تازہ ترینکالمنسیم الحق زیدی

”خدمت کی تصویر۔۔۔اللہ اکبرتحریک“

افسوس کہ وطن عزیزکو قائد اعظم ؒ کے بعد کوئی مخلص اور بے لوث محب وطن قیادت نہ مل سکی،اقبال کا خواب ادھورا ہی رہ گیاپچھلے کئی سالوں میں بہت سی سیاسی جماعتوں نے اپنے کھوکھلے دلفریب نعروں،وعدوں،دعوؤں سے عوام کا جس قدر استحصال کیا ہے تاریخ میں اس سے زیادہ بدترین مثال کہیں اور شائد ہی ملے کسی نے روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ لگاکر غریب بے بس لاچار عوام کو بے لباس،بے گھر اور روٹی کاچور بنادیا اور کسی نے عوام کی خدمت کا دعویٰ کرکے اس افلاس زدہ بھوکی ننگی عوام کو مزید اذیتوں سے دوچار کردیا تو رہی سہی کسر ریاست مدینہ کے دعوے داروں نے نکالی کہ ایک وقت کی روٹی کے حصول کے لیے لوگوں کو اپنے جسمانی اعضاء والدین کو اپنے بچے اور خواتین کو اپنی عزتیں بیچنے پر مجبور کردیا۔سچ تو یہ ہے کہ ”بموں سے مارنا دہشت گردی کہلاتا ہے جب کہ بھوک سے مارنا جمہوریت“افسوس صد افسوس کہ وطن عزیز میں مذہبی سیاسی جماعتیں بھی ہمیشہ مذہب کاکارڈ تو استعمال کرتی رہیں مگر اپنا تشخص برقرار رکھنے کی بجائے اپنے ذاتی مفادات،ترجیحات کی وجہ سے ہر برسراقتدار آنے والی سیاسی جماعت کی اتحادی جماعت بن کر وازرتوں کے مزے لوٹنے لگیں اور بے وقوف عوام انکو اپنا مسیحا سمجھتی رہی جبکہ وطن عزیز ایک اسلامی جمہوریہ ملک ہے اور اس لحاظ سے اس ملک پر اقتدار کے اصل حق داربھی علمائے کرام ہی تھے مگر ناجانے وہ کونسی وجوہات تھیں کہ جن کے پیش نظر علمائے کرام نے اپنے آپکو ایک محدود طبقے میں قید کرلیا اور جب تک انکو یہ احساس ہوا کہ دنیا کی عظیم اور کامیاب ترین ریاست ”ریاست مدینہ“کے قائد،بانی،لیڈر جناب رسول کریم ؐ بھی ایک مذہبی شخصیت تھے اور آپ ؐ نے اسلامی ریاست ”ریاست مدینہ“کے اولین سربراہ کی حیثیت سے جب دین حنیف کی بتائی ہوئی انتظامی،تعلیمی،عدالتی،معاشی،معاشرتی جنگی اور بین الاقوامی پالیساں عملی طور پر نافذکرکے دکھائیں تو دنیا کے بڑے بڑے نظام اور حکمران انکو اپنانے پر مجبور ہوگئے۔
آج کل تو وطن عزیز میں سیاسی جماعتوں نے بھی مذہب کا بے دریغ استعمال شروع کردیا ہوا ہے مثالیں حضرت ابوبکر صدیقؓ اور حضرت عمر فاروقؓ اور کارنامے ہلاکوخان،چنگیز خان اور ہٹلر والے۔وطن عزیز میں پچھلے انتخاب میں ایک سیاسی جماعت”اللہ اکبر تحریک“کے نام سے منظر عام پر آئی انتخابات میں کوئی بڑی کامیاب تو نہ لے سکی مگر اس نے سیاست کی روش کو تبدیل کرکے رکھ دیا اس نے غفلت کی نیند سوئی ہوئی عوام کے اندر شعور کو بیدار کرکے دنیا کو یہ بتایا کہ سیاست کا مطلب عوام کی خدمت کرنا ہے وہ بھی بلا امتیاز رنگ نسل و مذہب اس کی زندہ مثال حالیہ چند علاقوں میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں ”اللہ اکبر تحریک“کے امید واروں نے بھر پور حصہ لیا اور کامیاب ہونے کے بعد اپنے محدود وسائل اور اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے عوام کی بے لوث خدمت کی مثال قائم کی۔اس تحریک کے قائدین میں سب سے بڑا نام فرزند اسلام حافظ طلحہ سعید ہے جن کے متعلق یہ الفاظ برملا لکھ اور کہہ سکتا ہوں کہ ”سیاست میں شرافت کے امین“جذبہ حب الوطنی،جذبہ خدمت خلق سے سرشار اور بے داغ ماضی حقیقی معنوں میں انبیاکرام ؑ کے وارث۔حافظ طلحہ ایک ایسے عظیم المرتبت،جلیل القدر باپ کے فرزند ہیں جوکہ ایک طویل مدت سے بلکہ یہ کہناغلط نہ ہوگا کہ ان کی زندگی کا زیادہ تر حصہ اسلام،وطن عزیز اور مظلوموں سے محبت کرنے کے جرم میں پابند سلاسل گزرا ہے اور وہ آجکل بھی اسی جرم کی پاداش میں قید کاٹ رہے ہیں۔مجھے ذاتی طور پر حافظ طلحہ سے ایک شکوہ ہے کہ انہوں نے سیاست میں آنے کے لیے اتنی دیر کیوں لگائی اگر ان جیسے محب وطن سرفروشان اسلام اقتدار میں ہوتے تو آج ملک کے حالات یکسر طور پر مختلف ہوتے مگر بڑی دیر کردی مہربان آتے آتے ”جمہوریت نے شریعت کا کلمہ دیر سے پڑھا مگر پڑھا تو سہی“حالیہ چولستان کے اندر پڑھنے والے قحط نے انسانوں کے ساتھ ساتھ جانوروں کو بھی لقمہ اجل بنایا ایسی نازک صورت حال میں جہاں انسان اور جانور ایک ایک بوند پانی کو ترس رہے ہیں وہاں پر حکمرانوں نے اپنی آنکھیں موند لی ہوئی ہیں۔وہاں پر اچانک نبی رحمت ؐ کے سنتوں پر چلنے والے سنت نبویؐکے مطابق لمبی لمبی داڑیاں ٹخنوں سے اونچی شلواریں خدمت انسانیت کے جذبوں سے لبریز ایک جماعت میدان میں آتی ہے اور آکر کسی شخص نے اس کادھرم اسکا مسلک پوچھے بغیر ان میں کھانے کے اشیاء تقسیم کرتی ہے اور انسانوں کے ساتھ جانوروں کے لیے بھی پانی مہیا کرتی ہے یہی نہیں اس قوم اور ملک پرجب بھی کوئی بھی افتاد آئی ہے تو شیران ِ اسلام فرشتوں کے روپ دکھائی دیئے ہیں بھیس بدل بدل کر انسانیت کے یہ خادم،انسانیت کی خدمت میں سب سے آگے دکھائی دیئے ہیں۔آج چولستان روہی کا صحرا گرمی سے جھلس رہا ہے بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے روہی کے وہ جوہڑ جوکبھی زندگی کی علامت تھے آج موت کے اندھے کنوئیں بن کر انسانوں اور جانوروں کی زندگیاں نگل رہے ہیں۔چولستان کے علاقے موج گڑھ میں ”اللہ اکبر تحریک“کی جانب سے پہلے سولر واٹر پروجیکٹ کی بنیاد رکھ دی گئی انسانوں اور جانوروں کے لیے میڈیکل ٹیمیں بھی چولستان میں پہنچ گئی ہیں۔یہ وہ اسلامی سیاسی جماعت ہے جوکہ صحیح معنوں میں قرآن کریم کے اس حکم”جس نے ایک شخص کی جان بچائی گویا اس نے پوری انسانیت کو بچایا“پر عمل پیرا ہے۔روز محشر جب حساب ہوگا کہ جس ملک میں تمام سیاسی جماعتیں کے قائدین اقتدار کے نشے میں مست اندورنی بیرونی ملک دوروں پر تھے اور ایک سیاست دان دوسرے سیاست دان کوکئی انواع اقسام کے کھانوں ساتھ عشائیہ دے رہے تھے اس وقت چولستان میں انسان اور حیوان ایک ایک بوند پانی کو ترس رہے تھے۔آخر میں حافظ طلحہ سے ایک اپیل ہے کہ وہ ”اللہ اکبرتحریک“کے نومولود کارکنان کی اعلیٰ سطح پر تربیت کریں کیونکہ اس کی سخت اشد ضرورت ہے کیونکہ چند منچلے،جوشیلے فیس بک،ٹویٹرز اور دیگرزسوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پی ٹی آئی اور عمران خان کی اس قدر حمایت کرتے دکھائی دیتے ہیں اس سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ ”اللہ اکبرتحریک“پی ٹی آئی کی اتحادی جماعت ہے اور اس کی اپنی کوئی ذاتی پہچان یا ویژن نہیں اور اگر ان جوانوں کو سمجھانے کی کوشش کی جائے تو یہ اس قدر بے ہودہ اور غلیظ گفتگو پر اتر آتے ہیں جس سے جماعت کا تشخص مجروح ہوتا ہے۔اور بقول شاعر تیراانداز گفتگو یہ بتاتا ہے صاحب کہ تیرا علم سے واسطہ نہیں پڑھا کبھی۔امید ہے کہ میری یہ تجویز قابل غور رہے۔۔ گی

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
error: Content is Protected!!