پاکستانتازہ ترین

وزارت داخلہ کا شادی کرکے پاکستان آنیوالی کشمیری خواتین کو ویزے دینے سے انکار

اسلام آباد+چناری﴿نمائندہ خصوصی﴾ وزارت داخلہ پاکستان نے مقبوضہ جموں و کشمیر سے گزشتہ پانچ سالوں کے دوران شادی کرکے پاکستان آنیوالی سینکڑوں کشمیری خواتین کو پاکستان میں قیام کیلئے ویزے/پاکستانی شہریت دینے سے انکار کرتے ہوئے انہیں ڈی پورٹ کرنے کا عندیہ دیدیا جبکہ وزارت داخلہ اسلام آباد کے آر بلاک کے استقبالیہ پر تعینات اہلکاروں نے ویزوں کے حصول کیلئے جانے والے کشمیریوں کو متعلقہ آفیسران تک جانے سے روکتے ہوئے ان کا داخلہ بند کردیا۔ کشمیری کمیونٹی نے وزارت داخلہ کے رویے کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے ملکی سلامتی کے اداروں سے نوٹس لینے کا مطالبہ کردیا۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ پانچ سال کے عرصہ کے دوران مقبوضہ کشمیر سے شادی کرکے پاکستان آنیوالی خواتین نے تحت ضابطہ پاکستانی شہرت کے حصول کیلئے وزارت داخلہ کو درخواستیں دے رکھی ہیں۔ قانون کے مطابق انہیں پانچ سال کے عرصہ تک پاکستان میں قیام کیلئے وزارت داخلہ کی طرف سے ویزے فراہم کرنا تھا اور پانچ سال کا عرصہ مکمل ہونے کے بعد انہیں پاکستانی شہریت دی جانی تھی۔ وزارت داخلہ اسلام آباد نے مقبوضہ کشمیر سے آنیوالی خواتین کو ویزے فراہم کرنے کے بجائے انہیں یہ کہنا شروع کررکھا ہے کہ وزیر داخلہ رحمن ملک کی جانب سے انکی فائلوں پر ڈی پورٹ کرنے کے احکامات جاری کئے گئے ہیں۔ اس لئے ہم انہیں ویزے/شہریت فراہم نہیں کرسکتے۔ وزارت داخلہ باالخصوص وزیر داخلہ کے اس رویہ کے خلاف کشمیری کمیونٹی میں سخت تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ انہوں نے صدر‘ وزیراعظم پاکستان اور ملکی سلامتی کے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فی الفور مقبوضہ کشمیر سے آنیوالی خواتین کو گزشتہ کئی ماہ سے ویزوں کی عدم فراہمی اور انہیں ڈی پورٹ کرنے کے احکامات کا نوٹس لیتے ہوئے مقبوضہ وادی کی خواتین کو ویزوں کی فراہمی کے احکامات جاری کریں۔ وزارت داخلہ کے اس طرح کے اقدامات سے سرحد کے اس پار مقبوضہ کشمیر کے عوام میں غلط پیغام جارہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں  ڈسکہ: ڈکیتی کی تین وارداتوں میں ڈاکو لاکھوں روپے نقدی ،موٹر سائیکل،مویشی لے اڑے سرکل پولیس خاموش تماشائی

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker