ایس ایم عرفان طا ہرتازہ ترینکالم

شعبہ کشمیرسٹڈی عدم توجہی کاشکار

حضرs m irfan thairب علمو ں کے حا لا ت تعلیم کے نا قص ہو نے کا ثبو ت ہے ۔ آج کا طا لب علم ، علم سے بیزار ہے ۔ آج وہ استا د کہا ں ملیں گے ، جو طا لب علمو ں کو فیض نگاہ سے آداب فر زندی سکھا تے تھے ۔ آج کے طا لب علم کی تعلیم نے علم کی محبت چھین لی ہے ۔ ابھی وقت ہے ۔ پانی سر سے نہیں گزرا اس کا تدا رک ہو نا چا ہیے ۔ بد علمی سے بے علمی ہی بہتر ہے ۔
ہما ری سب سے بڑی بد قسمتی شاید یہی ہے کہ ہما رے جس شعبہ سے متعلقہ علم رکھنے والے افراد یا ایکسپرٹ موجود ہیں انہیں ان کے شعبہ سے مکمل طور پر ہٹا کر ایڈجسٹ کر نے کی کو شش کی جا تی ہے ۔ معیا ر تعلیم و تربیت کی محرومی و مجبو ری کا اندازہ اس امر سے بھی لگا یا جا سکتا ہے کہ والدین ، اساتذہ اور معا شرے میں اثر و رسو خ اور اتھا رٹی کے حامل افراد جس شعبہ میں ایک شخص دلچسپی یا کما نڈ رکھتا ہے اس سے ہٹا کر ہی اس کی صلا حیتو ں کو زائل کر نے کی کو شش کی جا تی ہے ۔ اوپر سے لیکر نیچے تک یہ رسم اور پالیسی ہما رے اندر سراعیت کر چکی ہے جو شخص مذ ہبی حوالہ سے بنیا دی اصول و ضوابط اور قوانین کو سمجھتا یا جا نتا ہی نہیں ہے اسے مذہب کا ٹھیکیدا ر بنا دیا جا تا ہے دنیا وی اور سیاسی اعتبا ر سے دیکھا جا ئے تو جو ممبر اسمبلی مذہبی رمو ز و اوقاف سے نا واقف ہو جان بو جھ کر اسے ہی وزارت مذہبی امور سونپ دی جا تی ہے جو تعلیمی اعتبا ر سے تجربا ت نہیں رکھتا اور شعبہ تعلیم سے دور کا بھی واسطہ نہیں رکھتا ہے اس کے زیر سائیہ کئی پڑھے لکھو ں کا مستقبل تا ریک کیا جا تا ہے جو ٹریفک کے قوانین سے واقفیت نہیں رکھتا ڈرائیو نگ کا ایکسپرٹ نہیں ہو تا ہے وزارت ٹرا نسپو رٹ سونپ دی جا تی ہے غرضیکہ تمام شعبہ جا ت میں مس فٹ افراد کو فٹ کر نے کی نا کام کو شش کی جا تی ہے حالا نکہ اگر متعلقہ شعبے اور ہنر سے معلقہ افراد کو ہی پر مو ٹ کیا جا ئے تو نہ صرف اس کے نتا ئج مثبت حاصل ہو سکتے ہیں بلکہ کئی ایک پیچیدگیو ں ، پر یشانیو ں اور مسائل سے بھی بچا جا سکتا ہے بیر ونی دنیا میں بچپن سے ہی ر حجان اور دلچسپی کے پیش نظر ہی شعبہ جا ت کا انتخا ب کیا جا تا ہے جو شخص جس شعبہ اور ادارہ کے لیے مکمل طور پر فٹ اور قابل قبول ہوتا ہے اسی کو وہا ں ایڈجسٹ کیا جا تا ہے اور اپنی من مرضی اور منشاء کے مطابق نتا ئج حاصل کیے جا تے ہیں ۔ آزاد کشمیر یو نیو رسٹی مظفرآباد اپنی اہمیت و حثیت میں ایک جد اگا نہ مقام کی حامل ہے جہا ں سے کئی نا بغ روز گا ر شخصیا ت ، سیاست دان ، اساتذہ ، وکلا ء ، ڈا کٹرز اور مختلف شعبو ں سے متعلقہ افراد مستفید ہو رہے ہیں اور اپنی اپنی دلچسپی اور ڈیما نڈ کے مطابق تعلیمی سرگرمیا ں جا ری رکھے ہو ئے ہیں یو نیو رسٹی کے قواعد و ضوا بط کے مطابق جس متعلقہ شعبہ کا ٹیچر یا پر وفیسر ہو انہی علو م اور شعبہ سے متعلقہ گر فت ہو نا بھی ضروری ہے ۔ یہا ں پر سائنس کا پر وفیسر سائنسی تعلیم میں مہا رت رکھنے والا ہو نا چا ہیے کا مرس کی تعلیم دینے والا کا مرس کے شعبہ میں ایکسپرٹ ہو نا چا ہیے اور دینی تعلیم یا شعبہ اردو سے متعلقہ استاد ان دونو ں علوم پر مہا رت اور دسترس رکھنے والا ہو گا تو آگے طلبہ و طالبا ت کو بھی بہتر ما حول اور علم مل سکے گا کشمیر سٹڈی جس کی اہمیت ہر دور میں اپنے آ ب و تاب کے ساتھ بڑھتی جا رہی ہے اور جس شعبے پر ہر کشمیری طالب علم کو عبور بھی حا صل ہو نا چا ہیے لیکن بلا شبہ وزارت امور کشمیر کی طرح کشمیرسٹڈی کے شعبہ میں بھی اس پر گر فت اور عبور رکھنے والو ں کے متضاد افراد کو یہا ں ایڈجسٹ کیا گیا ہے ۔ جو نہ تو اس شعبہ سے متعلقہ ڈگری رکھتے ہیں اور نہ ہی ان کی قا بلیت اس شعبہ سے وا بستہ ہے ایک پولیٹیکل سائنس کے پر و فیسر کو انسٹی ٹیو ٹ آف کشمیر سٹڈی کا ڈائر یکٹر تعنیا ت کیا گیا ہے جبکہ ایسوسی ایٹ پر فیسرز اور اس شعبہ میں موجود تمام عملہ کو ئی آرٹس سے متعلقہ ہے تو کوئی ڈیفنس سٹیٹجی سے فارغ التحصیل ہے یعنی اس اہم شعبہ میں بھی سیاسی اثرات نمایا ں دکھائی دیتے ہیں کشمیر سٹڈی کے شعبہ سے یہ نا انصافی مہنگی پڑ سکتی ہے ۔نظم و نسق کی عدم موجودگی اور میرٹ کی صورتحال کو مد نظر نہ رکھنے سے اس متعلقہ شعبہ سے وا بستہ افراد اپنی تعلیم مکمل کر نے اور اہلیت کے با وجود بھی در بدر کی ٹھو کریں کھا رہے ہیں چانسلر آزادکشمیر یو نیورسٹی و صدر ریا ست سردار محمد یعقوب خان جن کی خدما ت کے عوض اور شخصیت کے مطابق کشمیر کا بڈ ھ شاہ اور مہا تیر محمد کہا گیا ہے ان کو خاص دلچسپی لیکر اس اہم معاملہ کو ضرور نمٹا نا چا ہیے وائس چا نسلر اور اعلیٰ حکام کی تو جہ بھی اس طرف مرکوز ہو نی چا ہیے کہ شعبہ تعلیم کے اندر ایسی نا انصا فی اور بے قا عدگیا ں درست عمل نہیں خدارا اس ایک شعبہ کو تو سیاست کی بھینٹ نہ چڑھایا جا ئے اس سیاسی اور ذاتی کشمکش کو صرف دوسرے شعبو ں تک ہی محدود رکھا جا ئے تو بہتر ہے ۔
کب را ت کٹے کب ہو سحر کہہ نہیں سکتے کب ہو گا دعاؤ ں میں اثر کہہ نہیں سکتے

یہ بھی پڑھیں  آئندہ مالی سال کیلئے 40 کھرب روپے سے زائد کا وفاقی بجٹ آج پیش کیا جائے گا

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker