تازہ ترینعلاقائی

قصور:گرلزکالج میں پولیس غنڈہ گردی اور انتظامی طاقت کا بھرپور مظاہرہ

kasurقصور(بیورورپورٹ ) گرلز کالج قصور میں پولیس غنڈہ گردی اور انتظامی طاقت کا بھرپور مظاہرہ ،لاہور ہائیکورٹ کے احکامات کی کھلم کھلا دھجیاں بکھیر دی گئیں ،عوامی سماجی حلقوں کاشدید احتجاج ۔تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے آرڈرز کی روسے ربیعہ نسرین نامی خاتون جسے سیکرٹری ہائر ایجوکیشن ڈاکٹر اعجاز منیر نے بطور پرنسپل گرلز کالج قصور تعینات کیا تھا اسکے آرڈر کو لاہور ہائیکورٹ کے فاضل جسٹس مامون رشید شیخ نے 29جنوری 2013کو معطل کردیا تھا لیکن سیکرٹری ہائر ایجوکیشن نے عدالت عالیہ کا حکم ماننے سے انکار کر دیا اور متعلقہ علاقے کی انتظامیہ خصوصاً ڈپٹی ڈائریکٹر کالجز قصور میاں محمد زاہد ،اور ڈی ایس پی سٹی محمد اکرام خان ،ایس ایچ او اے ڈویژن حاجی اشرف کو ہدف دیتے ہوئے بزور طاقت موجودہ پرنسپل مسز نرگس حمید جو شرافت اور بہترین کارکردگی کی حامل خاتون مانی جاتی ہیں کو انکے دفتر سے بمعہ پولیس فورس بدتمیزی اور فحش کلمات کا استعمال کرنے کیساتھ ساتھ لیکچررز کی اے سی آرز چھین لیں اور دھکے مار کر کالج سے باہر نکال دیا اور ایس ایچ او اے ڈویژن نے دھمکیاں دیتے ہوئے کہا کہ میں ہائیکورٹ سے خود نمٹ لونگا ۔ جس کی بنا پر کالج کی طالبات نے جلوس نکالا اور سخت احتجاج کیا تمام کالج کے سٹاف نے ڈی ایس پی سٹی اور ایس ایچ او اے ڈویژن کیخلاف کالج احاطہ میں داخل ہونے اور پولیس نفری کی مداخلت کیخلاف نعرے بازی کی اور قرار داد بھی پاس کی ۔دریں اثنا ء مسز نرگس حمید اور انکے حامیوں نے لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس،چیف سیکرٹری پنجاب ،وزیراعلیٰ پنجاب ،ڈی سی او قصور ،سیشن جج قصور وارباب اختیار سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ اختیارات کی آڑ میں غنڈہ گردی اور کالج کی چادر چار دیواری کا تقدس پامال کرنے اور تعلیمی سرگرمیوں میں سیاست چمکانے والے عناصر کیخلاف فوری کاروائی عمل میں لائی جائے ۔

یہ بھی پڑھیں  محمد حفیظ کے باولنگ ایکشن پر اعتراض کیوی کھلاڑی کو مہنگا پڑ گیا

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker