تازہ ترینکالممحمد ناصر اقبال خان

خادم اورمخدوم

جوانسان اپنے محبوب کے” قرب” کیلئے قدم قدم پر” کرب” کاسامناکرے جبکہ محبوب کی آن اور شان کیلئے اپنے ہاتھوں سے اپنی اناکوفنا اورجان قربان کردے اسے اسیر عشق کہاجاسکتا ہے۔سچے” عشق” پرہرکسی کو” رشک” آتا ہے جبکہ راہِ عشق میں ” اشک”زمین پرگرتے ہیں لیکن اِن کی آواز” عرش” پرسنی جاتی ہے۔سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ اورحضرت اویس قرنی رضی اللہ عنہ سمیت ہر عہدکے سچے عاشق آج بھی قابل رشک ہیں۔راہِ حق میں کامیابی کی کوئی ضمانت نہیں لیکن راہِ عشق میں کامرانی یقینی ہے۔معبود برحق اپنی پاک بارگاہ میں اپنے بندوں کے رکوع وسجوداوران کی دعا قبول کرے نہ کرے لیکن اپنے محبوب سرورکونین حضرت محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحبہٰ وسلم کی بارگاہ میں ان کے درود وسلام کو ضرور مستجاب فرماتا ہے۔بیشک اللہ رب العزت کی منتخب شخصیات کے سواکوئی دین حق کی اشاعت کیلئے کام نہیں کرسکتا۔کلا م اِقبال ؒکی تاثیر کاکوئی اسیر کسی میدان میں زیرنہیں ہوتا۔حضرت محمد اقبال ؒ نے اپنے کلام سے سچائی تک رسائی آسان بنادی۔ کلامِ الٰہی کی تشریح کرتے ہوئے حضرت محمداقبال ؒ اپنے کلام میں ایک بیش قیمت راز سے پردہ اٹھاتے ہوئے فرماتے ہیں۔
کی محمدؐ سے وفاتونے توہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح وقلم تیرے ہیں
مولاناخادم حسین رضوی شہیدؒ کوکلام الٰہی اورکلام اقبالؒ دونوں ازبر تھے،بابا جی کی طبیعت میں جوسرشاری کی کیفیت تھی اُس میں محمداقبال ؒ کی شاعری کابہت دخل تھا۔عشق ِمصطفی ؐ کے اسیر اورتحریک لبیک کے امیر مولاناخادم حسین رضوی شہید ؒ نے انتہائی خلوص،صادق جذبوں اورمضبوطی کے ساتھ تحریک ختم نبوت ؐ اورناموس رسالت ؐ کاپرچم اپنے ہاتھوں میں تھام لیا اوران کی پرجوش قیادت میں شمع رسالت ؐ کے پروانے متحداورمستعد ہوتے چلے گئے۔ تحریک ختم نبوت ؐ اورناموس رسالت ؐ کے پرچم اب کروڑوں ہاتھوں میں ہیں جواب قیامت تک سرنگوں نہیں ہوں گے۔ خادم حسین رضوی شہیدؒ نے مسلمانوں کو ناموس رسالتؐ کا پہرہ دیتے ہوئے سردھڑ کی بازی لگانے اورسودوزیاں سے بے نیاز عشق مصطفیؐ کامفہوم سمجھادیاہے،خادم حسین رضوی شہیدؒ بظاہر "عالم دین” لیکن اندر سے "علم دین” تھے۔جومحبوب کی شان پرجان قربان کرنے سے ہچکچاتا یا ڈرتا ہووہ عشق کادعویٰ نہیں کرسکتا۔ خادم حسین رضوی شہیدؒ پاکستانیوں کیلئے عشق مصطفی ؐ کااِستعارہ تھے،ان کی شہادت سے قوم یتیم ہوگئی۔ باباجی کے جذبوں کی شدت اورحدت نے بتادیاانہیں شہرت کی بھوک نہیں تھی مگردنیا میں ان کے نام کاڈنکا بجتا تھااوربجتا رہے گا۔محمدعلی جناح ؒ نے اِسلام کی آبیاری کیلئے پاکستان بنایا جبکہ خادم حسین رضوی شہید ؒ ناموس رسالت ؐ پرہونیوالے حملے روکنے کیلئے پاکستانیوں کو بیدار کرتے ہوئے خود ابدی نیند سوگئے لیکن ان کے فرض شناس جانشین مولاناسعدرضوی اور کروڑوں پیروکاراب بھی جاگ رہے ہیں۔ خادم حسین رضوی شہیدؒ کادل عشاق مصطفی ؐ کے ساتھ دھڑکتاتھا۔خادم حسین رضوی شہیدؒ کے وجود کی برکت سے ہمارامعاشرہ زندہ لگتا تھا،ان کے بعدمعاشرے کوزندہ رکھنا ایک چیلنج ہوگا۔ مولاناخادم حسین رضوی شہیدؒ سے اظہارمحبت اور ان کے پیروکاروں سے اظہار یکجہتی کیلئے اگرہرکوئی مرحوم کے مشن کواپنامشن بنالے تویقینا بابا جی کی روح کو مزیدراحت نصیب ہو گی اوران کے درجات مزید بلندہوں گے۔ پاکستان میں ہر حکمران اورسیاستدان کانعم البدل ہے مگر خادم حسین رضوی شہیدؒ کاکوئی متبادل نہیں۔سرورکونین حضرت سیّدنامحمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحبہٰ وسلم کے باوفااورباصفا "خادم "کی کفار کیخلاف حالت جنگ میں شہادت،ایمان افروز نمازہ جنازہ اورقابل رشک تجہیزو تدفین بیشک ناموس رسالت ؐ کے ساتھ کمٹمنٹ اورجہدمسلسل کا ثمر ہے ورنہ عہدحاضر کے بڑے بڑے "مخدوم” خاموشی سے دنیا چھوڑ گئے۔جس طرح ناموس رسالتؐ کا پہرہ دیتے ہوئے ملعون رام پال کوجہنم واصل کرنیوالے غازی "علم دین "شہیدؒسے اُس دور کے ہزاروں ” عالم دین” پیچھے رہ گئے تھے،اِس طرح "خادم” حسین رضوی شہیدؒ نے اپنی نیت کی برکت سے عشق مصطفی ؐ کاامتحان نمایاں پوزیشن کے ساتھ پاس کرلیا جبکہ عہدحاضر کے کئی "مخدوم ” ابھی تک عشق مصطفی ؐ کانصاب یادکررہے ہیں۔خادم حسین رضوی شہیدؒ کانام،مقام اوراحترام اِسلامیت،عقیدہ ختم نبوت ؐ اورناموس رسالت ؐ کیلئے ان کی بے پایاں خدمات کا انعام ہے۔خادم حسین رضوی شہیدؒ اِسلامیت کے علمبرداراور عشاق مصطفی ؐ کاسرمایہ اِفتخار تھے۔ اجل نے خادم حسین رضوی شہیدؒ سے ان کی زندگی چھین کرپاکستان بلکہ عالم اسلام کو ناموس رسالت ؐ کے حق میں بلندہونیوالی ایک تواناآواز سے محروم کردیا۔خادم حسین رضوی شہیدؒ نے مرقد میں اترتے اترتے بھی اندرون ملک اوربیرون ملک باطل قوتوں کودوٹوک پیغام دے دیاجس سے یقینا آئندہ کوئی عاقبت نااندیش عقیدہ ختم نبوت ؐ اورناموس رسالت ؐ کے نصاب میں نقب لگانے کی ناپاک جسارت نہیں کرے گا۔جس اقدام سے کوئی انسان بیزارہواسے آزادی اظہارکہناجہالت ہے۔ موت نے مولاناخادم حسین رضوی شہیدؒ کی زبان اورآنکھوں کوتوبندکردیا مگران کی دنیا سے رخصتی کے بعدبھی ان کاکام بولتا جبکہ "لبیک یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحبہٰ وسلم "کانعرہ پاکستان کی فضاؤں میں گونجتا رہے گا۔باباجی کی زندگی میں لوگ سوشل میڈیا پران کے پرجوش خطابات کو اس قدرعقیدت ومحبت،دلچسپی اورسنجیدگی کے ساتھ نہیں سنتے تھے جس قدر اب سن رہے ہیں۔ باباجی کی شہادت سے تحریک لبیک کے” کاز” اورناموس رسالت ؐ کے حق میں بلندہونیوالی "آواز”میں مزیدشدت پیداہوگی۔سراپارحمت،سرورکونین حضرت محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کسی صحابی نے پوچھا،”مومن جب قبر میں داخل ہوتا ہے تواس کوسب سے پہلا تحفہ کیا دیاجاتا ہے،آپ ؐ نے ارشاد فرمایا اس کی نمازجنازہ پڑھنے والوں کی مغفرت کر دی جاتی ہے”،میں باباجی کی نمازجنازہ کے خوش نصیب شرکاء کومبارکباد پیش کرتاہوں۔
پاکستان کے اندراورباہرجومٹھی بھر لوگ خادم حسین رضوی شہیدؒ کے زبان وبیان سے ناخوش تھے ان کی خدمت میں عرض ہے گستاخانہ خاکے بنانیوالے شرپسندعناصر کے ساتھ شیریں لہجے میں بات چیت منافقت کے زمرے میں آئے گی جبکہ ان کی گستاخیاں مذمت نہیں بلکہ مزاحمت کی متقاضی ہیں۔سرورکونین حضرت محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحبہٰ وسلم خوراک اورپوشاک کے معاملے میں سادگی پسند تھے لیکن آپ ؐ ہتھیاروں کے معیار پرسمجھوتہ نہیں کرتے تھے۔آپ ؐ نے ظہوراِسلام کے ابتدائی ایام میں دین فطرت کی تقویت کیلئے کسی صاحب علم، سردار یاسرمایہ دار نہیں بلکہ اُس دور کے ایک زورآور” عمر ؓ”کے دائرہ اسلام میں داخل ہونے کی دعا فرمائی جومستجاب ہوئی اوراِسلام کے فیضان سے حضرت عمر ؓ کو”فاروق اعظم "کالقب دیا گیا۔ اللہ تعالیٰ کے احکامات کی روسے دورِنبوت ؐ کے دوران صحابی کفار کومرعوب کرنے کیلئے سینہ تان کر خانہ کعبہ کاطواف کیا کرتے تھے اورآج بھی طواف کے دوران صحابی ؓ کی سنت اداکی جاتی ہے۔ باب العلم حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ایک قول ہے،”شہدکے سواہر میٹھی چیزمیں زہر جبکہ زہر کے سواہر کڑوی شے میں شفاء ہے۔جس طرح بیمار کوشفاء کیلئے دعا کے ساتھ ساتھ کڑوی دوا دی جاتی ہے اس طرح مولاناخادم حسین رضوی شہیدؒ گستاخ کافروں اورپاکستان کے اندرمنافقوں کوکڑوی زبان میں مخاطب کیا کرتے تھے۔
مولاناخادم حسین رضوی شہیدؒ کا آبرومندانہ اورجرأتمندانہ سفرجہاں ختم ہواوہاں سے ان کے فرزندمولاناسعد رضوی نے پراعتماد انداز سے اپنے سفر کاآغازکردیا ہے۔ خادم حسین رضوی شہیدؒ کے بعد تحریک لبیک کی قیادت ان کے فرزند ارجمندمولاناسعدرضوی کے سواکوئی دوسرا نہیں کرسکتا۔تحریک لبیک کی قیادت پرسیاست کرنیوالے عناصر بری طرح ناکام ہوں گے۔خادم حسین رضوی شہیدؒ کے دوٹوک اعلانات،ٹھوس اقدامات اور چھوڑے ہوئے نشانات بہت واضح ہیں لہٰذاء اس کارواں کو دنیا کی کوئی طاقت گمراہ نہیں کرسکتی۔ کامیابی وکامرانی مولاناسعد رضوی کامقدربنے گی۔ مولاناخادم حسین رضوی شہیدؒ کی ولادت اور شہادت والے دنوں کوقومی دن قراردیا جائے۔ہراسلامی ریاست خادم حسین رضوی شہیدؒ کی عقیدہ ختم نبوت ؐ اورناموس رسالت ؐ کی حفاظت کیلئے گرانقدر خدمات کی پذیرائی کیلئے مختلف مقامات کو ان کے نام سے منسوب جبکہ ہرسال ان کی خدمات کوخراج عقیدت پیش کرنے کیلئے یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کرے۔میں احمدفراز کی شہرہ آفاق غزل مولاناخادم حسین رضوی شہیدؒ کی روح کو نذرکرتا ہوں
ستم کاآشنا تھا وہ سبھی کے دل دکھا گیا
کہ شام غم توکاٹ لی سحر ہوئی چلا گیا
ہوائے ظلم سوچتی ہے کس بھنور میں آگئی
وہ اک دیا بجھا توسینکڑوں دیے جلا گیا
سکوت میں بھی اس کے اک ادائے دلنواز تھی
وہ یارِ کم سخن کئی حکایتیں سنا گیا
اب اک ہجوم ِعاشقاں ہے ہرطرف رواں دواں
وہ ایک رہ نورد خودکہ قافلہ بناگیا
دلوں سے وہ گزرگیا شعاع ِ مہر کی طرح
گھنے اداس جنگلوں میں راستہ بناگیا
کبھی کبھی تویوں ہو اہے اس ریاض ِدہر میں
کہ ایک پھول گلستاں کی آبرو بچاگیا
شریک بزم دل بھی ہیں چراغ بھی ہیں پھول بھی
مگر جوجان ِانجمن تھا وہ کہاں چلا گیا
اٹھو ستم زدو! چلیں،یہ دکھ کڑا سہی، مگر
وہ خوش نصیب ہے یہ زخم جس کوراس آگیا
یہ آنسوؤں کے ہار،خوں بہا نہیں ہیں دوستو
کہ وہ توجان دے کے قرض ِ دوستاں چکا گیا

یہ بھی پڑھیں  داؤدخیل:الیکشن میں نوٹو ں کی ریل پیل اور ہارس ٹریڈنگ کی خبریں آجاتی ہیں اب کی بار بھی ایسا ہی ہوا ہے، ڈاکٹر خالد قریشی

یہ بھی پڑھیے :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker