شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / اطہر مسعودوانی / کشمیر پر پسپائی کا تسلسل، حکمت عملی ہے یا پالیسی؟

کشمیر پر پسپائی کا تسلسل، حکمت عملی ہے یا پالیسی؟

پاکستان انتظامیہ کی طرف سے مسئلہ کشمیر سے متعلق ایسے کون کونسے اقدامات ہیں جس سے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کی پسپائی اور کمزور سے کمزور تر پوزیشن کو اختیار کیا جانا نظر آتا ہے۔ ہم تاریخ میں نہیں جاتے کہ مسئلہ کشمیر کی حیثیت نظر انداز کرتے ہوئے انڈیا کے ساتھ سندھ طاس معاہدہ بالواسطہ مقبوضہ جموں وکشمیر پر انڈیا کے قبضے کو تسلیم کرنا تھا۔ یا اس سے پہلے اور اس کے بعد مسئلہ کشمیر کے حوالے سے کیا کیا ایسے اقدامات کئے گئے جن سے کشمیریوں کی آزادی کی جدوجہد کو نقصان پہنچا اور مسئلہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان کی پوزیشن بھی کمزوری کی طرف سفر اختیار کرتی چلی گئی۔کشمیر کی تازہ ترین صورتحال یہ ہے کہ پاکستان انتظامیہ کی طرف سے مسلسل یہ خطرہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پلوامہ کی طرح کا کوئی واقعہ رونما ہو سکتا ہے اور انڈیا آزاد کشمیر ،گلگت بلتستان پر حملہ کر سکتا ہے۔عام پاکستانی تو یہ سوچتا ہے کہ کشمیریوں کی تیس سال کی عسکری ،سیاسی اور سفارتی جدوجہد کے نتیجے میں صورتحال پاکستان کے حق میں ہو گی لیکن جب وہ پاکستان انتظامیہ کو کشمیر میں ایسی دفاعی پوزیشن اختیار کئے دیکھتا ہے کہ جس میں الٹا انڈیا کے حملے کے ہی خطرات بیان کئے جا رہے ہیں، تو وہ حیران رہ جاتا ہے۔ہر بڑا واقعہ بہت سے چھوٹے واقعات کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اسی طرح آج کشمیر پر انڈیا کی بڑی جارحیت ، گزشتہ دو ،تین عشروں کے دران پاکستان کی کشمیر پر پسپائی کے متعدد اقدامات ، خامیوں،خرابیوں کی داستان بھی بیان کرتی ہے۔ کشمیریوں کی تحریک کے لئے بڑے نقصانات کے موجب ا مور، نکات اورواقعات کا احاطہ کیا جانا نہایت اہمیت کا حامل معاملہ ہے تا کہ کشمیریوں کی جائز تحریک آزادی کو تقویت پہنچانے کے ساتھ ساتھ اس کے خلاف ناجائز الزامات کو بھی زائل کیا جا سکے۔

جب 1990کے بعد پاکستان میں اقتدار سے ہٹانے اور حکومت میں لانے کی گیم” میو زیکل چیئر” کے انداز میں جاری تھی،اس وقت مقبوضہ کشمیر میں کشمیری فریڈم فائٹرز کے خاتمے کا عمل تیز سے تیز ہو رہا تھا۔کشمیریوں کی مسلح مزاحمت کو اتنا مضبوط نہیں ہونے دیا گیا کہ وہ حقیقی طور پر انڈیا کے قبضے کے خلاف ایک بڑا خطرہ بن سکے۔ نت نئی عسکری و سیاسی تنظیموں کے قیام سے کشمیریوں کی اس جدوجہدکا چہرہ خراب کر دیا گیاجو1988کے بعد سیاسی اور عسکری طور پر کشمیر کی آزادی کا پرکشش چہرہ بن گئی تھی۔فرقہ وارانہ گروپس کا استعمال اور تنظیموں کی آپس کی لڑائیاں بھی کشمیریوں کی مسلح مزاحمت کو اس حد تک محدود رکھے جانے کی کوشش کے طور پر دیکھی جاتی ہیں کہ مقبوضہ کشمیر میں ” ریچھ کو صرف سوئیاں ماری جائیں”، اس پالیسی کے متعلق کہا گیا کہ ” انڈیا بلیڈ کرے گا” لیکن حقیقت یہی تھی کہ سوئی سے ریچھ کر تنگ اور مشتعل تو کیا جا سکتا ہے لیکن اس حکمت عملی سے ریچھ کو لہو لہان نہیں کیا جا سکتا۔کبھی حریت کا ایک گروپ پاکستان انتظامیہ کا پسندیدہ اور دوسرا حریت گروپ پسندیدگی کا کمتر درجہ پاتا اور کبھی دوسرا گروپ پہلے گروپ کی جگہ پر رکھ دیا جاتا۔کشمیریوں کی مسلح اور سیاسی مزاحمت بھی کنٹرولڈ طور پر نظر آتی رہی۔۔

