تازہ ترینکالممرزا عارف رشید

خادم اعلیٰ مظلوم سکینہ کی فریاد سنو

سنا ہے کہ پنجاب کے وزیراعلیٰ خود کو خادم اعلیٰ کہتے ہیں۔راقم کی ہاتھ اٹھا کر اللہ تعالی سے دعا ہے ۔پاکستان کے سب حکمران عوام کے سچے حادم بن جائیں۔یہ بات سچ ہے کہ لاہور کے قریب قریب خادم اعلیٰ کی خدمت نظرآتی ہے ۔لیکن جنوبی پنجاب کوخادم اعلیٰ نے نظر انداز کردیا ہے شائدجو ان کو جنوبی پنجاب کے مسائل نظر ہی نہیں آتے۔اگر جھنگ لاہور یا گجرانوالہ کی کسی مظلوم بیٹی کو خادم اعلیٰ کی مددکی ضرورت ہو تو وہ فوروہاں پہنچ جاتے ہیں ۔لیکن بہاولپور کی ایک مظلوم بیٹی سکینہ کب سے خادم اعلیٰ کو مدد کے لیے پکار رہی ہے ۔میاں شہباز شریف صاحب اللہ تعالیٰ نے آپ کو وزیراعلیٰ بھی بنایا ہے اور خادم اعلیٰ بھی اگر ہوسکے تو کچھ وقت نکال کرمظلوم سکینہ کی فریاد بھی سن لیں اور ہوسکے تو اس کی کچھ مدد بھی کردیں ۔ جس کے ساتھ ظالموں نے ظلم کی انتہا کردی بھر ی عدالت میں بالوں سے پکڑ کر گھسٹاگیا ظالموں نے سکینہ کی ایک ٹانگ بھی توڑ دی یہ در د بھری خبر لگتا ہے آپ تک نہیں پہنچی آپ ہی کہ ایک سابق ایم پی اے جن کا کا تعلق مسلم لیگ ن سے ہے ظالموں کا ساتھ دے رہے ہیں سکینہ بی بی کس کے سامنے فریاد کرے اور کس سے انصاف کی بھیگ مانگے اگر آپ واقعے خادم اعلیٰ ہیں تو اس کی فریاد پر ا س کے ساتھ انصاف کریں پورے پنجاب میں کتنی اور سکینہ ہیں جو آپ کی طرف آنکھیں اٹھا کر آپ کی راہیں دیکھ رہی ہیں انصاف کیلئے چیخ و پکار کررہی ہیں کہ ’’ہمیں انصاف دو یا مار ڈالو‘‘ان کی آنکھیں آپ کی راہیں دیکھتی دیکھتی تھک گئی ہیں کوئی تو محمد بن قاسم کی شکل میں آئے گا اور ہماری فریاد سُنے گا اور ان ظالموں سے ہماری جان چھڑوائے گا مظلوم سکینہ کی پوری داستان اس کی زبانی آپ کی سامنے پیش کررہا ہوں اگر آپ کے پاس وقت ہوتو اس کو پڑھ لیں اور خادم اعلیٰ بن کر سکینہ کیساتھ انصاف کریں ۔
سیکنہ بی بی دختر اللہ بچایا زوجہ محمد رمضان نے بتایا کہ مورخہ 26-05-2012کو ڈسٹرکٹ کورٹ بہاول پور میں علاقہ مجسٹریٹ تیور سرمد کی عدالت میں اپنی والدہ اللہ وسائی زوجہ اللہ بچایا کے ہمراہ 7/51کی پیشی پر گئی تاہم پیشی کے بعد وہ اپنے وکیل ملک غلام حیدر چنڑ ایڈووکیٹ کے چیمبر میں دن 12سے 1درمیان موجود تھی کہ ملزمان شیخ عظیم ولد شیخ شہباز ‘ الطاف بھٹی ولد مہر علی ‘ سراج احمد ولد ‘ صلاح الدین ولد سراج احمد ‘ قادر بخش ولد اللہ بچایا ‘ محمد نواز ولد عبدالقادر ‘ شاہد ولد غلام حسین ‘ اللہ نواز ولد منظور احمد و دیگر نامعلوم افراد کے ہمراہ مجھے اور میری والدہ کو چیمبر سے نکال کر مبینہ طور پر گھسیٹنے لگے اور مجھے شیخ عظیم کی گاڑی میں ڈالنے یعنی اغوائ کرنے کی کوشش کی جبکہ ملزمان نے میری والدہ کو بھی شدید زد کوب کیا ‘ ہمیں مارا پیٹا ۔ سکینہ بی بی نے بتایا کہ اس موقع پر ہمارے وکیل ملک غلام حیدر چنڑ ایڈووکیٹ اور انکا منشی موجود نہ تھی مگر ہمارے واویلا و چیخ و پکار پر احاطہ عدالت میں موجود وکلائ ‘ منشی و دیگر لوگ اکٹھے ہو گئے جنہوں نے ہماری جان چھرائی جبکہ میں نے اپنے موبائل سے خود ریسکیو 15پولیس کو کال کی اور انہیں سارا واقعہ بتایا اور اپیل کی کہ شیخ عظیم ‘ الطاف بھٹی ‘ اور انکے کارندوں سے تحفظ فراہم کیا جائے ۔ سکینہ بی بی نے یہ بھی بتایا کہ احاطہ عدالت میں ایلیٹ فورس کے جوان بھی کھڑے تھے جنہوں نے ہمیں اٹھا کر گھر پہنچایا ۔ سکینہ بی بی نے کہا کہ مذکورہ بالا غنڈہ عناصر کیخلاف فی الفور کارروائی کی جائے کیونکہ اگر عام آدمی کو احاطہ عدالت میں بھی تحفظ حاصل نہیں ہے تو باہر انکا کیا بنتا ہو گا ۔ سکینہ بی بی نے بتایا کہ انکا بھائی حافظ منظور جسکی ضمانت خارج ہو چکی ہے اور وہ آجکل جیل میں ہے سے ہمارا زمین کا تنازعہ ہے ۔ سکینہ بی بی نے مزید بتایا کہ حافظ منظور اور قادر بخش جو کہ میرے والد کی پہلی بیوی سے ہیں نے میرا اور میرے بہن بھائیوںاوربچوں کا جینا حرام کر دیا ہے ۔ سکینہ بی بی نے کہا کہ حافظ منظور مبینہ طور پر بد معاش صفت انسان ہے جو میرے بچوں ‘ بہن بھائیوں و دیگرکیخلاف آئے روز جھوٹے اور بے بنیاد مقدمات بنوا رہا ہے جبکہ پولیس تھانہ کینٹ بہاول پور کا اے ایس آئی عاطف مختار بھی ان کیساتھ ملا ہوا ہے ۔ گذشتہ روز وہ ‘ اپنے والد اللہ بچایا اوروالدہ اللہ وسائی کے ہمراہ ہائیکورٹ بہاول پور میں پیشی کے بعد باہر نکلے تو شیخ عظیم ‘ الطاف بھٹی وغیرہ نے انہیں مبینہ طور پر شدید و بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا ۔ اس نے بتایا کہ اسکی 3ایکڑ اور 2کنال زمین کو میرے دونوں سوتیلے بھائی ہتھیانا چاہتے ہیں اور دیگر بہن بھائیوں کو جائیداد میں سے حصہ دینے سے انکاری ہیں جبکہ میرے والد آج تک نہ ہی کبھی کسی گرداور ‘ پٹواری یا کسی دوسری مجاز اتھارٹی کے پاس نہیں گئے اور نہ ہی اس نے اپنے مذکورہ بالا بیٹوں اور بیٹی وحیدہ بی بی کے نام جائیداد کی ہے بلکہ وہ انہیں اپنی جائیداد سے مبینہ طور پر بے دخل کر چکے ہیں ۔ اس نے بتایا کہ ضعیف العمراللہ بچایا میرے والد کی پہلی بیوی سے ہوئے دونوں بیٹوں حافظ منظور اور قادر بخش و بیٹی وحیدہ بی بی نے جائیداد کی خاطر ہم پر آئے روز جھوٹے بے بنیاد مقدمات درج کرانا شروع کرا رکھے ہیں اور ہم روزانہ پیشیوں پر ہی رہتے ہیں جبکہ تھانہ کینٹ کے اے ایس آئی عاطف مختار اور سب انسپکٹر راؤ فیق نے کرپشن و لوٹ مار کی انتہائ کرتے ہوئے ملزمان سے ساز باز کی ہوئی ہے جنہوں نے ہم سے مبینہ طور پر 25ہزار روپے کی ڈیمانڈ کی کہ اگر 25ہزار روپے دیدو گی تو تمہیں مقدمہ سے خارج کردونگا ۔ اس نے بتایا کہ زمین کے تنازعہ کے حوالے سے ہمارے متعدد اکٹھ ڈی ایس پی کے سامنے ہوئے مگر بے نتیجہ رہے کیونکہ اے ایس آئی عاطف کا کہنا ہے کہ زمین چھوڑ دو ‘اے ایس آئی عاطف مبینہ طور پر پارٹی بنا ہوا ہے جس سے ہمیں تفتیش یا انصاف کی امید نہیں ۔ سکینہ بی بی نے چیف جسٹس آف پاکستان ‘ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ ‘ وزیر اعلیٰ پنجاب سے اپیل کی ہے کہ انہیں ظالم سوتیلے بھائیوں اور سگی بہن سے چھٹکارا دلایا جائے اور انہیں ان سے جان کا خطرہ ہے پر تحفظ فراہم کیا جائے جبکہ سکینہ بی بی نے الزام عائد کیا کہ شیخ عظیم اور الطاف بھٹی سابق ایم پی اے و موجودہ چیئرمین ٹاسک فورس پنجاب سمیع اللہ چوہدری کے مبینہ طور پر کارندے ہیں جن کام غریب و شریف لوگوں کو تنگ کر کے انکی جائیدادیں ہتھیانا ہے ۔
اگر چیف جسٹس کے بیٹے کا کیس ہو تو اخباریں انصاف کی اپیل کرتی ہیں کہیں سیاست دان چیف جسٹس کا ساتھ دیتے ہیں مظلوم سکینہ کا ساتھ کون دیگا؟ یہ بے رحم وقت میرے ساتھ کب انصاف کریگا َ؟کون آئے گا مظلوم کا ساتھ دینے ؟انتظار میں نظریںلگا کر بیٹھیں ہیں ۔

یہ بھی پڑھیں  آئی سی سی ٹی 20 کرکٹ رینکنگ جاری،پاکستانی کی پہلی پوزیشن

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker