تازہ ترینکالممہر عبدالمتین

قصور میں محکمہ پولیس کے شیلٹراور ویٹرنری ڈاکٹروں کی ملی بھگت سے مردہ گوشت کی سرعام فروخت

Abdul mateenپچھلے دنوں چند معروف اخبارات میں ،میں نے مردہ گوشت کی سرعام فروخت کی خبریں پڑیں۔ان خبروں کو پڑھ کر قدرے صدمہ ہوا کہ پولیس افسران اپنی ایمانداری کے جھنڈے لگانے میں مصروف ہیں مگر شہر بھر میں سرعام قصاب مردہ گوشت فروخت کر رہے ہیں۔میں نے ایک خبر میں یہ بھی پڑھا کہ ایک قصاب کو اس کے گھر میں سے گدھاذیبع کرتے گرفتار کرلیا گیا ہے۔مگر ایک بات آپ کو ماننا پڑے گی کہ نظر کی کمزوری ہونا بھی بہت بڑا مسلہ ہے۔دیکھیں اب اس بیچارے قصاب کا کیا قصور تھا کہ اس نے منڈی سے کسی حلال جانور کو خرید کیا تھا چونکہ قصاب کی نظر کمزور تھی اور اسے کسی نے گدھا دے دیا ۔اس گدھے نے قصاب کو جیل دیکھا دی ۔ایک دن مجھے ایک اجنبی کا فون آیا جس نے بتایا کہ محترم قصورتھانہ B ڈویزن سے دو فرلانگ کے فاصلے پر ایک قصاب مردہ گوشت فروخت کر رہا ہے اور اس نے فون بند کر دیا۔ مجھے پولیس کی اس بے حسی پر بے حد شرم آئی مگر مجھے یقین تھا کہ اس قصاب کی بھی ضرور نظر کمزور ہو گی مگرمیں جب اس قصاب سے جا کر ملاتوعلم ہوا کہ اس کی نظر تو ٹھیک ہے مگر وٹیرنری ڈاکٹر کی نظر کمزور تھی۔ جس نے مردہ گوشت کی شناخت کئے بغیر ہی مہر یں لگادیں ،اب اس میں قصاب کا کیا قصور؟
چند ماہ پہلے مجھے قصور میں صدر سرکل میں تعینات ASP شبیر سیٹھار سے ان کے دفتر میں ملاقات کرنے کا اتفاق ہواتو انہوں نے مجھے بتایا کہ صدر سرکل میں ایک گینگ ایک عرصہ سے مردہ گوشت فروخت کر رہی تھی۔ جنہیں علاقہ تھانہ تھہ شیخم میں مردہ گوشت لیجاتے گرفتار کرلیا گیا ہے۔اس گینگ کے چند لوگ دیہات میں جانوروں کو خرید کرنے کے بہانے سے زہر بھری اشیاء جانوروں کو ڈال کر چلے جاتے تھے جبکہ اسی گینگ کے باقی لوگ جانور کے مرجانے کے بعد مردہ کو دور پھینکنے کے بہانے لے جا کر قصابوں کو فروخت کردیتے تھے۔ASP شبیر سیٹھار چونکہ ایک ایماندار آفیسر تھا ۔جس نے ملزمان کے خلاف مقدمات درج کر کے سخت کاروائی کرنے کا حکم دے دیا ۔مگر اس دوران میری موجودگی میں SHO تھانہ تھہ شیخم نے ASP شبیر سیٹھار کو ملزمان کو بے گناہ ثابت کرنے پر سٹے بازی کھیلنے کی کوشش بھی کی مگر ناکام رہا۔ASP نے کسی بھی سیاسی اثر اور لالچ نہ دیکھتے ہوئے ان گرفتار ملزمان کی نشاندہی پر قصاب کو جلد گرفتار کرکے اپنے ہاں پیش کرنے کا بھی حکم دے دیا۔مگر ڈسٹرکٹ قصور کی بدقسمتی :کہ ASP شبیر سیٹھار کا تبادلہ ہو گیااور SHO نے ان ملزمان کو بغیر عینک لگائے بے گناہ کر دیا۔شاید SHO کی بھی نظر کمزور تھی؟جنہوں نے مردہ گوشت فروخت کرنے والے ملزمان کی بجائے چند شریف شہریوں کو گرفتار کر لیا تھااور انہیں جرم نہ ثابت ہونے پر چھوڑ بھی دیا ۔ان ملزمان سے برآمد شدہ مردہ جانور کو تھانے سے کافی دور پھینکا گیامگر پھر بھی تھانہ میں آنے والوں کو اس مال مقدمہ کی شدید بد بو کئی دنوں تک برداشت کرنا پڑی۔آج بھی قصور بھر میں متعدد سلائٹر ہاؤسوں میں قصاب وٹیرنری ڈاکٹروں کے منہ پررشوت کا چمکدار تالا لگا کر مردہ اور بیمار جانوروں کو ذیبع کر کے سرعام فروخت کر رہے ہیں ۔بعض قصاب مردہ گوشت سستے داموں خرید کر کے اپنے گھروں سے ہی گوشت کے پارٹس بناکر اپنی دوکانوں پر آ لٹکاتے ہیں ۔مردہ گوشت قصابوں تک پہنچانے میں کرسچن برادری کے ان لوگوں کی خاص امداد حاصل ہے جن کے پاس مردار کو ٹھیکانے لگانے کے لائسنس ہیں ۔۔۔
قصور میں محکمہ پولیس کے شیلٹراور ویٹرنری ڈاکٹروں کی ملی بھگت سے جگہ جگہ مردہ گوشت سرعام فروخت ہورہا ہے۔ان افراد کے خلاف مردہ گوشت فروخت کرنے پر متعدد تھانوں میں بے شمار مقدمات بھی درج ہیں مگر انصاف کی کرسیوں پر بیٹھے منصفوں نے ان افراد کو بروقت ضمانت پر رہا کر کے مزیدمردہ گوشت فروخت کرنے کا موقع فراہم کیا ہے جبکہ ان افراد نے قصور بھر میں مردہ گوشت فروخت کر کے بے حیائی کو فروغ بھی دیا اورایک اسلامی ملک پاکستان کو یورپ بنانے کی بھی کوشش کی ہے معزز خواتین و حضرات میں اس کالم کی وساطت سے DIG شیخوپورہ ریجن ذوالفقار احمد چیمہ سے درخواست کرتاہوں کہ ڈسٹرکٹ قصور ایک کرائم کا گڑھ بنتا جا رہا ہے۔یہاں ایک غریب کو محکمہ پولیس سے انصاف لینا بے حد مشکل ہوگیا ہے۔آج بھی قصور کے تمام تھانوں میں غیرقانونی حراست اور تشدد جاری ہے ۔مہر بانی فرماکرASP شبیر سیٹھار کو ایک بار پھر ڈسٹرکٹ قصور میں تعینات کر دیں تاکہ غریبوں کو بروقت انصاف مل سکے۔۔

یہ بھی پڑھیں  زینب قتل کیس:پولیس کی تفتیش سے لگتا ہے21 کروڑ عوام کا ڈی این اے ٹیسٹ کرنا پڑیگا،چیف جسٹس

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker