انور عباس انورتازہ ترینکالم

خزانہ خالی ہے کا رونا دھونا اور حکومت کے پہلے تیس دن

anwar abasمیاں نواز شریف کی حکومت نے اپنے ہنی مون کے پہلے 30 دن مکمل کر لیے ہیں۔گو کہ کسی بھی نئی حکومت کا ہنی مون کا وقت اسکے پہلے 30 دن ہوتا ہے۔لیکن اچھی قیادت30 دن کا انتظار کرنے کی بجائے ایک ایک دن کو قیمتی جان کر شب و روز عوامی مسائل کے حل میں جت جاتی ہے ۔لیکن ہمارے وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے منتخب کردہ قابل ، تجربہ کار اور اپنے اپنے شعبہ میں ’’ منے پرمنے ‘‘ ساتھیوں نے اپنے پہلے30 دنوں میں کوئی ایسا کرشمہ سازی نہیں دکھائی جس کی بنیاد پر کہا جا سکے کہ یہ سو دنوں میں کچھ کر گزریں گے۔ کیونکہ ہمارے وزیر اعظم کے حلف اٹھانے کے وقت سے ہی مسلم لیگ نواز کے قوالوں نے اپنے ہمنواؤں کے ہمراہکورس کی صورت میں گانا شروع کردیا تھا کہ ’’ خزانہ خالی ہے ۔۔۔خزانہ خالی ہے۔۔۔۔ خالی ہے جی خزانہ خالی ہے ‘‘ پیپلز پارٹی کے سبھی طور مار خان مسلم لیگ نواز کے قوالوں کے گائے جانے والے کورس کا جواب دینے میں برح طرح ناکام رہے اور ناکام ہیں۔اور اگر اسی طرح انہوں نے اپنی اس روش کا جاری رکھا تو ہمیشہ ناکام رہیں گے۔
وزیر اطلاعات و نشر و اشاعت پرویز رشید نے گذشتہ دنوں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے قوم کو نوید مسرت سنائی کہ ’’ ‘ ہم نے 503 ارب روپے کا گردشی قرضہ کی ادائیگی کر دی ہے ۔‘‘ جبکہ نواز لیگ کے قوال اور ان کے ہمنوا ایک ماہ سے مسلسل طواتر سے ’’ خزانہ خالی ہے‘‘کاشور مچا رہے ہیں۔کہ اگر واقعی ’’ خزانہ خالی تھا‘‘تو کوئی پاکستانی قوم کو بتلانا پسند کرے گا کہ نئے بجٹ میں سے صوبوں کو1500 ارب روپے نیشنل فنانس کمیشن سے دئیے گے اور 28جون کو 26.3 کروڑ ڈالر مالیے کی 2 اقساط آئی ایم ایف کو ادا کی گئیں۔اور 29جون کو 326 ارب روپے کے گردشی قرضے ادا کئے گے۔اس کے علاوہ قومی خزانے میں11.0818 ارب ڈالر اور اسٹیٹ بنک آف پاکستان کے پاس5.9935 ارب دالر کے زخائر موجود ہیں۔بقول امام بخش کے یہ وہ نامکمل اعداد و شمار ہیں جو غریب عوام تک پہنچ پائے ہیں ۔اصل اعداد و شمار کے بارے میں حقائق ان قوالوں کے پاس ہیں جو خزانہ خالی ہے کا کورس گا رہے ہیں۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر خزانہ کالی تھا تو اتنی بڑی ادائیگیاں کیسے اور کہا ں سے ہوئیں؟ہمارے کس محسن نے اپنی گرہ سے یہ ادائیگیاں کرکے پاکستان کے غریب مسکین عوام پر احسان کیا ہے؟کیا یہ ادائیگیاں میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف نے اپنے ذاتی اکاؤنٹس سے کی ہیں۔؟یاپھر وزیر اعظم کے سمدھی اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار سمیت پوری مسلم لیگ کے اراکین پارلیمنٹ نے مشترکہ طور پر اس قدر بڑی رقم اکٹھی کر کے قومی خزانے میں جمع کرائی ہے۔؟
قوم کے اس سوال کا برحال مسلم لیگ نواز کی قیادت کو جواب دینا ہوگا۔کیونکہ خزانے سے اتنی بڑی رقم ادا نہیں کی جا سکتی وہ بھی ان حالات میں کہ وزیر اعظم اپنے پہلے غیر ملکی دورے پر ابھی گے ہیں۔یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ وزیر اعظم نواز شریف نے اپنے غیر ملکی دوروں سے ان ادائیگیوں کا انتظام کیا ہے۔ویسے میرا اپنا یہی خیال تھا کہ وزیر اعظم اور ان کے خادم بھائی پاکستان کے عوام کو لوڈ شیڈنگ کے بدترین عذاب سے نجات دلانے کے لیے آئی پی پیپز کی واجب الاد رقم اپنے ذاتی کاروبار سے ادا کر کے عوام کو خوشخبری دیں گے۔لیکن میرا یہ خیال خیال ہی ثابت ہوا۔
حکومت کی جانب سے اائی ایم ایف اور گردشی قرضے کی ادائیگی کے بعد مسلم لیگ نواز کے اس پروپیگنڈے کے غبارے سے ہوا نکل چکی ہے۔اور سنجیدہ حلقے وزیر خزانہ اور خادم اعلی کے خزانہ خالی ہیں کہ جھوٹے دعوؤں پر حیران و پریشان ہیں۔عوام حیران ہین کہ ہم جیسے لوگ بھی جھوٹے دعوے کرنے سے گھبراتے ہیں ۔کہ کہیں لوگوں کی پکڑ میں نہ آجائیں اور اپنا عزت وقار اور صحافتی مقام و مرتبہ خاک میں نہ مل جائے۔مگر عوام کے منتخب نمائندوں اور حکومت انہیں ھقائق سے آگاہ کرنے کی بجائے خود ہی جھوٹ کا سہار ا لینے لگ جائیں گے۔
حکمرانوں کی تو یہ پرانی عادت ہے کہ وہ قوم سے جھوٹ بولتے چلے آرہے ہیں۔لیکن پتہ نہیں ہمارے گیور عوام کو کیا ہوا ہے کہ وہ اپنی ریت اور رواجوں کو بھولتے جا رہے ہیں۔کبھی ہماری عوام بہادروں اور غیرت مندوں کو پسند کرتے تھے۔وہ خواہ پنجابی فلموں کے ہیرو ہوتے تھے یا بہادر سیاسی لیڈر۔جیسے شورش کاشمیری،حبیب جالب، مصطفی کھر،بھگت سنگھ ،نوابزادا نصراللہ خان،محمد حسین چھٹہ، مجید نظامی اور ذوالفقار علی بھٹو۔۔۔۔لیکن اب تو جیسے عوام خود بزدل ہوگئی ہے اور بزدل سیاست دانوں کو اپنا ہیرو اور نجات دہندہ سمجھنے لگی ہے۔عوام کا اصل راہنما اور قائد کبھی اپنی عوام کو آمروں کے رحم و کرم پر چھوڑ کر بیرون ملک نہیں بھاگ جاتے
میاں نواز شریف کی حکومت آئی ایم ایف سے جتنا مرضی قرض لیں لیکن عوام کو جھوٹے دعوؤں سے گمراہ نہ کریں ۔انہیں اصل حقائق بتائیں کیونکہ اسی میں ان کی بہترین مفاد پوشیدہ ہے۔جتنا جھوٹ بولیں گے اسقدر زیادہ نقصان ہونے کا احتمال ہے۔کیونکہ جھوٹ کے سہارے زیادہ دیر حکومت نہیں کی جا سکتی ۔قرض لینا کوئی بری بات نہیں ہے ۔ہم سب روز مرہ کی زندگی میں اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے ایک دوسرے سے قرض لیتے اور دیتے بھی ہیں۔بری بات یہ ہے کہ ہم قرض لینے کے لیے جھوٹ بولیں اور قرض لینے کا جواز بنائیں اور اپنی پیشرو حکومت کو بدنام کرنے کے لیے غلط پروپیگنڈہ کیا جائے۔
میرے سمیت بہت سارے لوگوں کا خیال تھا کہ پاکستان کی نئی حکومت سابقہ حکومت پر ملبہ ڈالنے کی ماضی کی اس روایت کو نہیں اپنائیں گے اور ملک اور عوام کو مسائل کی دلدل سے نکالنے کے لیے اپنا پروگرام دیں گی لیکن ہماری سوچ کے برعکس ہوا اور نئی حکومت نے بھی ماضی کے نا اہل حکمرانوں کی تقلید کرتے ہوئے ملک کو درپیش تمام برائیوں اور مسائل کی دلدل میں جھونکنے کی ساری زمہ داری اپنی پیشرو حکومت پر ڈالی ہے۔اس دیکھ کر احساس ہوا ہے تبدیلی لانے کے سب وعدے اور نعرے بس دکھلوا تھے۔تبدیلی اگر آئی ہے تو حکمرانوں کے سروں پر آئی ہے کہ وہاں بال اگ آئے ہیں۔اگر دیکھا جائے تو یہ بھی کوئی معمولی تبدیلی نہیں ہے۔ بہت بڑی تبدیلی ہے۔اگر کوئی سمجھے توnote

یہ بھی پڑھیں  دوسرا ٹی ٹونٹی: ولیمسن اور گپٹل کی ورلڈ ریکارڈ پارٹنرشپ، نیوزی لینڈ کو فتح دلا دی

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker