شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / کھڑکی نہیں دروازہ مضبو ط ہونا چاہیے

کھڑکی نہیں دروازہ مضبو ط ہونا چاہیے

رویا جا تا ہے، بلکے ہر با ر رو یا جا تا۔ تبد یلی کیو ں کر ممکن نہیں، ایک وجہ،ما ضی سے سیکھیں، دینا کی مثال لیں، جب ماضی کو بار با ر دہرا یا جا ئے، مگر اس سے کچھ سیکھا نہ جا ئے تو پھر تبد یلی کے خو اب تو دیکھے جا سکتے مگر حقیقی تبد یلی سے ملا قات نہیں ہو نی، ہما رے ہاں الٹا حسا ب ہے کہ در وا زے کو مضبو ط کر نے کی بجا ئے کھڑ کی پر فو کس کیا جا تا ہے، ایک لا ئن،،،
حا لات بد لنے تو حقیقی قد م بڑ ھا ؤ،
ہما رے وطن عز یز میں رولا پڑا ہو ہے کہ خاں کی حکومت ٹیکس ہی ٹیکس لگا ئے جا رہی ہے ، اس سے مہنگا ئی میں اضا فہ ہو رہا ہے اور جو مز دور طبقہ ہے جس کی آ مد ن بہت کم ہے اس کا گز ارہ بہت ہی مشکل ہے،اس با ت سے بلکل انکا ر نہیں ہے کہ پا کستان میں مہنگا ئی زیا دہ ہو گئی ہے، اور بے رو ز گا ری میں اضا فہ ہی ہو تا نظر آ رہا ہے،اور افسو س کی با ت یہ ہے کہ جو عوام کو خاں صا حب کی حکو مت سے امید یں تھیں اس پر وقتی ان کو پا نی پھر تا نظر آ رہا ہے، تحر یک انصا ف کی جا نب سے موقف یہ ہے کہ حکو مت کے پا س پیسہ نہیں، جو پہلے قر ضے لیے گے ان کا بو جھ ہی بہت زیا دہ ہے، اور اگر اب مز ید قر ضے لیے گے تو بہتری کیسے ممکن ہو سکتی ہے، اس مو قف سے بھی ہم انکا ر نہیں کر تے ہیں، مگر تمام مسا ئل کا حل کیاہے، یا یہ طر یقہ اپنا یا جا رہا ہے یا اپنا یا جا ئے گا کہ کچھ تر قیا تی کا م کر دیے جا ئیں گے اس کو سیاسی نعر ہ بنا کر ااگلے الیکشن کی تیا ری کی جا ئے گی اور ساتھ کہا جا ئے گا ہما رے پا س وقت اور وسا ئل ہی اتنے تھے جتنا ہم کر سکے یہ قو م پر ہما را احسا ن سمجھا جا ئے۔
مو جودہ صو رت حا ل یہ ہے کہ خاں صاحب سمجھ چکے ہیں کہ قر ضے لیے بغیر ملک چلا نا ممکن نہیں، آ ئی ایم ایف سے تا زہ تا زہ قر ضے لیے جا چکے ہیں، یہ الگ بات ہے کہ اس اقدا م سے ان پر ایک سیاسی داغ لگ چکا ہے کہ، جیسے خاں صا حب کہتے تھے جب ملک قر ضے لیتا ہے تو اس کی پا لیسیوں پر دوسروں کی مر ض چلتی ہے اس طر ح ملک تر قی نہیں کر سکتا، تحر یک انصا ف پر کچھ اور بھی سیا سی داغ لگ چکے ہیں، جیسے ما ضی کی حکومت کے وز یر ان کی فر نٹ لسٹ میں شا مل ہیں، وغیر ہ وغیرہ، ان دا غ کو صا ف کیسے کیا جا سکتا ہے، خاں صا حب کو ضر ور اس طر ف تو جہ دینے کی اشد ضر ور ت ہے، اگر خاں صا حب کی سیا ست جو تقر یبا ویسے ہی نظر آ رہی جو ما ضی میں با قی سیا ست دانوں میں دیکھتے آ ئے ہیں تو عوام خاں صا حب سے ما یو س ہوگی اور رزلٹ اگلے الیکشن میں نظر آ ئے گا، اس سا ری صو رت حال میں ہو نا کیا چا ہیے، مگر لکھ چکے ہیں کہ با قی دنیا سے ہی مثبت مثا ل لیں اس میں کو ئی بر ی بات نہیں ہے، ہم یہاں اسپین با رسلونا تو یہاں کی سر کا ر کا ٹیکس سسٹم کیا اس کا تھو ڑا سا ذکر کر تے چلتے ہیں، اور خو اہش کر یں گے کہ ایسا نظا م ہمارے پا کستان میں بھی ہو نا چا ہیے، پا کستا ن میں ٹیکس کے رو نے دھو نے تو اسپین کی حکو مت نے بھی ٹیکس لگا ئے لیکن یہاں کی عوام میں وہ رونا دھو نا نہیں نظر آ رہا جو پا کستان میں نظر آ رہا ہے، یہاں کی بہت ہی چھو ٹی سی مثال، یہاں کو ئی گلی محلے میں چھو ٹی سی دوکان، شا پ، یا کو ئی کا ربا ر کرتا ہے تو ایک ماہ کی کا رکر دگی ظا ہر کر نے کے لیے اس کو وکیل کی مد د لینی پڑ تی ہے اور وہ وکیل قا نونی کا روا ئی اور قا نونی ریکو منٹ کو دیکھتے ہو ئے دوکان، شا پ کی سیل اس پر ٹیکس کے فگر بنا تا اور ما لک بنک میں جا کر جمع کر وا تا ہے،
اور اگر ہر ما ہ کے ٹیکس کے پیپر مکمل نہ ہو ں اور کچھ لو گ ہنکی پنکی جو کر تے ان کی پکڑ اس طر ح کی جا تی ہے کہ یہاں ایک مکمل ادارہ بنا ہو ا جس کی فو رس، دوکا نوں، شا پ، اور کا ر و با ر کی جگہ جا تی اور چھا پے کی شکل میں،اور تمام پیپر ورک چک کر تی ہے ہے کہ ٹیکس ادا ہو رہا ہے یا نہیں، اور جو اس شاپ، دوکان، یا کا ر و با ر میں کام کر نے والے ان کی قا نو نی طر یقہ سے انٹر ی مو جو د ہے یا نہیں، انٹر ی مطلب رجسٹرڈ، اس تما م کا رو ائی سے تین فا ئد ے جو سا منے نظر آ تے ہیں، وکیل کا معزز پیشہ ان کو بز نس ملتا، ہما رے ہاں تو بے چا رے وکیل کیس ہی ڈھو نڈ تے رہتے ہیں، دوسرا فا ئدہ ہر ماہ ٹیکس ادا ہو رہا ہے تا نہیں یہ چیک ہو تا،ہما رے ہاں سالوں کے بعد چیک کیاجاتا پھر کیس عدا لتوں میں لگتے اتنی دیر میں اپنی مر ضی کے لو گ حکومت میں آ جا تے ہیں، پھر یہ جا وہ جا،،، تیسرا فا ئد ہ، وہ یہ کہ جو لو گ کا م کر تے ان کا ٹیکس بھی ادا ہو رہا ہو تا ہے اور جو سر کا ر کی طر ف سے تنخواہ فکس کی گئی ہو تی ہے اتنی ہی ملتی ہے کسی ورکر کے ساتھ زیا د تی نہیں ہو تی، ورکر کے نام ٹیکس گیا ہو تاہے اور اگر وہ ور کر کبھی بے رو زگا ر ہو تو اس ادا کیے گے ٹیکس کی بنیا د پر اس کو کچھ ماہ سر کا ر کچھ تنخو اہ ادا کر تی اور اتنے عر صے میں وہ کو ئی اور نو کری یا رو زگا ر تلا ش کر لیتا ہے،مطلب یہ کہ سر کا ر بے روز گار ہو نے والے کامشکل میں ہا تھ تھام لیتی ہے، اور یہ سوال بھی ختم ہو جاتا ہے کہ ہم سر کا ر کو ٹیکس دیتے ہیں یہ بد لے میں ہم کو کیا دیتی ہے، ہما رے ہاں سر کا ر کی طر ف سے جو فکس تنخو اہ رکھی جا تی ہے وہ دور دراز علا قے تو کیا پنڈی اسلا م آ با د میں اس پر عمل نہیں ہوتا، اب بے چا رہ مزدور یہ سو چتا ہے جتنی کی نو کری مل رہی وہی کر لو گھر میں بچے بھو کے انتظا ر کر رہے ہیں، کو ئی قانو ن کی طر ف نہیں جا تا، تبا ہی یہاں ہی سے تو شر وع ہو تی ہے جو پھر ختم ہو نے کا نام نہیں لیتی کہ لو گ قانون سے بھا گتے ہیں تو جو امیر طبقہ وہ سمجھ جا تا ہے کہ غر یب طبقے کے جتنے مر ضی حق ما ر لیے جا ئیں کو ن سا یہاں کسی نے آ واز اٹھا نی ہے، چھو ٹ کس کو ملی، امیر طبقے کو، حکو مت کی خا می یہاں کہ چیک انیڈ بیلنس ہو نا چا ہیے، وہ بھی ہر ما ہ، مگر ہما رے ہاں سالوں بعد یا د آ تا ہے کہ کسی نے ٹیکس نہیں دیا کو ئی اتنا امیر کیسے ہو گیا اس کو اب چیک کیا جا ئے، خاں صا حب اس طر ح کے قا نون اور اداروں کو حر کت میں لے آ ئیں تو وہ تمام داغ مٹ جا ئیں گے،کیونکہ یہ اقداما ت عام عوام چا ہتی ہے کہ ایسا ہما رے پا کستان میں بھی ہو نا چا ہیے۔رویا جا تا ہے، بلکے ہر با ر رو یا جا تا۔ تبد یلی کیو ں کر ممکن نہیں، ایک وجہ،ما ضی سے سیکھیں، دینا کی مثال لیں، جب ماضی کو بار با ر دہرا یا جا ئے، مگر اس سے کچھ سیکھا نہ جا ئے تو پھر تبد یلی کے خو اب تو دیکھے جا سکتے مگر حقیقی تبد یلی سے ملا قات نہیں ہو نی، ہما رے ہاں الٹا حسا ب ہے کہ در وا زے کو مضبو ط کر نے کی بجا ئے کھڑ کی پر فو کس کیا جا تا ہے، ایک لا ئن،،،
حا لات بد لنے تو حقیقی قد م بڑ ھا ؤ،

یہ بھی پڑھیں  اسلام آباد: انگوٹھوں کی تصدیق کو تماشا بنایا جارہا ہے، چوہدری نثارعلی