تازہ ترینصابرمغلکالم

خوابوں کی دنیا

sabir mughalانسان بنیادی اور فطری طور پر لامتناعی خواہشات کا منبع ہے،معاشرتی بندھن اور رسوم کے باوجود اس کی آرزؤں ،امنگوں کی دنیا کا دائرہ وسیع تر ہے،اسی تناظر میں اس کی سوچ کے دھارے ہمیشہ محو ۔پرواز ۔رہتے ہیں،یہ الگ بات ہے کہ معاشرتی درجہ بندی کی وجہ سے ان خواہشات میں بڑا تضاد ہے،خدا عظیم نے بعض افراد کو معاشرے میں اعلیٰ عہدے عطا کئے،دولت جیسی نعمت سے نوازا ،حاکمیت کے لئے چنا ایسے افراد کی سوچ ،خواہشات اور تخیلات میں مزید بڑھوتی غالب رہتی ہے جبکہ ایک ۔عام انسان۔ کی انہیں حسرتوں کا بھنور کہیں اور گردش کر رہا ہوتا ہے،مہذب معاشروں میں انسانیت کے پیروکار افراد ہمیشہ پہلے دوسروں کے لئے سوچتے ہیں مگر جن کے خیالات میں حرص و ہوس اور اختیارات کے حصول کا عنصر غالب ہو وہ ہمیشہ خود غرض ،لالچی،بے حس اور انسانیت کی بنیادی خصوصیات سے عاری ہوتے ہیں،وطن عزیز میں مجموعی طور پر غربت کا راج ہے،عام پاکستانی بنیادی ضروریات تک سے محروم ہیں،روٹی کپڑا اور مکان کی آس میں زندگی گذار دیتے ہیں ،انہیں روزی کے لئے کچرے کے ڈھیروں تک کا انتخاب کرنا پڑتا ہے، جمہوریت ہو یا آمریت تاریخ گواہ ہے کہ یہ سب ادوار ان کے لئے یکساں ہی نہیں بلکہ بدتر رہے اور بدتر ہیں، پاکستان میں تبدیلی کانعرہ گذشتہ کئی سالوں سے زبان زد عام پر ہے کبھی حالات پلٹا کھاتے ہیں تو عوام کے مایوس اور مردہ نما چہروں پر کسی انجانی ۔امید۔کی رمک چمکنے لگتی ہے وہ ضروت سے کہیں زیادہ توقعات اور امیدوں کے سہانے سپنے دیکھنے لگ جاتے ہیں لیکن ایلیٹ کلاس کے یہ بازیگر انتہائی ماہر شکاری ،چالاک اور نفسیاتی ماہر ہیں،وہ جانتے ہیں کہ اس ،قوم۔کو کیسے کیسے چکمے دے کر دھمالوں کی شکل میں نچایا جا سکتا ہے اور وہ طویل عرصہ سے انہیں(عوام) نچا رہے ہیں اور نچاتے رہیں گے،لاہور میں انٹرنیشنل دینی ادارے ۔منہاج القرآن ۔کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے انقلاب کی نوید سنائی اور سابقہ جمہوری دور میں اسلام آباد جا پہنچے،سب لوٹ مار قوتیں یکجا ہوئیں اور طاہر القادری کو واپسی کی راہ پکڑنا پڑی،موجودہ حکومت عوام کو ان کے حقوق ڈیلیور کرنے میں بری طرح ناکام ہوئی تو عوامی تحریک نے تبدیلی کی نئی جدوجہد کو ۔سبز انقلاب۔کا نام دیتے ہوئے تحریک کا آغازکیاجسے ایک منظم اور جامع حکمت عملی کے ذریعے ۔فلاپ۔کیا گیا جس میں اہم ترین کردار پی ٹی آئی سے ادا کروایا گیا،الیکشن 2013میں دوسری بڑی سیاسی قوت بن کر ابھرنے والی جماعت پی ٹی آئی کو مزید ابھارنے کا عمل جاری ہوا،لیکن یہ ساری گیم جس کا بنیادی عمران خان تھے مجموعی طور پر نہ اس کا فائدہ خود پی آئی ٹی کو نہ عوامی تحریک کو اور نہ ہی عوام کو ہوا،عوامی تحریک کے دھرنے کے اختتام پر عمران خان نے اپنی تقریر میں اعتراف کیا کہ حکومتی رویہ تبدیل ہو گیا ہے،(بطور لیڈر اس بات کا ادراک عمران خان اس وقت نہ کر سکے جب ان کی پالیسیوں کی بدولت طاہر القادری کو اپنا بوریا بسترا لپیٹنا پڑا)،آزادی دھرنا جاری رہا اسی دوران سانحہ پشاور جیسا المناک واقعہ پیش آگیا،سانحہ میں حکومت وقت نے جہاں ایک طرف فوج کے دباؤ پر فوجی عدالتوں کے قیام جیسی باتوں پر ہاں کی وہاں اس نے سیاسی طور پر بھی بھرپور فائدہ اٹھایا اور ایسے حالات میں اس نے اپنی سابقہ روش کو نہ صرف برقرار رکھا بلکہ اس میں اضافہ کرنا پسند کیا،،مہنگائی بلندی پر،امن و امان کی حالت بدتر، قانون شکنی عروج پر،حکومت کا مجموعی رویہ آمرانہ ،ہر طرف اندھیرے ہی اندھیرے ،کاروبار زندگی چٹ،سڑکوں پر موت عام سب وہی جو تھا اور لگتا ہے کہ یہی سب اس بدنصیب قوم کامقد رہیں گے، ایسے میں نئی امیدوں، آزوؤں کے محور و مرکز پاکستان تحریک انصاف کے چیر مین عمران خان جو کرکٹ کی دنیا میں ورلڈ کپ جیسا منفرد اعزاز رکھنے والے واحد پاکستانی کپتان ہیں ،تھے۔ انہوں نے دنیا کے سب سے طویل احتجاجی دھرنے کے اختتام کا اعلان کیا،ان کیااس اقدام پر وہ اور ان کے رفقاء کا کردار قابل فخر ہے،لیکن ایک اور ۔U۔ٹرن اس قوم کی راہ میں تھا،شادی کرنا ان کا شرعی حق حاصل ہے کسی کو اس پر اعتراض بھی نہیں ہونا چاہئے،لیکن عمران خان جس حساس نوعیت کی سیاسی صورتحال میں تھے ،لاکھوں پاکستانیوں نے ان کی کال پر لبیک کہا،تو کیا ایسے حالات میں چھپ کر شادی کرنا کسی ایسے لیڈر کو زیب دیتا ہے؟ان کی شادی کی ۔بریکنگ نیوز۔تو زبان زد عام پر تھیں وہ پھر بھی چھپاتے رہے،پاکستانی میڈیا جس نے انہیں شہرت کی بلندیوں پر لے جانے میں انمٹ کردار ادا کیا ،کیا ان کے نزدیک وہ اس قابل نہیں تھا کہ خان صاحب اپنی شادی کی خبر انہیں کنفرم کرتے ؟کیا عجیب بات ہے کہ باتیں ہم پاکستان کی کرتے ہیں لیکن شادی کی خبر کے لئے بھی ہمیں ۔مغربی میڈیاہی پسند آتا ہے، تحریک انصاف کے انتہائی اہم رہنماء نے بتایا کہ نکاح ماہ محرم کے پہلے عشرہ میں ہو چکا تھا اگر یہ سچ ہے جو کہ یقیناًہے تو پھرماہ محرم میں ہونے والے نکاح کو پوشیدہ رکھنے کی وجہ کیا تھی؟کیا عجب بات ہے عمران خان جیسے ہی لندن قدم مبارک رکھتے ہیں مغربی میڈیا کو فخر سے بتاتے ہیں کہ ہاں انہوں نے شادی کر لی ہے ،در حقیقت بچوں کو اعتماد میں لینے لندن گئے تھے، اس اعتراف کے بعد واپسی پر انہوں نے بنی گالا والی تقریب کو ضروری سمجھا،شادی کی اس تقریب کے دنوں میں الراقم کو اسلام آباد،گوجرانوالا اور لاہور میں جانے کا موقع ملا جہاں بھی گیا ایک ہی موضوع ،ایک ہی سوچ،سبھی میں یکساں نا امیدی کا غالب عنصر،آخر وہ کیا حرکت تھی کہ عوام کے چہرے لٹک گئے؟لوگوں نے بہت کچھ کہا اور ہم نے بہت کچھ سنا جو بتانے کے قابل بھی نہیں،عمران خان کی شادی پر کسی کو رنج نہیں تھا اعتراض اس بات پر تھا کہ ایک لیڈر جس سے کروڑوں پاکستانی آس اور امید کی شمعیں جلائے بیٹھے تھے وہ اس طرح اور عجب انداز میں ۔ایسا کر گذرے گا۔کاش اس شادی میں عمران خان نے کوئی بہتر طریقہ کار اپنایا ہوتا،یہ سوال بھی عوام کی زبان پر ہے مغربی میڈیا سے منسلک ایک خاتون جرنلسٹ سے شادی کسی عجب ۔امبربیل۔ کا حصہ تو نہیں ہے اور یہ امبر بیل نہ جانے مستقبل میں ممکنہ وزیر اعظم کے ارد گرد کس طرح اور کتنا گھیراؤ کرتی ہے؟عمران خان کی شادی کا سورج نکلنے پر ایک خصوصی حکم کے تحت ملک کے مختلف شہروں میں ۔جنونیوں۔کو جشن مناتے دکھایا گیا جبکہ انہیں اوقات میں پاکستان میں دوسرا بڑا طویل بریک ڈاؤن ہوا ملک اندھیرے میں ڈوبا گیا ،بڑے شہروں میں پانی تک نایاب ہو گیا،جس روز بنی گالا سے ۔دلہا اور دلہن۔کی تصاویر الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کی زینت بنی ہیں اس روز سے پاکستان بھر میں لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ 20گھنٹے تک جا پہنچا ہے جبکہ بجلی سمیت متعدد اشیاء کے نرخوں میں اضافہ کر دیا گیا ہے ۔یہ پریشان حال عوام بھی مجبور ہے سیاسی ڈھانچا ہی ایسی بنیادوں پر قائم ہے ان کے پاس کوئی اور چوائس ہی نہیں ہوتی،وہ مجبور و مقہور ہیں کہ وہ ووٹ کس کو ووٹ دیں جو ان کا خون چوستے ہیں،جو ان کے ٹیکسوں پر بیرون ملک علاج پر جاتے ہیں،اقتدار اوراختیارکے مزے لوٹتے ہیں،ان کی قسمت سے کھیل کر لطف اندوز ہوتے ہیں،یہ عوام کئی دہائیوں سے محض ۔آس۔پر کبھی کسی کے آگے ناچتی ہے اور کبھی کسی کے نعرے لگاتی ہے یہاں تک کہ بعض جذباتی تو موت کی وادی میں جا کھڑے ہوتے ہیں،گھر برباد ہو جاتے ہیں ،گھروں میں صف ماتم بچھ جاتی ہے لیکن جس تبدیلی میں وہ یہ سب کرتے ہیں لگتا ہے یہ خوابوں کی دنیا ہے سہانے سپنوں کی دنیا ہے،تعبیروں کی نہیں اور اگر کسی کو تعبیر ملتی بھی ہے تو سوائے ذلت اورذلالت کے کچھ نہیں،

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button