یہ بھی پڑھیں  دسمبر، ستمگر اورخون زدہ پھول

انڈین پارلیمنٹ پر حملہ ، لال قلعہ حملہ ، ممبئی حملہ ، پٹھان کوٹ حملہ ۔ ان حملوں سے کشمیریوں کی جائز جدوجہد آزادی کو عالمی سطح پر شدید نقصان پہنچا۔ اس سے پہلے مغرب میں کشمیریوں کی مزاحمت کو آزادی کی جدوجہد کے طور پر دیکھا جا رہا تھا لیکن ان حملوں کے بعد اس حوالے سے عالمی سطح پر صورتحال یوں تبدیل ہوئی کہ انڈیا کے بیان کی طرح دہشت گردی کہا جانے لگا۔ انڈیا کی طرف سے حافظ سعید اور مولانا اظہر پر اس کے الزامات لگائے گئے۔پاکستان ان حملوں سے لاتعلقی کا اظہار کرتا آیا ہے۔امریکہ کی طرف سے حافظ سعید ،مولانا اظہر کی تنظیموں پر پابندی کے بعد پاکستان انتظامیہ نے بھی ان تنظیموں پر پابندی لگائی ہے۔ پٹھان کوٹ حملے سے متعلق پاکستان نے انڈیا کو خفیہ معلومات دیں۔ کچھ ہی عرصہ قبل انڈیا کے حکام نے کہا کہ پاکستان نے پلوامہ طرز کے حملے کی اطلاع دی ہے۔ انڈیا کے اس بیان کی پاکستان کی طرف سے تردید نہیں کی گئی۔پاکستان میں عام شہری حیران ہوتے ہیں کہ انڈیا میں ہونے والے ان حملوں سے پاکستان یا کشمیریوں کو کوئی فائدہ ہونے کے الٹا نقصان ہی ہوا، کشمیریوں کی جدوجہد کو دہشت گردی بھی کہا جانے لگا اور پاکستان کی پوزیشن بھی عالمی سطح پر کمزور اور بدنام ہوئی۔ واضح طور پر انڈیا میں ہونے والے ان حملوں سے انڈیا کو ہی کئی حوالوں سے بنیادی اور دوررس نتائج پر مبنی فائدے حاصل ہو ئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں  خون کا عطیہ!

پاکستان انتظامیہ ان حملوں میں کسی بھی طور ملوث ہونے سے انکار کرتی ہے تاہم اسی حوالے سے حافظ سعید اور مولانا اظہر وغیرہ پر پابندیاں بھی عائید کی جاتی ہیں۔انڈیا میں ہونے والے وہ حملے تو پاکستان اور کشمیریوں کی مزاحمتی تحریک کے خلاف ایک بڑی سازش کے طور پر نظر آتے ہیں، پھر اس حوالے سے پاکستان میں چھان بین کیوں نہیں کی گئی کہ ان حملوں کو کرانے والے کون ہیں جو کشمیریوں اور پاکستان کے خلاف انڈیا کے ہاتھ مضبوط کر رہے ہیں؟

کر گل وار کو جہاں مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کی طرف دونوں ملکوں کی بڑی پیش رفت کو سبو تاژ کرنا کہا جاتا ہے، وہاں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ کرگل سے مسئلہ کشمیر دنیا میں اجاگر ہوا ۔ اعلان لاہور کو ناکام بنانے کے لئے کرگل لڑائی کا الزام سب سے نمایاں اور وزن رکھتا ہے۔ سابق آمر حکمران پرویزمشرف کی طرف سے انڈیا کو کشمیر میں کنٹرول لائین پر باڑ لگانے کی اجازت دے دی گئی جس سے کشمیر کے خطے اور لوگوں کو جبری جدا کرنےوالی تقسیم کو عملی شکل دیتے ہوئے مضبوط بنایا گیا( مشرف نے کہا تھا کہ باڑ کی کوئی اہمیت نہیں،یہ لڑائی میں اڑا دی جا سکتی ہے،لیکن ایل او سی پر گولہ باری کے تبادلے کے مسلسل واقعات کے باوجود باڑ کے کسی بھی حصے کی تباہی کی آج تک کوئی اطلاع سامنے نہیں آ ئی)۔اس کے ساتھ ہی کشمیریوں کی جدوجہد کے خلاف دوسرا بڑا اقدام یہ کیا گیا کہ مقبوضہ کشمیر میں انڈیا کے خلاف مسلح مزاحمت کرنے والوں سے پاکستان کو لاتعلق ظاہر کرتے ہوئے آزاد کشمیر میں کشمیری فریڈم فائٹرز کے ہر قسم کے کیمپ بند کر دیئے۔ یہ اس وقت کے حکمران مشرف کی بھیانک غلطی ثابت ہوئے کہ اس نے انڈیا کی طرف سے چار نکاتی فارمولے کا ”سبز باغ” دکھانے پر ،کسی معاہدے سے پہلے ہی ،کشمیریوں کی مسلح جدوجہد سے پاکستان کی لاتعلقی کا اقدام کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال انڈیا کے حق میں کرنے میں بڑی مدد فراہم ہوئی۔اور اس سے کشمیریوں کی مسلح جدوجہد کی بنیادیں منہدم ہو گئیں۔ کشمیر پر پاکستان انتظامیہ کی پسپائی کے انہی اقدامات سے انڈیا یہ مطالبہ کرنے لگا کہ کشمیر میں ” دہشت گردی” (تحریک آزادی)کے خاتمے کے لئے پاکستان تعاون کرے۔

یہ بھی پڑھیں  جنید جمشید نے اپنی اہلیہ کو ایسی بات کہی، مولانا طارق جمیل کا ایسابیان کہ آپ کی آنکھیں بھی نم ہوجائیں گی

عام شہری اس بات پہ بھی حیران ہوتے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر میں انڈیا کی بدترین فوج کشی اور مقبوضہ ریاست کو انڈیا میں مدغم کرنے کے بڑے جارحانہ اقدام کے باوجود عالمی برادری کی طرف سے اس معاملے کو سنگینی کے باوجود اہمیت کیوں نہیں دی جاتی۔عالمی برادری جب دیکھتی ہے کہ مسئلہ کشمیر پر پاکستان کی تشویش خطرے کے نشان تک نہیں پہنچتی تو وہ بھی مطمئن ہو جاتے ہیں۔ یعنی عالمی دلچسپی اسی وقت ظاہر ہو سکتی ہے کہ جب پاکستان مسئلہ کشمیر کے حوالے سے عملی اقدامات کے حوالے سے سخت سٹینڈ لیتا نظر آئے۔ عالمی سطح پر سرگرم سفارتی مہم کے کئی بار اعلانات کے باوجود عالمی سطح پر ایسا ہوتا نظر نہیں آیا۔اب کی صورتحال کے مطابق کشمیر سے متعلق،انڈیا کے خلاف پاکستان انتظامیہ کی کمزور پوزیشن تشویش کا باعث ہے۔اس صورتحال میں یہی سوال ذہن میں آتا ہے کہ کشمیر پر انڈیا کے سامنے مسلسل پسپائی کب تک اور کہاں تک؟ کیا پسپائی کی کوئی آخری حد مقرر کی گئی ہے ، کیا کوئی ایسی لائین طے کی گئی ہے کہ جس سے پیچھے ہٹنا کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا ؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ پسپائی کو ایک موثر حکمت عملی کے طور پر کامیاب حربہ سمجھتے ہوئے مستقل پالیسی کے طور پر اپنا رکھا ہو۔

What is your opinion on this news?