امتیاز علی شاکرتازہ ترینکالم

خواتین

imtiaz aliعورت ماں ہے،عورت بہن ہے،عورت بیٹی ہے،عورت بیوی ہے عورت سب کچھ ہے لیکن انسان نہیں ہے ۔زمانہ قدیم سے ہی عورت کو کم تر مخلوق سمجھا جاتا ہے ۔اگرعورت کو انسان تصور کیا گیا ہوتا تو آج خواتین اپنے حقوق کی جنگ نہ لڑرہی ہوتیں۔آزاد خیال اور خواتین کے حق میں سب سے زیادہ آواز اُٹھانے والے ممالک میں بھی عورت کو انسان ہونے کا شرف حاصل نہ ہے ۔مرد کے مقابلہ میں زیادہ کام کرنے کے باوجود عورت کی تنخواہ مرد سے آدھی یا آدھی سے بھی کم ہے ۔جنسی تشدد بھی سب سے زیادہ آزاد خیال معاشروں میں دیکھنے کوملتا ہے ۔میں یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ مغربی معاشرے نے عورت کو مرد کے برابر کا انسان نہیں سمجھا لیکن تاریخ شاہد ہے کہ مشرقی معاشرے میں عورت کو جو مقام حاصل ہے وہ مغربی معاشرہ بے تحاشا آزاد خیال اور خوشحال ہونے کے باجود آج تک نہیں دے سکا۔آج الیکٹرونکس میڈیا کی آزاد خیالی نے مغربی تہذیب کے خدو خال پربے حیائی کی حد تک جانے والی آزاد خیالی کی گرد ڈال کرپس پشت ڈالنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی لیکن پھر بھی میں یہ بات بڑی خوشی سے کہہ سکتاہوں کہ اگر ہم شہروں سے نکل کر کسی گاؤں میں چلے جائیں تو آج بھی ہمیں خواتین خاندانوں اور اپنے گھروں کے فیصلے کرنے میں خود مختار نظر آئیں گی ۔لیکن بدقسمتی سے یہ خواتین زیادہ پڑھی لکھی نہیں ہیں ۔یعنی دیہاتی معاشرے نے خواتین کوکسی حدتک تو انسان سمجھاہے لیکن تعلیم و ہنر سے دور رکھ کے اپنے جاہل ہونے کا ثبوت دیا ہے ۔جبکہ شہری معاشرے میں عورت پڑھی لکھی ہونے کے باوجود مرد کے برابر حقوق نہیں رکھتی ،اپنے آپ کو مظلوم رکھنے میں عورت کی اپنی غلطیاں بھی شامل ہیں جن میں سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ شہری خواتین نے پڑھی لکھی ہونے کے باوجود اپنے آپ کو صرف جسم سمجھ رکھا ہے۔ آج کے تیز ترین دور میں ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہونے کے لئے پوری قوم کو محنت کرنا ہوگی پوری قوم سے میری مراد ہے کہ صرف مردوں کو ہی کام نہیں کرنا بلکہ خواتین کو بھی مردوں کے شانہ بشانہ کام کرنا ہوگا ۔جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ خواتین کے کام کرنے کامطلب بے پردگی ہے اُن کی اطلاع کیلئے عرض ہے کہ ضروری ہے کہ خواتین سڑکوں پر تکے یا شکرقندی فروخت کریں ،یہ بھی ضروری نہیں کہ خواتین فیکٹریوں یا کارخانوں میں مردوں کے ساتھ بے پردہ کام کریں بلکہ خواتین گھر بیٹھ کر بھی اپنے حصے کا کام سرانجام دے سکتی ہیں ۔ضرورت تنگ نظری اور حد سے زیادہ آزاد خیالی کی بجائے درمیانہ راستہ تلاش کرنے کی ہے۔تنگ نظریے نے خواتین کو گھرکی چاردیواری میں کھانے پکانے ،کپڑے اور برتن دھونے اور بچے پیدا کرنے سے پالنے تک محدود کردیا ہے اور حد سے زیادہ آزاد خیالی نے عورت چلتا پھرتا اشتہار بنا دیا ہے ،ان دونوں صورتوں میں خواتین نفسیاتی مریض بنی نظر آتی ہیں ۔صرف گھر کے کام کرنے والی خواتین کم آمدنی اور زیادہ ضرورتوں کی وجہ سے پریشان رہتیں ہیں جبکہ گھر سے باہر بے پردگی کی حالت میں کام کرنے والی خواتین کی اکثریت اس وجہ سے ڈپریشن کا شکار ہوجاتی ہیں کہ اُن کوآج کے ترقی یافتہ دور میں صرف جسمانی مشین ہونے کاشرف حاصل ہے ۔عوام اور حکومت کو مل کر خواتین کو معاشرے کا فعال حصہ بنانے کے لئے کام کرنا ہوگا۔ایسا طریقہ کار اختیار کرنے کی ضرورت ہے جس میں خواتین کی عزت وعصمت پر بھی خرف نہ آئے اور وہ مردوں کے شانہ بشانہ کام بھی کریں۔جس میں مسلم تہذیب بھی غالب ہواور ترقی یافتہ دور کی تعلیم و تربیت بھی شامل ہو،تعلیم تربیت سے یاد آیا کہ ہمارے ہاں خواتین کو تعلیم سے دور رکنے کا رواج بھی عام ہے جو معاشرے کی تنگ نظرے کامنہ بولتا ثبوت ہے ۔میری ناقص عقل کے مطابق ہمیں سب سے پہلے خواتین کوتعلیم و تربیت سے دور رکھنے کے رواج کو جڑسے اکھاڑ پھینکنا ہوگاnote

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button