تازہ ترینکالم

کشمیریوں پر ظلم شیطانی

atharبھارت نے جب سے کشمیر پر قبضہ کیا ہے اس نے مسلسل یہ پالیسی اپنا رکھی ہے کہ جو کشمیری بھی آزادی ،حق خود اختیاری کی بات کرے،انسانی حقوق کا مطالبہ کرے اسے جسمانی تشدد،قید اور پابندیوں کا نشانہ بنایا جا تا ہے اور پھر بھی اگر کشمیری اپنا حق مانگتا رہے تو اس کو ہلاک کر دیا جاتا ہے۔یہی ہوتا آیا ہے بھارتی مقبوضہ کشمیر میں اور بھارت یہی کر رہا ہے کشمیریوں کے ساتھ۔مجھے یاد ہے کہ 1986 ء میں سرینگر کے لال چوک میں کشمیری آزادی کے حق میں ایک بڑا مظاہرہ کر رہے تھے۔بھارتی فورسز کی بھاری تعداد وہاں موجود تھی۔اتنے میں ایک نوجوان لڑکا تیزی سے لال چوک کے وسط میں لگے بلند مینار پر چڑھ گیا۔اس نے مینار کے اوپر جا کر پاکستان کا جھنڈا لہرایا۔بھارتی فورسز نے فائرنگ کر کے اسے ہلا ک کر دیا اور اس کی لاش پچیس ،تیس فٹ بلندی سے نیچے آ گری۔میں نے یہ خبر مقبوضہ کشمیر کے اخبارات میں پڑھی تھی۔اس نوجوان کا نام بلال تھا اور اس کے نام کی طرح اس کی تصویر بھی میرے ذہن میں نقش ہو کر رہ گئی ہے۔
یہ وہ وقت تھا کہ جب مقبوضہ کشمیر میں تحریک حریت کی عوامی سیاسی جدوجہد اپنے عروج پہ تھی جو1988ء میں مسلح جدوجہد میں ڈھل گئی۔اس وقت سے لیکر پرویز مشرف کی سیز فائر تک کتنے کشمیری بھارتی فورسز کے ہاتھوں مارے گئے،کتنی عصمتیں پامال کی گئیں،کتنا ظلم و ستم کشمیریوں پہ کیا گیا،اس کی مثال دنیا میں کہیں اورملنا مشکل ہے۔گزشتہ بیس سال میں ہزاروں کشمیری جاں بحق ہوئے،ان کی تعداد ایک لاکھ کے لگ بھگ ہے۔
سالہاسال پہلے کی بات ہے کہ میں نے اپنے والد محترم سے پوچھا کہ آپ مقبول بٹ کو جانتے تھے۔والد صاحب نے کہا کہ جب مقبول بٹ پہلی بار کشمیر سے پاکستان آئے تو شروع کے دن ہمارے ساتھ ہی بوہڑ بازار والے مکان میں رہے تھے۔میرے والد خواجہ عبدالصمد وانی اور خواجہ محمد امین مختار بوہڑ بازار میں شیخ صاحب کے گھر کرایہ دار کی حیثیت سے تقریبا بیس سال مقیم رہے۔کشمیر سے کوئی بھی آتا تو اس کا قیام انہی کے ساتھ ہوتا۔میرے مزید کریدنے پہ وانی صاحب نے بتایا کہ کشمیرکے لئے مقبول بٹ کے بہت جزبات تھے اور وہ کشمیر کے لئے کچھ کرنا چاہتا تھا۔اس وقت مقبول بٹ جماعت اسلامی اور تدریس ست وابستہ تھے۔انہوں نے مزید بتایا کہ ہمارے ساتھ چند دن قیام کے بعد مقبول بٹ اپنے ماموں کے پاس پشاور چلے گئے اور وہیں ان کی شادی بھی ہوئی۔مقبول بٹ کو بھارت نے تہاڑ جیل میں پھانسی دے دی اور ان کے جسد خاکی کو جیل کے اندر ہی دفن کر دیا۔لیکن ہوا کیا،مقبول بٹ کشمیریوں میں عزم آزادی کی ایک متحرک علامت بن گیا۔
یہ1996ء کی بات ہے کہ پانوس انسٹیٹیوٹ آف ساؤتھ لندن،شرکت گاہ کراچی اور سنگی فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام ایک ہفتے کی ورکشاپ میں کے دوران ایک دن اخبارات میں خبر شائع ہوئی کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والے ڈاکٹر گرو کوبھارتی فورسز نے ہلاک کر دیا ہے۔میں ورکشاپ کی شرکاء سے کشمیر کے امور چھیڑتا رہتا تھا،اسی لئے سب نے یہ خبر پڑھ کر مجھ سے افسوس اور ہمدردی کا اظہار کیا۔
تقریبا دو سال قبل ایک متعصب کشمیری پنڈت نے سوشل میڈیا پر مقبوضہ کشمیر کی ایک وڈیو اپ لوڈ کی تھی ۔اس میں دکھایا گیا تھا کہ ایک مکان کے ملبے کے اندر سے کسی کے کراہنے کی آوازیں آر ہی ہیں اور ملبے پہ بڑی تعداد میں بھارتی فوجی موجود تھے۔ایک فوجی نے ملبے کے سوراخ سے کراہنے والے کو کہا ہاں ہاں ابھی تمھیں نکالتے ہیں۔اتنے میں ایک فوجی نے کہا کہ ہاں ہاں یہ وہی ہے داڑھی والا،اس پر ایک دوسرا بھارتی فوجی آگے آیا اور سوراخ سے اپنی رائفل اندر کر کے دو تین برسٹ فائر کئے اور بھر پلٹ کر اپنے افسر سے کہا سر کام ہو گیا۔
ہفتہ کی صبح ایک کشمیری افضل گورو کو دہلی کی تہاڑ جیل میں پھانسی پر لٹکا کر موت کی نیند سلا دیا گیا۔اس کے گھر والوں کو اس کی اطلاع نہیں دی گئی اور افضل گورو کے جسد خاکی کو بھی مقبول بٹ کی طرح تہاڑ جیل میں دفن کر دیا گیا۔ افضل گورو پر الزام تھا کہ وہ انڈین پارلیمنٹ پر حملے کا ماسٹر مائینڈ ہے۔خود غیر جانب دار بھارتی حلقوں کے مطابق افضل گورو کا اس حملے میں ملوث ہونا ثابت نہیں ہوتا۔9فروری کو افضل گورو کو پھانسی ہوئی جبکہ مقبوضہ کشمیر میں پہلے ہی مقبول بٹ کے یوم شہادت کے حوالے سے مکمل ہڑتال کی کال تھی۔سوال یہ نہیں کہ افضل گورو پارلیمنٹ پر حملے میں کس حد تک ملوث تھا یا نہیں تھا،بلکہ اصل بات یہ ہے کہ افضل گورو کو پھانسی دے کر بھارتی انتظامیہ نے کشمیریوں کو سخت جواب دیا ہے کہ کشمیریوں کو جبر و ستم کی پالیسی سے ہی ڈیل کیا جاتا رہے گا۔
دو تین سال قبل ہی کشمیریوں نے پتھراؤ مہم اور مسلسل لاکھوں کے جلوس سے ایسا سماں باندھ دیا کہ خود بھارت سے یہ آوازیں سنائی دینے لگیں کہ جب کشمیری بھارت کے ساتھ رہنا ہی نہیں چاہتے تو انہیں زور زبردستی رکھنے کا کیا فائدہ؟اس وقت بھارت کو کشمیر اپنے ہاتھوں سے نکلتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔یہ کشمیریوں پر بھارت کے ڈھائے جانے والے بھیانک مظالم اور جبر و ستم ہی ہیں جو کشمیریوں کو ناموافق حالات میں بھی جدوجہد اور قربانیوں پر مجبور کرتے ہیں۔کشمیری تو اپنے مقصد آزادی میں کامیاب ہیں کہ ان کی جدوجہد اور اور قربانیوں کا سفر تسلسل سے تیسری ،چوتھی نسل میں بھی جاری و ساری ہے۔سوال یہ ہے کہ کیا کشمیریوں کو جہنم کا ایندھن بناتے ہوئے یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ کشمیر میں کشمیریوں کو جلانے والی آگ کشمیر تک ہی محدود رہے گی؟
بھارتی مقبوضہ کشمیر میں بالخصوص گزشتہ 26سال سے کشمیری بھارت کے ظلم میں جل رہے ہیں۔جلتا ہوئے لوگ کیا کچھ کر سکتے ہیں یہ بھارت دیکھتا آیا ہے اور آئندہ بھی دیکھتا رہے گا کیونکہ بھارت کی طرف سے اس طرح کے کوئی اشارے نہیں مل رہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کے پرامن حل پر رضامند ہے۔بھارت تو مقبوضہ کشمیر میں فورسز کو قتل و غارت گری کی کھلی چھٹی دینے والے انسانیت کش قوانین بھی ختم نہیں کر رہا اور دوسری طرف فائرنگ کے ایک واقعہ کا بہانہ بناتے ہوئے پاکستان کے ساتھ ’’ میں نہ مانوں ‘‘ کا انداز اپنائے ہوئے ہے۔یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ بھارت میں الیکشن قریب ہیں لہذا کشمیریوں پر مزید خصوصی ظلم و ستم کی توقع کی جاسکتی ہے۔پاکستان کے صاحب اقتدار و اختیار والوں کا کیا کہنا،وہ تو اس طرح قومی پالیسیاں بناتے اور مٹاتے ہیں جیسے ریت پر لکیریں ڈال کر مٹا دی جائیں۔ان کی ناقص و مفاد پرست پالیسیوں کا خمیازہ مسلسل بھگتنے کے باوجود کوئی سبق حاصل نہیں کیا جاتا۔یہ صورتحال اس بات کا تقاضہ کرتی ہے کہ کشمیری تنظیمیں،جماعتیں،گروپ،سب انتشار و نفاق میں مبتلا رہنے کے بجائے آپس میں ہم آہنگی پیدا کریں اور ٹکڑوں میں بٹے رہنے کے بجائے اس ظلم شیطانی سے نجات پانے کے لئے اتفاق و اتحاد کا راستہ اپنائیں۔افضل گورو کو پھانسی دینے کی مقبوضہ کشمیر میں بھارت نواز سمیت ہر کوئی مذمت کر رہا ہے۔کشمیریوں میں کافی ایسے نکات موجود ہیں جو انہیں موجودہ مہلک اور نہایت تکلیف دہ صورتحال سے نکلنے تک ایک ساتھ رکھنے میں ممود ومعاون ہو سکتے ہیں۔note

یہ بھی پڑھیں  کوئٹہ،میٹرک کے سالانہ امتحانات 18فروری سے شروع ہوں گے

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker