تازہ ترینجاوید صدیقیکالم

جناب سلمان اقبال میمن کی کاوشیں

javidیہ بات ہے اُس وقت کی جب پاکستان ابتدائی دور سے گزر رہا تھا تین جون انیس سو سینتالیس میں قائداعظم محمد علی جناح نے آل انڈیا ریڈیو سے اپنا تاریخی خطاب کیا اور برصغیر کے مسلمانوں کیلئے ایک نئی خودمختار مملکت پاکستان کے معرض وجود میں آنے کا اعلان کیا۔۔۔!!چودہ اگست انیس سو سینتالیس میں پاکستان کے وجود میں آنے کا اعلان نئے ادارے پاکستان براڈکاسٹنگ سروس نے کیا جس کا نام بعد میں تبدیل کر کے ریڈیو پاکستان رکھا گیا، نشریاتی مراکز اور ٹرانسمیٹرز قائم کئے گئے اور وقت کے ساتھ ساتھ مراکز میںاضافہ بھی کیا جاتا رہا ۔۔۔۔!!پاکستان میں ٹیلی ویژن کا آغاز چھبیس  نومبر انیس سو چونسٹھ کو لاہور کے اسٹیشن سے ہوا۔ حکومت پاکستان نے اکتوبر انیس سو چونسٹھ  میں تجرباتی بنیاد پر جاپان کی ایک فرم نپن الیکٹرک کمپنی کے تعاون سے پاکستان کے دوشہروں لاہور اور ڈھاکہ میں ٹیلی ویژن اسٹیشن کھولنے کا فیصلہ کیا اور چھبیس نومبر انیس سو چونسٹھ کو لاہور اورپچیس دسمبر انیس سو چونسٹھ کو ڈھاکہ میں ٹیلی ویژن اسٹیشن کھولے گئے۔!!  یہ دونوں اسٹیشن شروع میں روزانہ تین گھنٹے کی نشریات کا اہتمام کرتے تھے اور ہفتہ میں ایک دن یعنی پیر کو ٹی وی کی نشریات نہیں ہوتی تھیں۔ ۔۔شروع شروع میں ٹی وی کے تمام پروگرام اسٹیشن میں تیار نہیں ہوتے تھے بلکہ نشریات کا زیادہ حصہ درآمدی اور دستاویزی معلوماتی پروگراموں پر مبنی تھا، پھر وقت اکہتر کی جنگ کے بعد پاکستان میں نہ صرف پاکستان ٹیلیویژن کے سنیڑز میں اضافہ ہوا بلکہ بلیک اینڈ وائٹ نشریات کو جاپان کے تعاون سے رنگین بھی بنادیا گیا۔۔! کئی سالوں سے عوام کو خبروں اور تفریح و معلومات فراہم کرنے والا یہ ادارہ سیاسی دباؤ کا شکار ہونے کے سبب اپنی حیثیت عوام سےختم کرتا گیا ،سن نوے کے قریب پہلی بار نجلی شعبے سے ٹیلیویژن میں قدم رکھا جو محدود بنیاد پر تھا ،شالیمار ٹیلیویژن نیٹ ورک (ایس ٹی این )نے اپنی نشریات کا آغاز کیا ، پاکستانی عوام نے نجی چینل کی نشریات کو نہ صرف پسند کیا بلکہ سہرایا بھی لیکن انتظامیہ کی غفلت ، کوتاہی کے سبب بہت جلد یہ نجی چینل میں نشر ہونے والا چینل بند ہوگیا پھر تقریبا آٹھ سال بعد نجی چینل مین شروع ہونے والا پاکستان کا سب سے بڑا سیٹلائٹ چینل اے آر وائی ڈیجیٹل نے پاکستان سمیت دنیا بھر میں اپنی نشریات کا آغازسن دو ہزار کو کیا جسے پاکستانی عوام نے بہت پسند کیا، اے آر وائی ڈیجیٹل کی یہ نشریات یورپ کے ملک  برطانیہ کے شہر لندن سے کی گئی پھر اسے نیٹ ورک کرنے کے پروگرام پر دبئی منتقل کردیا گیا اور دبئی منتقلی کے بعد سن دو ہزار دو میں نیوز کا چینل اے آر وائی ون ورلڈ اورمذہبی چینل کیو ٹی وی لاؤنچ کیا گیا، اس طرح اے آر وائی ڈیجیٹل ڈراموں اور تفریحات کیلئے الگ چینل ہونے سے ایک نیٹ ورک کی شکل میں ابھرااور وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ عوام الناس کی پسند کو مدنظر رکھتے ہوئے فیشن ٹی وی، دی میوزک چینل بھی لاؤنچ کیئے گئے اور پھر مزید چینل اے آر وائی نے لاؤنچ کیئے۔۔۔۔۔!! اے آر وائی نیٹ ورک کے چیف ایگزیکیٹو آفیسر اینڈ صدر سلمان اقبال نے انتہائی انتھک محنت، لگن اور کوششوں سے اے آر وائی ڈیجیٹل سے آر وائی نیٹ ورک تک کا سفر کیا۔ اس سفر میں ان کے ساتھ مخلص ملازمین کا ساتھ بھی رہا، اب بھی ایسے ملازمین ہیں جنھوں نے کئی چینلز آنے کے باوجود ان کا اور ان کے ادارے کا ساتھ نہ چھوڑا۔ اس کی سب سے بڑی وجہ سلمان اقبال کا وہ اخلاق و پیار ہے جو انھوں نے اپنے ملازمین کو ہمیشہ سے دیا ہے ،اے آر وائی کے مالکان جن میں سلمان اقبال کے والد محترم جناب حاجی محمد اقبال میمن، تائے ابا جان جناب حاجی عبد الرزاق میمن مرحوم اور چچا محترم جناب حاجی عبد الرؤف میمن نے سلمان اقبال کی نہ صرف رہنمائی کی بلکہ ہر وقت ان کی کوششوں کیساتھ رہے۔۔!!یہی وجہ ہے کہ حاجی عبد الرؤف میمن صاحب نے انتہائی احتیاط اور ذمہ داری کیساتھ بلخصوص مذہبی چینل کیو ٹی وی کی نگرانی کی کہ کہیں کوتاہی نہ ہوجائے، مذہبی چینل ہونے کی وجہ سے تمام مالکان اس کی نشریات کو بہت احتیاط سے رکھتے ہیں جبکہ اے آر وائی نیوز کو سلمان اقبال حکومتی احکامات کے تحت سختی سے عمل پیرا ہونے اورانتہائی پیشہ ورانہ امور کے ساتھ خبر کی سچائی، تحقیق اور حقیقت کے بعد ہر لمحہ باخبر رکھتے ہیں۔۔۔!! اے آر وائی کے تمام چینلز نے سلمان اقبال اور حاجی صاحبان کی توجہ سے بہترین پروگرامز، ٹاک شوز، ایونٹس ، دستاویزی پروگرام پیش کرکے عوام کے دل جیتے ہیں۔۔!! سب سے بڑھ کر اے آر وائی نیٹ ورک کے سی ای او اینڈ صدر سلمان اقبال کی ہمیشہ سے کوشش رہی ہے کہ اپنے تمام چینلز سے وطن پرستی یعنی حب الوطنی اور عشق رسول ﷺ کا رنگ رہے یہی وجہ ہے کہ پاکستان کا بچہ بچہ بھی اے آر وائی کی پالیسیوں کے تحت نشر ہونے والی ٹرانسمیشن کو انتہائی پسند کرتا ہے اور ہر گھر کی زینت اے آر وائی نیٹ ورک بنا ہوا ہے۔۔۔اے آر وائی نیٹ ورک نے خواجہ غریب نوازانٹرنیشنل ٹرسٹ اور احساس انٹرنیشنل ٹرسٹ بنایا اور اس پلیٹ فارم سے فلاحی امور کو جس قدر انجام دیئے ہیں ان کی تفصیل اگر لکھوں تو ممکن ہے کالم کی کئی اقساط بن جائیں گی۔!! سلمان اقبال نے موجودہ حالات کو سمجھتے ہوئے عوام الناس یعنی پاکستانی قوم میں یکجہتی، اخوت اور اتحاد کو مضبوط کرنے کیلئے شکریہ پاکستان کے نام سے مہم کا اعلان کیا یہ مہم یکم اگست سے چودہ اگست تک جاری رہیگی۔یوم آزادی کے حوالے سے ریڈیو پاکستان،پاکستان ٹیلیوژن اور نجی چینل اے آر وائی نے بھر پور تیاریاں شروع کر دی ہیں۔چودہ اگست دو ہزار سولہ کے حوالے سے شکریہ پاکستان کے نام سے اسپیشل ٹرانسمیشن کا آغاز یکم اگست سے کیا جائے گا۔۔۔یاد رہے چودہ اگست پاکستان کی سالگرہ اور تاریخ کا سب سے اہم دن ہے جسے ہر سال پوری قوم جوش و جذبے سے مناتی ہے اور اس دن کے پیچھے چھپی المناک تاریخ کی بدولت ہی آج ہم سکھ کی فضاؤں میں سانس لے رہے ہیں۔۔۔ اے آر وائی نیٹ ورک کے چیف ایگزیکیٹو  آفیسر اینڈ صدر سلمان اقبال کے مطابق شکریہ پاکستان مہم کی اہمیت و ضرورت اس لیئے بھی تھی کہ بیرونی پاکستان مخالف  طاقتیں جان لیں کہ ان کے مذموم عظائم کسی طور کامیاب نہیں ہوسکیں گے، دشمنان پاکستان جس قدر چاہیں اپنی نا کام  کوششیں کرلیں یہ قوم پاکستان مخالفوں کی تمام کوششوں کو اپنے اتحاد، یقین، محکم، بھائی چارگی سے ناکام بنادیں گے، اسی احساس کو بیدار کرنے کیلئے  سلمان اقبال نے یہ قدم اٹھایا ہے!! اے آر وائی نیٹ ورک کے چیف ایگزیکیٹو آفیسر اینڈ صدر سلمان اقبال کے حب الوطنی پر مشتمل عزم اور مہم شکریہ پاکستان کو پاکستان بھر کی تمام مکاتب فکر لوگوں، مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے شخصیات نے نہ صرف سہرایا بلکہ ساتھ دینے کیلئے پر عزم ہیں۔۔ فوجی و سول تمام اہم شخصیات کے نزدیک شکریہ پاکستان مہم ایک کامیاب مہم ثابت ہوگی اور ان کے مطابق انشا اللہ دنیا بھر میں پاکستان  اور پاکستانی عوام کا وقار بلند ہوگا۔۔ شکریہ پاکستان کے پلیٹ فارم سے ملک بھر میں چراغاں شاہراہوں ،بلڈنگوں پر کیا جائے گا جبکہ تدریس گاہوں ، سرکاری و نیم سرکاری اور نجی اداروں میں جشن آزادی پاکستان کے حوالے سے ورائٹی شوز بھی منعقد کیئے جائیں گے۔۔!!شکریہ پاکستان کے پلیٹ فارم سےجشن آزادی پاکستان کے حوالے سے اے آر وائی نیٹ ورک عوام الناس کوبلڈنگوں ، شاہراہوں کو سجانے کے تمام کا تمام سامان مفت فراہم کررہا ہے  اور بہترین سجاوٹ پر نہ صرف کوریج دی جائیگی بلکہ بہترین اور منفرد سجاوٹ اور پروگرام پر انعامات دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔۔۔مجھ سمیت اے آر وائی نیٹ ورک سے تعلق رکھنے والے تمام ملازمین اپنے سی ای او اینڈ صدر سلمان اقبال کے اس عظیم مہم میں ساتھ ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ اللہ اس مہم کو اس قدر کامیاب کردے کہ پھر از خود ہماری عوام اور حکومتیں اسی طرح جوش و جذبہ کیساتھ اپنا جشن آزادی منائیں کہ پاکستان مخالف قوتیں ہمارے اتحاد سے خوف کھاتی رہیں آمین۔۔۔۔اللہ ہم سب کا حامی و ناظر رہے آمین ثما آمین!!! پاکستان زندہ باد، پاکستان پائندہ باد
note
یہ بھی پڑھیں  عامر خان کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker