بشیر احمد میرتازہ ترینکالم

خاموشی کے سائے میں ۔۔۔!!!

bashir ahmad mir logoآج کل انتخابات کا جن چڑھ کر بول رہا ہے ،اس بارے لکھنے کو جی چاہتا ہے مگر قارئین کی آگاہی کے لئے عرض ہے کہ طے شدہ ضابطہ اخلاق کو مد نظر رکھتے ہوئے پوری کوشش ہوگی کہ آمدہ حالات بارے خدشات اور نتائج پر بحث کی جائے ۔سب سے پہلے حکمران جماعت پی پی پی سے آغاز کرتے ہیں جس کی قیادت پہلی بار منفرد انداز سے انتخاب میں حصہ لے رہی ہے ،کہیں بھی بڑا جلسہ یا روایاتی انتخابی مہم نظر نہیں آرہی ،جواز پیش کیا جا رہا ہے کہ دہشتگردی کے خدشات کے پیش نظر انتخابی مہم کو ڈور ٹو دوڑ محدود کیا گیا ہے ،پی پی پی کی خاموشی بھی ایسی ہے کہ ہر ایک شہری سوچ رہا ہے کہ آخر اس طرز سیاست سے کیا نتیجہ نکلے گا،حالانکہ پی پی پی کا جنم بھر پور عوامی رابطے کے نتیجہ میں ہوا ، جمہوریت کے لئے بھٹو خاندان کی قربانیاں تاریخ کا انمٹ حصہ ہیں ،پی پی کے کارکنوں کی جد و جہد بھی نا قابل تردید حقیقت ہیں ،جب بھی ماضی میں ہونے والے انتخابات کی باز گشت ہوتی تھی تو جیالے میدان میں اتر آتے تھے مگر اب کی بار جیالے ایسے ٹھنڈے پڑے ہوئے ہیں جیسے اقتدار ان کی جھولی میں ہو،ممکن ہے کہ جیالوں کی رائے درست ہو مگر قرین یہ بتاتے ہیں کہ جس خاموشی سے پی پی چل رہی ہے اس سے دو آراء سامنے آ رہی ہیں ایک تو یہ بات ہے کہ پی پی کی قیادت مطمئن ہے کہ انہیں مطلوبہ اکثریت مل جائے گی اور دوسری بات جو سمجھ آ رہی ہے کہ وہ نمبر سکوئرنگ سے حکومت بنانے کی امید ،کہتے ہیں کہ خاموشی تین طرز عمل کے لوگ اختیار کرتے ہیں 1۔اللہ کا ذکر و فکر کرنے والے ،2۔کام چور ، 3۔نقب زن ،اب یہ فیصلہ آپ کریں کہ پی پی پی کی خاموشی کس طرز عمل کی نشاندھی کر رہی ہے ۔۔۔؟؟؟،بلاشبہ اپنے پانچ سالہ دور کو مکمل کرنے والی پارٹی کے کارکنوں میں بھی کوئی ماضی کی طرح والا جذبہ نظر نہیں آرہا ،شاہد یہ سمجھ چکے ہیں کہ وہ عوام کا سامنا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ،یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ماضی کی نسبت حالیہ انتخابات میں پی پی کے خلاف کوئی بڑا اتحاد سامنے نہ آنا انہیں ریلیف مہیا کر سکتا ہے ،ان انتخابات میں سبھی پارٹیاں میدان عمل میں ہیں جس سے یہ بھی اخذ ہوتا ہے کہ ووٹ تقسیم در تقسیم ہونے سے پی پی اپنے ووٹ بنک کی سبقت سے اپنا ہدف عبور کر لے گی۔
یہ امر خوش آئند ہے کہ ن لیگ ،پی ٹی آئی ،جماعت اسلامی ،جے یو آئی سمیت سب سیاسی پارٹیاں بڑھ چڑھ کر انتخابی مہم جاری رکھی ہوئی ہیں ،ان کے بڑے بڑے جلسوں کو دیکھ کر پی پی کے فلسفہ سے اختلاف کرنا پڑتا ہے کہ وہ عوام سے دور رہ کر کیونکر کلین سویپ کر سکے گی۔بہر حال اب گیارہ مئی کون سا دور ہے ،کہاوت ہے کہ کوئی بال کٹوانے حجام کے پاس گیا اور اس نے کہا ’’میرے کتنے بال ہونگے تو حجام نے بر جستہ جواب دیا کہ جناب سامنے آئیں گے گن لینا‘‘۔گیارہ مئی سب سامنے آ جائے گا ،لہذا قبل از وقت رائے کی کوئی صداقت نہیں ہوا کرتی۔یہ ماننا پڑے گا کہ 5سالہ پی پی پی کے دور میں عام آدمی کو مہنگائی ،بے روزگاری ،غربت اور معاشی استحصال کا سامنا رہا ،دہشتگردی نے عوام کو عدم تحفظ کا شکار کیا اور جرائم میں بھی ہوشربا اضافہ دیکھنے میں آیا۔اس کے ساتھ ساتھ بجلی کے بحران نے معاشی دباؤ میں بے پناہ اضافہ کر دیا،حالانکہ پی پی کی حکومت نے پن بجلی کے کئی منصوبہ جات کا آغاز کیا تھا اور مہنگائی کنٹرول کرنے کے لئے پرائس کنٹرول کمیٹیوں کو متحرک بھی کیا مگر نتائج زیرو نکلے۔عوام اسی طرح معاشی ابتری کی دلدل میں اٹکے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں ۔پھر بھی ’’ایک زرداری سب پہ بھاری ‘‘کی گردان سمجھ سے بالا تر ہے۔
کچھ ذرائع کہتے ہیں کہ جیسے مکھن سے بال آسانی کے ساتھ نکل جاتا ہے اسی طرح ’’بھاری‘‘ بھی سرپرائیز دے کر ورطہ حیرت میں ڈال سکتا ہے۔حکومت نہ سہی اپوزیشن لیڈر شپ تو ملنے کی توقع رکھنا مبنی بر حقیقت ہے۔انتخابی مہم کو دیکھا جائے تو ن لیگ اور پی ٹی آئی کا پلڑا بھاری نظر آتا ہے مگر جب ماضی کے ووٹ بنیک کا جائیزہ لیا جائے تو ن لیگ اورپی پی کا میدان سجنے کے آثار دکھائی دے رہے ہیں۔
ہر پارٹی نے بڑا خوشنما منشور دیا ہے ،عوامی اور اشتہاری مہمات میں بھی سب پارٹیوں کا جمہوری عمل میں شامل ہونا نیک شگون ہے بالخصوص بلوچستان میں سب سیاسی پارٹیوں کی شمولیت باعث اطمینان ہے ۔جیسے جیسے انتخابات کے دن قریب آ رہے ہیں ،ہر پارٹی کے ووٹ بینک میں اتار چڑھاؤ دکھائی دے رہا ہے ۔جس سے حتمی رائے اخذ کرنا محال ہے ۔بہر حال نتائج جیسے بھی نکلیں ،سیاسی پارٹیوں نے جس منظم انداز سے انتخابی مہم انتہائی پُر خطر ہونے کے باوجود جاری رکھی ہے اس سے امید کی جاتی ہے کہ اسلامیہ جمہوریہ پاکستان مستحکم اور خوشحال ہوگا ،ووٹر کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ووٹ دیتے وقت صرف یہ خیال کر لے کہ اس کا نظر انتخاب درست ہے تو اسی میں ہماری من حیث القوم کا میابی ہو گی۔
جموریت کا تسلسل ملک کے مفاد میں ہے ،البتہ آنے والا جو بھی ہو اسے بے شمار چیلنجز کا سامنا کرنے پڑے گا۔دہشتگردی نے ہمیں دبوچ رکھا ہے جبکہ مہنگائی ،بے روزگاری اور جہالت نے ہر گھر میں جن بھوت کی شکل بنا رکھی ہے ،بجلی بحران سے معیشیت کا پہیہ جام کر رکھا ہے اور کرپٹ مافیا نے عوام دشمن رویہ سے قومی ترقی روک رکھی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ’’ نظام بدلو‘‘ کی فکری مہم عوام میں سرایت کرتی جا رہی ہے اگر آنے والوں نے ہوش کے ناخن نہ لئے تو بھیانک انجام کی گھنٹی بجتی دکھائی دے رہی ہے ۔ووٹر گیارہ مئی کو 5سال کا بیعہ نامہ آنے والوں کو مہر لگا کر دے رہا ہے تو ووٹر کو ہوشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دیانت دار قیادت کے حق میں فیصلہ دینے سے نظام بدل سکتا ہے ۔نظام بدلنا صرف مراعات اور تنخواہیں کم کرنے سے نہیں بلکہ ہر ادارے کی بلا امتیاز تطہیر کرنے سے ممکن ہے ۔کہتے ہیں کہ حالت بدلنے کے لئے خود کو بدلنا پڑتا ہے ،لہذا عوام خود احتسابی انداز سے اپنا انتخاب کر کے قوم پر احسان عظیم کریں۔note

یہ بھی پڑھیں  لگتا ہے کہ مشرف کو باہر جانے کی اجازت ملنے پر نواز شریف بھی راضی ہیں۔ سید خورشید شاہ

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker