تازہ ترینعلاقائی

قصور: 1992میں بننے والی سمال انڈسٹری بنیادی سہولیات سے محروم

مصطفی آباد/للیانی(نامہ نگار)1992میں بننے والی سمال انڈسٹری بنیادی سہولیات سے محروم، سٹرکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار، جگہ جگہ گھڑے، غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، چار دیواری نا مکمل، سیکورٹی کی صورت حال انتہائی ابتر، ذمہ دار کئی کئی ماہ آفس نہیں آتے، اعلی حکام فوری نوٹس لیں، اجلاس میں مطالبہ، تفصیلات کے مطابق وڈانہ کے قریب بننے والی قصور کی واحد سمال انڈسٹری کا اجلاس نو منتخب صدر چوہدری عرفان سندھو کی زیر صدارت ہوا، اجلاس میں شریک ممبران نے میڈیا کو بتایا کہ مذکورہ سمال انڈسٹری بنیادی سہولیات سے محروم ہونے کی وجہ سے ویرانے کا منظر پیش کر رہی ہے، سمال انڈسٹری میں سیوریج لائن مکمل طور پر بند ہو چکی ہے، فیکٹریوں کا گندہ پانی خالی پلاٹوں اور سٹرکوں پر کھڑا رہتا ہے، جگہ جگہ تالاب بنے ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے تعمیر شدہ فیکٹریوں کو نقصان پہنچ رہا ہے، گندے پانی کی وجہ سے گندگی اور بیماریاں پھیل رہی ہیں، سٹرکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکی ہیں، بھٹہ کی اینٹوں والی ٹرالیوں کی گزرنے کی وجہ ے گرد اور مٹی سے فضا آلودہ رہتی ہے، گیس نہ ہونے کی وجہ سے ہمیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، انڈسٹری کا اپنا واپڈا فیڈر نہ ہونے کی وجہ سے غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا سامنا کرنا پڑتا ہے، چار دیواری مکمل نہ ہونے کی وجہ سے سیکورٹی کی صورت حال انتہائی خطر ناک ہو چکی ہے، جان و مال کا کوئی تحفظ نہ ہے، اسٹیٹ میں سٹریٹ لائٹیں نہ ہونے کہ وجہ سے رات کو جنگل کا سما لگتا ہے، اینٹوں کے بھٹوں سے اٹھنے والا دھواں بیماریاں پھیلا رہے ہیں، پولیس چوکی نہ ہونے کی وجہ سے امن و امان کے مسائل پیدا ہو رہے ہیں، مزدوروں کے علاج کیلئے کوئی فری ڈسپنسری نہ ہونے کی وجہ سے مزدوروں کو بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، بنیادی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے 1992میں بننے والی مذکورہ سمال انڈسٹری تا حال آباد نہیں ہو سکی، جبکہ سمال انڈسٹری کے ذمہ دار کئی کئی ماہ تک دفتر نہیں آتے ، ہم اپنے مسائل سے کس کو آگاہ کریں،اجلاس میں شریک نو منتخب جزل سیکرٹری علی بخاری، عبدالعزیز بھٹہ،سابقہ در چوہدری رشید ، نادر خاں سابقہ ڈائیریکٹر انڈسٹری، چوہدری ظفر اقبال، بابر علی، چوہدری مدثر احمد کمبوہ، واصف حسن،تنویر، منصور اقبال، راجہ اصغر، سلیم ثانی ودیگر ممبران و عہدیداران نے وزیر اعلی پنجاب، ریجنل ڈرائریکٹر سمال انڈسٹری ودیگر اعلی حکام فوری نوٹس لیتے ہوئے اسٹیٹ میں بنیادی سہولیات فراہم کرکے اسے آباد کیا جائے،

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
error: Content is Protected!!