پاکستانتازہ ترین

ایلوپیتھک میں خسرہ کا کوئی علاج نہیں ہے،قاضی ایم اے خالد

khasraلاہور(نامہ نگار) صوبہ سندھ میں سینکڑوں انسانی جانیں نگلنے والی خسرہ کی وباء صوبہ سرحد ‘اوراب صوبہ پنجاب سمیت ملک بھر میں پھیل رہی ہے۔ملک بھر میں ہزاروں بچے اس مرض میں مبتلا ہیں‘ خسرہ ایک متعدی مرض ہے جس کی علامات بخار سے شروع ہوتی ہیں اس دوران کھانسی کی شکایت بھی ہوتی ہے ناک اور آنکھوں سے پانی بہنے لگتا ہے اس کے بعد چہرے اور گردن کے اوپر سرخ دانے نکل آتے ہیں جو جسم کے دوسرے حصوں تک پھیل جاتے ہیں‘ جسم پر شدید خارش ہوتی ہے اور مریض کی قوت مدافعت کم ہوجاتی ہے عام طور پر پانچ دن بعد سرخ دانے کم ہونا شروع ہو جاتے ہیں اوردانوں کی رنگت سیاہی مائل ہوتے ہوئے مرض ختم ہوجاتا ہے لیکن وہ بچے جنہیں خسرے کے حفاظتی ٹیکے نہ لگوائے گئے ہوں ان کو خسرہ سے انتہائی نقصان اور جان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔اس امر کا اظہارکونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل اور یونانی میڈیکل آفیسرحکیم قاضی ایم اے خالدنے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت کے مطابق خسرہ کا کوئی مخصوص ایلوپیتھک علاج نہیں اس حوالے سے صرف علامتی علاج ہی کیا جاتا ہے تاہم طب یونانی میں خسرہ کیلئے شافی علاج موجود ہے اور اس سلسلے میں خوب کلاں جسے خاکسی اور خاکشیر بھی کہا جاتا ہے صدیوں سے آزمودہ ہے۔خوب کلاں ایک خود رو پودے کے سرخ رنگت کے خشخاش کے سائز کے بیج ہیں جوملک بھر کے پنسار سٹورز اور اطباء سے عام دستیاب ہیں خسرہ کی علامات شروع ہوتے ہی درج ذیل نسخہ کا استعمال کروائیں۔ہوالشافی:عناب 3عدد‘مویز منقیٰ5عدد‘انجیر1عدد‘خاکسی(خوب کلاں)9گرام ‘چینی 12گرام ‘آدھے کپ پانی میں جوش دیکر پلائیں اگر نقاہت و کمزوری زیادہ ہو تو اس کے ساتھ خمیرہ مروارید دوگرام کا اضافہ کریں۔مریض کے بستر پربھی خوب کلاں کے دانے چھڑکوائیں۔قبض ہو تو خمیرہ خشخاش فائدہ مند ہے کھانسی کی صورت میں لعوق سپستان استعمال کروائیں۔انشاء اللہ شفا یابی ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں  مودی نے ہندوستان کو مسلمانوں کیلئے زندان بنادیا:محمدناصراقبال خان

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker