تازہ ترینکالم

خا ص لوگ

پنجاب کے بارے میں بظاہرعمومی تاثر یہی دیاجاتا ہے کہ یہ پاکستان کے باقی صوبوں کی نسبت بہتر حکمرانی اور گڈ گوورنس کے اعتبار سے سب سے آگے ہے۔یہاں سب معاملات آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے سرانجام دئیے جا رہے ہیں۔۔۔ نہ تو یہاں لا قانیت ہے اور نہ بد امنی۔۔۔نہ چور کی موجیں ہیں۔اور نہ صوبے میں ڈاکو کا راج ہے اور نہ ہی پنجاب بھر میں کسی بھتہ مافیہ،لینڈ مافیہ یا ڈرگ مافیہ کا وجود ہے۔ترقیاتی کاموں کی بھر مار ہے جتنے ترقیاتی کام پنجاب میں ہو رہے ہیں پورے ملک میں کہیں نہیں ہو رہے۔۔۔ہر طرف دوودھ کی نہریں بہہ رہی ہیں۔لیکن یہ سب کچھ درست نہیں ہے عوان صحیح صورت حال سے اس لیے بے خبر ہیں کہ میاں شہباز شریف کی میڈیا پر گرفت مضبوط ہے یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ کوئی سکینڈل منظر عام ہر نہیں آیاجیسا کہ وفاقی حکومت کے حج کرپشن کیس،این آئی ایل سی کرپشن کیس،رینٹل پاور پراجیکٹ کرپشن کیس یا اوگرا والے توقیر صادق کرپشن کیس عدنان خواجہ کیس ان جیسے دوسر بہت سے کیس ۔گو میاں شہباز شریف اور ان کی حکومتی ٹیم پر الزامات تو بہت سے لگائے گے لیکن کوئی ثبوت سامنے نہیں لایا گیا ۔مثال کے طور پر راجہ ریاض نے شہباز شریف پر دوہری شہریت کاالزام لگایا اور جب سپریم کورٹ نے از خود نوٹس لیا تو راجہ ریاض سپریم کورٹ کو ثبوت فراہم کرنے کی بجائے بھیگی بلی بن گئے۔اور اپنے الزام کی خود ہی تردید کردی۔لیکن جاننے والے جانتے ہیں اور با خبر ہیں کہ پنجاب کی جو تصویر پیش کی جا رہی ہے پنجاب ویسا ہے نہیں۔پنجاب میں چوریاں بھی ہو رہی ہیں زمینداروں کے مال مویشی بھی ’’کھل ‘ رہے ہیں اور ڈاکو بھائی بھی اپنی موج مستی میں بڑی تند ہی سے اپنے کاروبار کو جا ری و ساری رکھے ہوئے ہیں،حکومتی وزیر اور مشیر بھی ہاتھوں کی صفائی دکھانے میں ’’مصروف عمل ‘‘ ہیں۔فرق صرف یہی ہے کہ بقول جنرل ضیا الحق ’’شہباز شریف کا کلہ مضبوت ہے‘‘ کرپشن کے کیسوں کو منظر عام پر لانا تو دور کی بات ہے کسی صحافی کو ان کی پریس کانفرنسز میں آزادانہ اور انکے مزاج و منشاء کے برعکس سوال کرنے کی اجازت نہیں ہوتی اور اگر کسی نے ایسا کر لیا تو وہ پریس کانفرنس کے بعد نوکری پر نہیں رہ سکتا۔۔۔اور اللہ کے فضل اور اپنی ماں کی دعاؤں کی بدولت صحافی دوست نوکری سے ہاتھ دھونے سے بچ جائے تو اتنا ضرور ہوتا ہے کہ اسکی ’’ بیٹ‘‘ تبدیل کر دی جاتی ہے ۔معین ایدین احمد مرحوم اور اپنا جگری یا محسن اسکی جیتی جاگتی مثالیں ہیں۔اسکے علاوہ بھی بہت سے واقعات پیش کیے جا سکتے ہیں۔پنجاب کے وزیر اعلی کی دختر نیک اختر کا مشہور زمانہ ’’بیکری کیس‘‘ بھی سب کے سامنے ہے اگر یہ واقعہ کسی اور سے سرزد ہوا ہواہوتا تو ہمارے آزاد میڈیا اور آزاد عدلیہ نے اسکا حشر نشر کر دینا تھا ۔لیکن یہاں نہ کسی بڑے کالم نگار کی قلم نے سیاہی کی جگہ آنسو بہائے اور نہ کسی عدالت نے اس واقعہ کو ’’ وحید ہ شاہ ‘‘ اور دو بوتل شراب والی عتیقہ اوڈھو‘‘جتنی اہمیت کے قابل سمجھا۔برحال بات کہاں سے کہاں جا پہنچی۔آجکل پنجاب کے ’’مرد آہن ‘‘ وزیر اعلی میاں شہباز شریف اور آئی جی پنجاب پولیس کے تعلقات کے بارے میں بہت ساری چہ مگوئیاں ہو رہی ہیں۔اطلاعات کے بطابق ان دونوں کے درمیاں ’’سرد جنگ‘‘ اپنے عروج پر ہے۔وزیر اعلی کی جانب سے آئی جی پنجاب کی طرف سے بھیجی جانے والی ہر سمری ’’اعتراضات ‘‘ لگا کر نا منظور کی جا رہی ہے۔ کوئی ہفتہ پہلے آئی جی صوبے میں امن و امان کو بہتر بنانے کے لیے کچھ اضلاع کے ڈی پی اوز کے تقرر و تبادلوں کے لیے ایک سمری وزیر اعلی کو بھیجی تھی ،لیکن وزیر اعلی میاں شہباز شریف نے اسے مسترد کر دیا ۔وجوہات یہ بتائی جاتی ہیں کہ جن پولیس افسران کے تبادلے کی سمری آئی جی حاجی حبیب ایر رحمان نے بھیجی تھی ،ان سب کے سروں پر ’’وزیر اعلی کا دست شفقت تھا۔ایک دو واقعات اور بھی ہیں جن میں میاں شہباز صاحب نے حاجی صاحب کے مرتبے کو ملحوظ خاطر نہ رکھتے ، یا پرواہ نہ کرتے ہوئے ان کی سخت الفاظ میں سرزش کرنا بھی شامل ہے۔بتایا جاتا ہے کہ حاجی حبیب الر رحمان اور وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف کے درمیان جاری سرد جنگ میں شہباز شریف کی جانب سے پولیس کو آئی جی پولیس کی ڈیمانڈ کے مطابق فنڈز فراہم نہ کرنے نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔آئی جی پولیس نے پنجاب میں امن و مان کی صورت حال بہتر بنانے اور دہشت گردوں سے موثر طریقے سے نبٹنے کے لیے فنڈز کی ڈیمانڈ کی تھی۔ حکومت نے فنڈز مہیا کرنے کی بجائے فنڈز میں کٹوتی کردی ہے۔پولیس بجٹ میں کٹوتی کے باعث پولیس کا مخبری کا نیٹ ورک خاصہ متاثر ہو رہا ہے۔جس کی وجہ سے پنجاب پولیس خاسی مشکلات کا شکار ہو رہی ہے۔حکومت پنجاب کی پالیسیوں کے نتیجے میں پولیس کا مخبری سسٹم ختم ہو رہا ہے۔کیونکہ حکومت نے پولیس کا سکرٹ فنڈ آٹھ کروڑ سے کم کر کے صرف ایک کروڑ کر دیا گیا ہے۔جس کی وجہ سے جرائم پیشہ اور دہشت گردوں کی مخبری پر مامورپولیس کے مخبروں نے ’’خدمات سرانجام دینے سے انکار کر دیا ہے۔کیونکہ انہیں پچھلے کئی مہینوں سے معاوضے کی ادائیگیاں نہیں کی گئیں۔ اور اس کے علاوہ دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کے لیے جدید اسلحہ کی خریداری کے لیے بھی حکومت پنجاب کی طرف سے ساڑھے پچاسی کروڑ سے کم کر کے سوا کروڑ کر دیا گیا ہے۔ جس سے پنجاب پولیس کو بڑی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔اس کے علاوہ اائی جی پنجاب حاجی حبیب الر رحمان پر بڑی توندوں والے پولیس اہلکاروں کے خلاف مذید سختی نہ کرنے کے معاملے پر بھی ’’رائیونڈ سرکار ‘‘ سے مسلسل دباؤ پڑ رہا ہے
ان تمام اقدامات کے باعث آئی جی پنجاب پولیس حاجی حبیب الر رحمان کافی دل برداشتہ ہوگئے ہیں کیونکہ سکرٹ فنڈ کے لیے آٹھ کروڑ اور اسلحہ کی خریداری کے لیے پچاسی کروڑ سینے کی ڈیمانڈ آئی جی پنجاب حاجی حبیب الر رحمان کی جانب سے کی گئی تھی اور انہیں وزیر اعلی پنجاب کے ساتھ اپنے درینہ تعلقات پر بڑا فخر اور ناز تھا اس بنا پر انہیں قوی امید ہی نہیں بلکہ کامل یقین تھا کہ وزیر اعلی یہ فنڈ ز جاری کر دیں گے مگر ان فنڈز سے متعلقہ سمریاں وزیر اعلی ہاؤس سے مسترد ہو کر آئیں تو انہیں بہت دکھ پہنچا ہے۔لاہورئیے صحافتی پنڈت کہتے ہیں دیکھتے ہیں کہ آئی جی حبیب الر رحمان کتنے دن مذید وزیر اعلی کے ساتھ اپنا تعلق نبھاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں  سوات:مختلف علاقوں میں ڈرگ انسپکٹر کے چھاپے، جعلی ادویا ت برآمد ،مقدمہ درج

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker