اطہر مسعودوانیتازہ ترینکالم

وزیر اعظم آزاد کشمیر کی چوتھی کل جماعتی کشمیرکانفرنس

وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان کی طرف سے آزاد کشمیر کی سیاسی ،مذہبی جماعتوں کی طلب کردہ کانفرنس کے اعلامیہ میں ہندوستان کی طرف سے لائین آف کنٹرول کی خلاف ورزیوں اور آزاد کشمیر کے شہریوں کو نشانہ بنائے جانے کی مذمت کی گئی اور کہا گیا کہ ساری قیادت کی جانب سے وزیراعظم پاکستان کو تجاویز بند لفافے میں ارسال کی جائیں گی اور پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کے سربراہان کی آ ل پارٹیز کانفرنس منعقد کی جائے گی۔ ریاست جموں و کشمیر کی تمام اکائیوں آزاد کشمیر، گلگت بلتستان ، لداخ، اور مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام اور سیاسی جماعتوں کے درمیان موثر رابطہ اور  ریاست جموں و کشمیر کی سا لمیت ، وحدت اور تشخص پر کوئی سمجھوتہ نہ کئے جانے سے اتفاق کیا گیا۔
اعلامیہ میں یہ مطالبہ کیا گیا کہ آزاد حکومت کو تحریک آزادی کشمیر کے لئے موثر کردار ادا کرنے کے لئے زیادہ بااختیار بنایا جائے، آزاد کشمیر حکومت اور آل پارٹیز حریت کانفرس کا ایک مشترکہ پلیٹ فارم تشکیل دیا جانا چاہیے جو کشمیر کے مسئلہ کو عالمی سطح پر اجاگر کرے اور پالیسی ساز ادارے کے طورپر کام کرے۔اعلامیہ میںیہ بھی کہا گیا کہ حق خودارادیت کی جہدوجہد جاری رکھی جائے گی اور مقبوضہ جموں وکشمیر کے حریت پسند عوام کے ساتھ ہر طرح کا تعاون کیا جائے گا۔
مقبوضہ جموں و کشمیر میں ہندوستان کی طرف سے مسلسل انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں ، آبادی  کے تناسب ، مقبوضہ جموں وکشمیر کی حیثیت کو بدلنے اور ظلم و بربریت کی مذمت اور مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کی جہدوجہد آزادی میں قربانیوں اور نظر بند حریت قیادت کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔ مقبوضہ کشمیر میں قید حریت رہنمائوں کی زندگیوں کو درپیش خطرے کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ اقوام متحدہ کے تحقیقاتی کمیشن اور دیگر انسانی حقوق کے اداروں کو مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کا جائزہ لینے کی اجازت دی جائے اورحریت رہنمائوں کو ” انٹر نیشنل پر ٹیکٹڈ پرسنیلیٹیز” قرار د یا جائے۔
اجلاس میںآزاد کشمیر کے صدر مسعود خان،سابق صدور سردار محمد انور خان اور سردار یعقوب خان، سپیکر اسمبلی شاہ غلام قادر ، لیڈر آف دی اپوزیشن چوہدری محمد یاسین ، صدر مسلم کانفرنس مرزا شفیق جرال ، امیر جماعت اسلامی ڈاکٹر خالد محمود، پیپلز پارٹی کے رہنما محمد مطلوب انقلابی، جموں وکشمیر پیپلز پارٹی کے حسن ابراہیم ، تحریک انصاف کے خواجہ فاروق احمد ، امیر جمعیت علمااسلام جموں وکشمیر مولانا سعید یوسف ، صدر جمعیت اہلحدیث دانیال شہاب ،کنوینئر حریت کانفرنس گیلانی سید عبداللہ گیلانی، کنونئیرحریت کانفرنس میرواعظ سید فیض نقشبندی ،اسینئر رہنما حریت کانفرنس غلام محمد صفی ، مولانا امتیاز صدیقی ، چیئرمین پاسبان حریت عزیر غزالی ، پی این پی کے راجہ ذوالفقار،راجہ ذوالقرنین ، سفیر عارف کمال ودیگر نے شرکت کی ۔
وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر نے اجلاس سے خطاب میںکہا کہ 5اگست کے بعد سیاسی جماعتوں کی یہ چوتھی کانفرنس منعقد کی گئی ہے ، تحریک آزادی کشمیر کے لیے بطور کارکن ساری سیاسی قیادت کے پیچھے چلنے کو تیار ہوں ،سب سے مشاورت کے بعد متفقہ لائحہ عمل تشکیل دینگے ،مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کے پیش نظر ہمیں اپنی جدوجہد تیز کرنے کی ضرورت ہے،مقبوضہ کشمیر کے محکوم و محصور عوام سے لاتعلق نہیں رہ سکتے،کشمیریوں نے آزادی کے لیے بے پناہ قربانیاں دیں ،حریت قیادت نے جو مصائب و مشکلات برداشت کیں اس کا تصور بھی محال ہے،ہندوستان دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی ناکام کوشش کررہا ہے،حکومت ،ہر سیاسی جماعت ،سول سوسائیٹی اور بحثیت شہری ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ اس نازک مرحلے میں اپنا کردار ادا کریں ۔
حال ہی میںآزاد کشمیر کی ایک سیاسی پارٹی سے الگ ہو کر قائم ہونے والی نئی پارٹی کی طرف سے کہا گیا ہے کہ آزاد کشمیر حکومت کی طرف سے سیاسی جماعتوں کے مشاورتی اجلاسوں میں ان کی پارٹی کو بھی مدعو کیا جانا چاہئے۔آزاد کشمیر الیکشن کمیشن کے مطابق اس وقت آزاد کشمیر میں سیاسی جماعتوں کی تعداد44ہے۔جن میں چند ایک کو چھوڑ کر اکثریت غیر معروف جماعتوں کی ہے۔ان میں مذہبی اور فرقہ وارانہ سیاسی جماعتیں بھی شامل ہیں۔ نمایاں سیاسی جماعتوں میں حکمران پاکستان مسلم لیگ (ن) پیپلز پارٹی، پاکستان تحریک انصاف ،مسلم کانفرنس، جماعت اسلامی ، جموں و کشمیر پیپلز پارٹی ،لبریشن لیگ،لبریشن فرنٹ اور دیگر چند ایک شامل ہیں۔اسمبلی میں شامل چار ،پانچ سیاسی جماعتوں اور الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ44سیاسی جماعتوں کے علاوہ میں متعدد دیگر سیاسی تنظیموں کے نام بھی کبھی کبھار سننے میں آتے ہیں۔آزاد کشمیر کی ان سیاسی جماعتوں میں کئی دلچسپ نام ہیں جن میں عام آدمی پارٹی اور میری اپنی پارٹی کے نام بھی شامل ہیں۔چند جماعتیں معمولی تبدیلی کے ساتھ ایک ہی نام سے بھی قائم ہیں۔اکثر سیاسی جماعتیں غیر معروف اور غیر موثر اور صرف کا غذات میں ہی ان کا وجود نظر آتا ہے۔وہ سیاسی جماعت ہونے کے تقاضوں سے یکسر محروم ہیں۔

یہ بھی پڑھیں  اعظم ہوتی کی ہرزہ سرائی اوراے این پی کی کاروائی

یہ بھی پڑھیے :

What is your opinion on this news?

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker