تازہ ترینعلاقائی

بھائی پھیرو(نامہ نگار) یوریا کھاد کی بلند قیمتوں کے باعث کسانوں نے کھادکا استعمال کم کردیا

بھائی پھیرو(نامہ نگار) یوریا کھاد کی بلند قیمتوں کے باعث کسانوں نے کھادکا استعمال کم کردیا ہے۔پاکستان پر ملکی و غیر ملکی قرضوں کا بوجھ 109کھرب84ارب سے بڑھ چکاہے۔حکمران 35 بڑے بڑے ادارے قومی اداروں کی بندر بانٹ کر رہے ہیں۔ان خیالات کا اظہارانجمن کاشتکاراں ضلع قصور کے رہنما رائے محمد افضل کھرل اور کسان بورڈ ضلع قصور کے صدر چوہدری رحمت اللہ نے اپنے علیحدہ علیحدہ بیانات میں کہا ہے میں کہا ہے کہ گندم کی قیمت کا اعلان نہ کرنے کی وجہ سے، خشک سالی اور کھاد کی قلت سے گندم ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔یوریا کھاد کی بلند قیمتوں کے باعث کسانوں نے یوریا کھاد کا استعمال کم کردیا ہے۔حکومتی وزراء اور ارکان اسمبلی یوریا کی بلیک مارکیٹنگ اورگنے کے کاشتکاروں کی بربادی میں ملوث اور 300ارب روپے سے زائد ہڑپ کرچکے ہیں۔ملکی معیشت زوال پذیر ہے۔ سٹیٹ بنک سے روزانہ نوٹ چھاپنے کی وجہ سے روپے کی قدر بری طرح متاثر ہوئی اور ملک میں مہنگائی کا طوفان برپا ہوا۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکمرانوں کے پاس کسی قسم کا کوئی وژن نہیں ہے۔ناکام پالیسیوں نے ملک وقوم کو تباہی کے دھانے پر لاکھڑا کیا ہے۔حکمران اپنی کرپشن کا بوجھ عوام پر ڈال رہے ہیں۔منافع بخش ادارے ریلوے،پی آئی اے،اسٹیل مل سمیت پینتیس بڑے بڑے اداروں کی بندر بانٹ کے منصوبے بنائے جارہے ہیں۔موجودہ دورِ حکومت پاکستان کی تاریخ کا بد ترین دورِ حکومت ہے۔گیس اور بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ نے عوام کی زندگی اجیرن بنادی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان پر ملکی و غیر ملکی قرضوں کا بوجھ109کھرب 84ارب روپے سے بڑھ گیا ہے ۔واپڈا نے بجلی کے ریٹ بڑھا کر اور اوور بلنگ کر کے عوام اور کسانوں کا کطومر نکال دیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ضرورت اس مر کی ہے حکومت فوری طور پر معاشی ایمرجنسی نافذ کرے اور جامع حکمت عملی ترتیب دی جائے۔زرعی ماہرین اور صنعتکاروں کو اعتماد میں لیا جائے تاکہ وہ اپنا سرمایہ بھارت ،بنگلہ دیش،ملائیشیااور چین منتقل نہ کریں۔بیرونی سرمایہ کاری کے لئے راہ ہموار کی جائے ۔

یہ بھی پڑھیں  ضلع ڈیرہ غازیخان میں 29 اشیائے خوردو نوش کے سرکاری نرخ ایک ماہ تک موثر

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker