قید میں رکھا گیا ہے۔خاص طور پر بھارت سے آزادی کی جدوجہد اور بھارتی ظلم و جبر کی مزاحمت کرنے والے کشمیریوں کوکشمیر کے جغرافیہ سے غائب کرنے کے لئے انہیں بھارت کی مختلف جیلوں میں قید رکھا گیا ہے۔ان کشمیری قیدیوں کے گھر والے مالی وسائل نہ ہونے کی وجہ سے ،سالہا سال سے ان سے ملاقات نہیں کر سکتے ۔ڈاکٹر سید نزیر گیلانی نے کہا کہ بھارتی جیلوں میں بہیمانہ تشدد اور بدترین غیر انسانی سلوک کا نشانہ بننے والے کشمیری قیدیوں کو قانونی چارہ جوئی اور ان کے گھر والوں کی معاونت کا کوئی طریقہ کار وضع نہیں ہے اور انہیں بھارت کے ظلم و ستم کے سامنے بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا ہے۔ڈاکٹر گیلانی نے کہا کہ ایسا نظام وضع کرنے کی اشد ضرورت ہے کہ جس سے ان کشمیری قیدیوں اور ان کے گھر والوں کی مدد اور معاونت کے لئے ایک طریقہ کار وضع کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک ایک کشمیری کے خلاف 41،41ایف آئی آرکاٹی گئی ہیں۔قید کئے جانے والے کشمیری کے گھر والے اپنے اثاثے بیچ کر ایک سال میں بمشکل ایک مقدمے میں ان کی ضمانت کراتے ہیں تو انہیں دوسرے مقدمے میں گرفتا ر کر لیا جاتا ہے۔ڈاکٹر سید نزیر گیلانی نے کہا کہ ہم بھارت کے بدترین ظلم و تشدد کا نشانہ بننے والے ان کشمیریوں سے لاتعلق ہو کر بیٹھے ہیں،کشمیریوں کے خلاف ان بدترین معاشرتی مظالم کا خیال کرنا اور اس کاتوڑ کرنا ہمارا فرض ہے۔

یہ بھی پڑھیں  اوکاڑہ :عوام کو ملاوٹ سے پاک اور حلال اشیائے خوردنوش کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے . امتیاز احمد خاں کھچی