انور عباس انورتازہ ترینکالم

خامیاں ،کمزوریاں بجا مگر۔۔۔!!!!

anwar abas logoآج حکومت کی ناہلی زیر بحث ہے ،تو کہیں اپوزیشن کی ہٹ دھرمی کو موضوع سخن بناہوا ہے۔گھروں کی چادیواری سے چائے خانوں اور بڑے ریستورانوں کی لابیوں حتی کہ سرکاری دفاتر میں گفتگو ہو رہی ہے کہ خرابی کہاں ہے جس کے باعث ہمارا سسٹم چلنے سے معذور ہے۔کوئی سسٹم کو درست کہتا ہے تو کوئی ہماری نیتوں کو ذمہ دار قرار یتا ہے ۔۔۔تو کوئی یہ خیال اپنائے ہوئے ہے کہ سب کچھ صحیح کام کر رہا ہے مگر خود ( عوام )کوٹھیک نہیں سمجھتا۔۔۔ اس کا خیال ہے کہ اگر عوام انتخابات میں اپنا قیمتی ووٹ کاسٹ کرتے وقت صحیح امیدوار اور جماعت کا انتخاب کر لے تو تمام خرابیاں دور ہو سکتی ہیں۔۔۔خیر ہمارے پاس کام کرنے کا جنون ہو نہ ہو مگر بحث کرنے کو دماغ بھی ہے اور وقت اور جذبہ بھی وافر مقدار میں موجود ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ دوسروں کے عیب تلاش کرنے اور انکی ذات کو ہدف تنقید بنانا ہمارا بہترین مشغلہ بن چکا ہے۔لیکن اپنے اندر دیکھنے کو کوئی تیار نہیں ہے۔
سسٹم سے زیادہ ہمارے ہاں سیاستدانوں کو مطعون کرنا ہمارا وطیرہ بن چکا ہے۔ سب سے زیادہ تنقید فوج اور میڈیا کی جانب سے ہوتی ہے۔کیونکہ انکی خوائش ہوتی ہے کہ جوبھی حکومت برسراقتدار آئے خارجہ پالیسی سے لیکر کابینہ کی تشکیل بھی ہماری مرضی و منشاء سے بنائی جائے۔
اسلم بیگ ہمارے سابق آرمی چیف ہیں ۔انکا کہنا ہے کہموجودہ وقت میں ہماری کمزوریاں اور حقائق ابھر کر ہمارے سامنے آئے ہیں،جو فوری توجہ اور حل طلب ہیں۔۔۔انکے مطابق ہمارے مروجہ انتخابی نظام میں بہت سی خامیاں ہیں جنہیں ہنگامی بنیادوں پردرست کرنا لازم ہے۔اسلم بیگ نظام کی افادیت قائم کرنے کے لیے جلد از جلد انتخابات کا انعقاد ضروری قرار دیتے ہیں۔۔۔۔جنرل اسلم بیگ کی عقل سلیم کے مطابق ملک میں رائج خاندانی اور اشرافیہ کی حکومت کو عوامی جمہوریت میں تبدیل کیا جائے۔جس میں خصوصی طور پر وسطی اور نچلے طبقوں کی نمائدگی یقینی بنائی جائے۔ جنرل اسلم نظام کو بہتر بنانے کے لیے ماہرین پر مشتمل ایک ادارے کا قیام تجویز کرتے جو قومی زندگی کے معاملات میں حکومت کی رہنمائی کرسکے۔۔۔!!!!۱۱
جنرل اسلم بیگ کی سب باتیں قابل غور اور لائق توجہ ہیں۔ کوئی بھی نظام اور کوئی بھی حکومت اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک وہ تک نظام میں موجود اوراپنی خامیوں اور کمزوریوں کی اصلاح نہ کرلے۔ میں نے ابھی چند روز پیشتر ہی ایک کالم لکھا تھا کہ ’’ نظام میں خرابی کہاں ہے کہ ہر بات پر عدالتوں اور وزیر اعلی و وزیر اعظم کو نوٹس لینے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔‘‘ اور یہ تو اب ہمارا قومی کلچر بن چکا ہے کہ جب تک عدلتیں اور وزیر اعظم اور وزیر اعلی کسی واقعہ کا از خود نوٹس نہ لیں تو انتظامیہ کا حرکت میں آنا تو دور کی بات ہے،انکے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔
میں جنرل اسلم بیگ کی اس تجویزکے حق میں ہوں کہ انتخابی نظام میں موجود خرابیوں اور خامیوں کی فوری اصلاح کی ضرورت ہے تاکہ انتخابات میں پیدا ہونی والی شکایات کے ازالہ کے لیے شکایت کندگان کو پانچ پانچ سال سے زائد الیکشن ٹربیونلز میں دھکے نہ کھانے پڑیں۔ بے شک الیکشن ٹربیونلز کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ انتخابی عذر داریوں کا فیصلہ 120 روز میں کریں۔ لیکن اس کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ گیارہ مئی دوہزار تیرہ کو ہونے والے انتخابات کو منعقد ہوئے سوال سال ہو چکا ہے مگر ابھی تک عذرداریاں زیر سماعت ہیں۔۔۔ کہا جاتا ہے کہ جی عذرداریاں دائر کرنے والے امیدوار ہی سماعت ملتوی کرنے کی درخواستیں کرتے رہتے ہیں۔ اور بعض اوقات جیتے ہوئے امیدوار بھی حیلے بہانوں سے سماعت کی راہ میں روڑے اٹکاتے ہیں۔تاکہ فوری فیصلہ لینے کی بجائے زیادہ سے زیادہ وقت حاصل کرکے کیس کو طول دیا جائے۔ میں جنرل مرزا اسلم بیگ کی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے تجویز دیتا ہوں کہ عذرداریوں کی سماعت کرنے والے ٹربیونلز کی تعداد اس قدر بڑھا دی جائے کہ کسی بھی ٹربیونل کے پاس زیادہ بوجھ نہ رہے۔ اور انہیں سختی سے ہدایات دی جائیں کہ کیسوں کو قومی مفاد میں بے جا ملتوی کرنے سے گریز کیا جائے
ماسوائے چوتھی بات کہ ماہرین پر مشتمل ایک ادارہ بنایا جائے جو مشکلات میں حکومت کی راہنمائی کا فریضہ سرانجام دے۔۔۔میں تو کیا کوئی بھی جمہوریت پسند جنرل اسلم بیگ کی اس تجویز سے اتفاق نہیں کرے گا ۔کیونکہ اس تجویز میں سے نیشنل سکیورٹی کونسل کی بو آ رہی ہے۔ ماضی میں کئی بار فوجی حکمران اس تجویز کو شرف قبولیت بخشنے کی اپنے تئیں سعی کر چکے ہیں۔ لیکن فوجی حکمرانوں کے ایوان اقتدار سے رخصت ہوتے ہی انکا بنایا ہوا نظام حکومت دھڑام سے زمین بوس ہو جاتا رہاہے۔۔ایوب خاں،یحیی خاں ،جنرل ضیاء الحق اور جنرل مشرف کے متعارف کرائے گئے نظام حکومتوں کا نام نشاں نہ ملنا میری باتوں کا کھلا ثبوت ہے۔
میری مرزا اسلم بیگ کی خدمت میں عرض ہے ۔کہ اگر ہمارے جنرل خود کو عقل کل سمجھنے اور تمام تر برائیوں کی جڑ سیاستدانوں کو قرار دینے کی بجائے اقتدار پر قبضہ کرنے کی خوائشات کو دل و دماغ سے نکال دیں تو ہمارا نظام حکومت بہتری کی جانب گامزن ہو سکتا ہے۔ نظام میں خرابی تب پیدا ہوتی ہے جب نظام کو چلانے والوں کو پتہ ہی نہ ہو کہ کب ’’ لیفٹ رائیٹ‘‘ شروع ہو جائے۔ بس اسلم بیگ اتنی مہربانی فرمائیں کہ وہ اپنے پیٹی بند بھائیوں کو سمجھائیں کہ حکومت کرناجن کاکام ہے انہیں کرنے دیں۔
رہی بات نظام حکومت اور حکمرانوں میں موجود خامیوں اور کمزوریوں کی تو وہ سیاستدانوں سمیت ہر ادارے اور ان کے سربراہوں میں موجود ہیں۔حتی کہ ہماری نوکر شاہی جنہیں ہمارے قائد بابائے قوم حضرت محمد علی جناح نے تنبیہ کی تھی کہ وہ عوام کے خادم بن کر رہیں حاکم نہ بنیں۔ شائد بابائے قوم کا یہی ایک جرم تھا کہ انہیں اپنے مذموم مقاصد کے راستے کی دیوار سمجھتے ہوئے زہر دیکر دنیا سے رخصت کردیا گیا۔ اگر ایسا نہ کیا جاتا تو شائد ہماری یہ حالت نہ ہوتی ۔

یہ بھی پڑھیں  ماؤں کو سلام جنکی قربانی کی بدولت آج ہم اس مقام تک پہنچے: آرمی چیف

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker