شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / کشمیر جنت ہے!

کشمیر جنت ہے!

کشمیر جس کو بابائے قوم محمد علی جناح ؒمرحوم و مغفور نے اسلامی جموریہ پاکستان کی شہ رگ قرار دیا۔ پاکستان کا ازلی دشمن بھارت جس نے پہلے دن سے ہی ہماری آزادی کو دل سے تسلیم ہی نہ کیا۔مکر و فریب اور چال بازیاں چلنے لگا کہ ”دو قومی نظریہ“ صرف سیاسی نعرہ تھا۔ حقیقت میں کچھ نہیں ہم کل بھی ایک قوم تھے، ہم آج بھی ایک قوم ہے اور آنے والے کل میں بھی ایک ہی قوم ہونگے، بھارت کی یہ بونگھیاں ہیں،یہ بات کسی دیوانے کا خواب تو ہوسکتی ہے حقیقت نہیں، پہلے دن سے ہی انڈیا نے پاکستان کے خلاف منفی ہربلے ا ستعمال کرنا شروع کر دیئے، جس کے نتیجہ میں ہمیں بہت نقصان اُٹھانا پڑااور پاکستان نقصان اٹھا رہا ہے جیسا کہ۔بھارت نے 1947-48 ء میں فوجی یلغار کر کے ہماری شہ رگ ”کشمیر“کو نہ صرف دبوچ لیا بلکہ ہمیں ماضی کی تلخ یادوں کی ورق گردانی پر بھی مجبور کر دیا۔
ہمارے وہ بزرگ باپ دادا اور انکے رفقاء جو یہ فانی دنیا چھوڑ کر اللہ پاک کے پاس چلے گئے ہیں، اللہ پاک ان کو کروٹ کروٹ راحت سکون اور اُنکی قبروں کی منازل کو آسان فرمائے۔وہ اور جو ابھی حیات ہیں، جو حیات ہیں اللہ انکی عمروں میں برکت فرمائے، وہ لمبے عرصہ تک زندگی کی بہاریں دیکھیں، اور۔۔ ہماری وہ مائیں بہنیں عزیزوا قارب جنہوں نے پاکستانی کی آزادی کے لئے ہر طرح کی قربانیاں دی ہیں۔ جن کے خاندانوں کے خاندان جلائے گئے۔ماؤں کے سامنے دودھ پیتے بچوں کو زندہ جلایا گیا۔باپ کے سامنے جوان بیٹیوں کو برہنہ کیا جاتا رہا۔ برہنہ ماوٗں بہنوں کو نچایا جاتا رہا،آزادی کی خاطر ہماری ماؤں بہنوں کو ننگے جسم تشد دکیا جاتا۔ ہماری ماؤں بہنوں کے جسم کے نازک حصوں کو چھریوں چاکوں اورتلواروں سے کاٹ کاٹ کر جسم سے الگ کیا جاتا، ہماری ماؤں بہنوں کوہوس کا نشانہ بناتے اور ہماری عزتوں کے جنازے اپنے شیطانی فعل سرانجام دینے کے لئے نکالتے رہے۔ہمارے خاندان ہماری جائیدادیں ہمارے کاروبار سب نظر آتش ہوتے رہے۔پاکستان کے معرض وجود میں آنے سے پہلے ہم پر قیامتِ صغریٰ برپا کی جاتی تھی! ۔اللہ پاک نے اپنا خصوصی فضل و کرم کر کے ہمیں آزادی جیسی نعمت سے سرفراز کیا۔ہمارے ازلی دشمن نے پہلے دن سے ہی کشمیر میں فوجی یلغار کر کے ہماری شہ رگ دبوچ لی۔۔مگر نہ ہمارے باپ دادا اور نہ ہی ہماری ماؤں کے حوصلے پست کر سکا۔اور انشائاللہ کبھی بھی ہماری سوچ ہماری فکر ہمارے دل و دماغ کوغلامی کا طوق نہیں پہنا سکتا کیونکہ ہمارے جسم میں دوڑنے والے لہو میں عشقِ مسطفیٰ ؐ ہے۔ ہمارے دشمن نے ہماری آزادی کو دل سے کبھی تسلیم ہی نہیں کیا۔جب پاکستان دنیا کے نقشہ پر ابھرا تو بھارت کو خونی پیچش لگ گئے۔ مرض بھڑتا گیا جوں جوں دوا کی کے مصدق دشمن اپنے پیچش کے ساتھ مروڑ لگ گئے کے افاقہ کے لئے اور اپنی مکروفریب کی چالوں کو عملی جامعہ پہنانے کے لیے یو این او گیا ، کشمیریوں کو ان کا بنیادی حق”آزدی“دینے کا جب حکم صادر ہوا تو یہ ظالم و فاسق بھارت آزادی کی بجائے کشمیرمیں گھراؤ جلاؤ اور کشمیر کے باسیوں کی آواز کو دبانے کے لئے ”کالے قانون“ کے تحت اپنے فوجیوں کو بے لگام کر دیا۔ جس سے بھارتی فوج کو کشمیریوں کا قتل عام کرنے، کشمیریوں کی ماوٗں بہنوں اور بیٹیوں کی عزت کو تار تار کرنے۔کشمیری خواتین کی عصمت ریزی کرنے کشمیری عورتوں کو برہنہ کر کے تشدد کرنے۔ کشمیر کی ماں بہن اور بیٹی کے جسم کے نازک حصوں کو نوچنے اور کاٹنے کا مشغلہ بنانے اور غیر فطرتی غیر اخلاقی ہتھ کنڈے استعمال کرنے، معصوم نو مولود بچوں ممتا کے سامنے زبح کرنے۔ معصوم پھولوں کو ماوٗں کے سامنے چیرنے پھاڑنے،جوان لڑکیوں کو اغوا کرنے کے بعد اجتماعی جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے،کشمیر کے بچہ بچہ کو قوم لوط کی بیماری میں مبتلا کرنے،کشمیر کی املاک کو آگ لگانے، کشمیر کے در و دیوار وں کو جلانے، لوٹنے سے لیکر کشمیریوں کے جسم کے زندہ جسموں کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے اور ہر وہ ظلم جو بھارت اور بھارتی افواج کشمیر اور کشمیریوں کے ساتھ کر سکتی ہے کر رہی ہے۔نصف صدی گزر چکی مگر بھارتی سرماوٗں کا ظلم جاری ہیں مگر دنیا میں نام نہاد امن کے ٹھیکیداروں کی آنکھیں نہیں کھلی کیونکہ نام نہاد امن کے ٹھیکیداروں کو حسد بغض اور الرجی ہیں کشمیر کے لوگوں سے۔ کیوں کہ کشمیر میں بسنے والے مسلمان ہیں جب تک مسلمانوں کے جسم میں روح محمد ﷺ ہے ہ اس وقت تک مسلمانوں کے جزبہ جہاد کو شکست دینا تو دور کی بات ہے کوئی مائی کا لعل ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا کیونکہ اگرمسلمان مر جائیں گئے تو شہید جو دینا جہاں کے تمام مسلمانوں کی دلی خواہش ہوتی ہیں اور اگر بچ جائیں تو غازی۔ رہا مسلۂ کشمیری مسلمانوں کا تو سن لو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آج وقت ہے سن لو۔۔۔۔۔۔۔ اگر سن سکتے ہو؟
مسلمان ایک ایسی مخلوق کا نام ہے جو دنیا میں امن سلامتی اور بھائی چارے کا درس بھی دیتا ہے اور تربیت بھی دیتا ہے۔مسلمانوں کا دین اسلام ہے اور دین اسلام وہ دین ہے جو سارے جہانوں کے مالک رازق اور خالق کا پسندیدہ دین ہے۔ یعنی اللہ رب العزت کا پسند کیا ہوا دین ہے۔ تاریخ کی ورق گردانی کرنے سے بھارتی ہندوٗوں،بھارتی دانشوروں،بھارتی پالیسی سازوں کو خوب علم ہے،اللہ رب العزت وہ عظیم الشان رب ہے جو چڑیا سے باز مرواتا ہے؟ جس کے ایک اشارے سے زمین کو الٹ دیا جاتا ہے۔ جو آسمان سے پتھروں کی بارش کر سکتا ہے۔جو زندہ کو مردہ اور مردوں کو زندہ کرتا ہے،اللہ تعالیٰ کی عظیم ہستی وہ ہے جو جب ارادہ کرتا ہے تو کہ دیتا ہے ہوجا تو وہ چیز ہوجاتی ہے، وہ جب کسی چیز کہتا ہے مٹ جا تو وہ مٹ جاتی ہے۔اس سے پہلے کہ کسی مظلوم، کسی بے بس، کسی دکھی،کسی ماں کی اجڑی گود کی ممتا، کی دعا عرش خدا کو ہلا دے توکون ہے جو تجھ کو نست و نمود سے بچا سکے۔یہ سچ ہے کہ تو نے اپنی طاقت کے بل بوتے پر مظلوم کشمیریوں کے حق پر ڈاکہ ڈال کر انکو جسمانی طور پر غلام بنایا ہوا ہے مگر نصف صدی سے زیادہ عرسہ بیت چکا مگر بھارتی افواج کا کوئی بھی ظلم ان کو زہنی غلام نہ بنا سکا۔شاید مفر اسلام علامہ ڈاکٹر محمد اقبال نے اسی لئے کہا تھا۔۔۔
تو کافر ہے تو کرتا ہے شمشیر پر بھروسہ
؁ جو قومیں دماغی غلام نہیں ہوتیں آزادی اُن کا مقدر ہوتی ہے
کشمیری کل بھی ذہنی غلام نہیں تھا اور آج بھی دماغی طورپر آزاد ہے۔یا درکھو کشمیر کی ذہنی آزادی ثابت کرتی ہے کہ۔ایک دن نہرو، پنڈت اور گاندھی تو کیا انکے باپوں کی جیتابھی دے گئی کشمیر کو آزادی۔۔۔۔۔ کیونکہ کشمیر جنت ہے۔۔۔۔ اور جنت کفار کے لئے نہیں۔۔۔۔۔۔بلکہ مسلمانوں اور مومنوں کے لئے ہے۔

یہ بھی پڑھیں  چیف الیکشن کمشنربااعتماد انسان ہیں جب کہ چاروں صوبائی ارکان متنازع ہیں ،شاہ محمود قریشی