تازہ ترینصابرمغلکالم

خطے میں ترقی کی کنجی پاک بھارت مستحکم تعلقات

چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ پاکستان اور انڈیا کے مابین بہتر تعلقات ہی ترقی کی کنجی ہیں جس سے مشرقی اور جنوبی ایشیاء امن بہتر ہو گا اور اسی سے جنوبی اور وسطی ایشیا کی صلاحیتوں کو ان لاک کیا جا سکتا ہے،،دو روزہ نیشنل سیکیورٹی ڈائیلاگ کانفرنس کا افتتاح وزیر اعظم عمران خان نے کیا تھا،کانفرنس کے دوسرے روز آرمی چیف نے علاقائی و عالمی امن و سلامتی و معاشی ترقی کے حوالے سے واضح اور جامع پالیسی کی جانب اشارہ کرنے کے ساتھ ساتھ پڑوسی ملک بھارت کو بھی واضح پیغام دے ڈالاکیونکہ ہمیشہ سے بھارتی انتہا پسندی نے ہی اس خطے کو بد امنی میں دھکیلا، امن وسکون لو تہہ و بالا کیاوہی علاقہ میں معاشی عدم استحکام کا سب سے بڑا ذمہ دار ہے، جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا نیشنل سیکیورٹی کا مقصد مختلف محرکات کا مقابلہ کرنا ہے ہمیں اندرونی و بیرونی خطرات کا ہی مقابلہ نہیں بلکہ اس کے مختلف محرکات کا بھی مقابلہ کرنا ہے جو وقت کی اہم ضرورت ہے نیشنل سیکیورٹی سے صرف فوج کا کردار ہی نہیں رہا دیگر عوامل کو دیکھنا بھی ضروری ہے،آج دنیا کو مختلف طرز کی دہشت گردی کا سامنا ہے موجودہ حالات مین پاکستان کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے جن سے نبٹنے کے لئے عالمی اور علاقائی تعاون کی ضرورت ہے پاکستان ایک ذمہ دار ملک ہے حل طلب مسائل پورے خطے کو غربت کی جانب دھکیل رہے ہیں،ماضی دفن کر کے آگے بڑھنے کا وقت ہے احساس ہو گیا کہ پہلے اپنے گھر ٹھیک کرنا ہو گاسی پیک جو ہماری ترقی کی منزل ہے کے لئے ہر اقدام کریں گے جارح پڑوسی کے باوجود پاکستان اسلحہ کی دوڑ میں شامل نہیں ہوا،سیکیورؔٹی اخراجات بڑھنے سے انسانی ترقی کی قربانیاں دینا پڑتی ہیں ہم نے ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل ہونے کی بجائے دفاعی اخراجات میں کمی کی،ہم نے غریب ہونے کے باوجود دفاع پر بڑی رقم خرچ کی جس کے نتیجے میں ہمیں قدرتی طور پر انسانی ترقی پر سمجھوتہ کرنا پڑاافغانستان کا امن بھی اس خطے کے امن کی ضمانت ہے اس پر بھی عالمی برادری کو توجہ دینے کی ضرورت ہے ہم نے افغانستان کو دعوت دی کہ وہ بھی سی پیک کا حصہ بنے،پاکستان خطے میں خطرات کے باوجود دفاع کے اخراجات میں نمایاں کمی کر رہا ہے دفاعی اخراجات میں کمی آسان نہیں خصوصاً جب آپ ایم معاندانہ اور غیر مستحکم پڑوس میں رہتے ہوں،لیکن ہم اپنے پڑوسیوں کے ساتھ پر امن طریقے سے مذاکرات کے ذریعے کے حامی ہیں ہمارے تمام بقایا مسائل کے حل اور ماحول کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے جس پر ہم تیار ہیں،دہشت گردی اور انتہا پسندی پر مزید قابو پانے کے لئے کم ترقی یافتہ علاقوں پر توجہ دی جا رہی ہے دہشت گردی کے خاتمے کی طویل جدوجہد کے بعد منزل کے قریب پہنچے ہیں پاکستان کی جیو پولیٹیکل حثیت علاقے میں معاشی ترقی کا باعث بن سکتی ہے،پاکستان اور بھارت میں کشیدگی کی بڑی وجہ مسئلہ کشمیر ہے خطے میں امن کے لئے اس اہم ترین مسئلے کا منصفانہ حل نا گزیرجنرل قمر جوید باجوہ کہا پاکستان اور دنیا کے بہترین دماغوں کی موجودگی میں اس تقریب کا حصہ بننا بڑے اعزاز کی بات ہے جو دانشور،ماہرین اور اسکالرز یہاں موجود اور جو ورچوئل شرکت کر رہے ہیں ان کی بحث میں ہم پاکستان مستقبل کے چیلنجز سے نبٹ سکیں گے دانشورانہ سوچ اور پالیسی سازی کے انضمام میں اس رجحان کو جاری رکھا جائے گاماضی کو دفن کرنے اور آگے بڑھنے کا وقت ہے باہمی مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کی ذمہ داری اب بھارت پر عائد ہوتی ہے،کشمیر واضح طور پر اس مسئلے کا مرکز ہے بر صغیر میں امن کا خواب اس وقت تک ادھورا ہے جب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہو جاتا ہمارے پڑوسی کو ماحول کو سازگار بنا ہو گاخاص طور پر مقبوضہ کشمیر میں،دو ایٹمی ہمسائی ممالک کے درمیان تنازعات کی بنا پر یہ علاقہ یر غمال بنا ہوا ہے بہترین اور مساوی تعلقات جنوبی ایشیاء میں ترقی کی کنجی ہیں کیونکہ جنوبی ایشیا میں غیر حل شدہ مسائل کی وجہ سے پورا خطہ ترقی پذیر اور غربت کا شکار ہو چکا ہے جنوبی ایشیاء میں تجارت،انفراسٹرکچر،پانی اور توانائی میں تعاون کے لحاظ سے دنیا کے سب سے مربوط خطوں میں سے ایک ہے،جنرل باجوہ نے کہاکہ عالمی سطع پر یہ تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ قومی سلامتی کے معاصر تصور کا مقصد کسی ملک کو اندرونی و بیرونی خطرات سے ہی محفوظ کرنا نہیں بلکہ ایسا ماحول فراہم کرنا جس میں انسانی سیکیورٹی،قومی پیش رفت اور خوشحالی کا احساس شامل ہو،اب اکیلے مسلح افواج کا کام نہیں رہا گلوبائزیشن اور رابطہ سازی کے اس دور میں قومی سلامتی پر ہر چیز کا احاطہ کرنے والا جامع تصور بن گیا ہے جہاں فوجی طاقت کے مختلف امور کے ساتھ ساتھ عالمی اور علاقائی ماحول میں کردار اہم ہے،قومی سلامتی کے حصول کے لئے قومی امن اور خطے میں ہم آہنگی الازم ہیں لیکن آج کل کے لیڈران ان حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں آج کوئی بھی قوم اکیلے سیکیورٹی مسائل کو حل نہیں کر سکتی کیونکہ آج دنیا کو جن مسائل یا الجھنوں کا سمانا ہے ان کا عالمی اور علاقائی مرکبات سے گہرا تعلق ہے چاہے وہ انسای سیکیورٹی ہو،انتہا پسندی،انسانی حقوق،ماحولیاتی نقصان یا معاشی تحفظ ہو اب اکیلے ان سے نبٹنا ممکن نہیں رہا،چیف آف آرمی سٹاف کے مطابق دنیا نے عالمی اور سرد جنگ کی تباہ کاریوں کو دیکھا ہے جس میں اخلاقی برتری کو نظر انداز کرنے کی غلطی نے مستقبل کو دھندلا دیا اور انسانیت کے لئے تباہ کن نتائج سامنے آئے کثیر الجہتی اصول پر مبنی پلیٹ فارمز نے بنی نوع انسان کی بہتری کے لئے کام کیا،آج دنیا میں تبدیلی کے اصل محرکات آبادیات،معیشتاور ٹیکنالوجی ہیں آج بھی ہمارے پاس انتخابات کے یکساں مواقع ہیں اب ہم پر منحصر ہے کہ ہم ماضی کی کشمکش جو زہر الود ہے سے باہر نکلتے ہیں کہ نہیں،اس دو روزہ کانفرنس کے اففحاحی سیشن میں وزیر اعظم عمران خان نے ایسی نوعیت کے مسائل اور ان کے حل کی نشادہی کرتے ہوئے کہا تھا کہ مسئلہ کشمیر کے حل سے ہی علاقائی روابط کو فروغ ملے گا اور خطے میں اقتصادی ترقی و خوشحالی آئے گی،مسئلہ کشمیر کے حل سے پورے خطے میں تبدیلی آئے گی جو پاکستان اور بھارت کے لئے مساوی فائدے کا باعث ہو گاخطے میں امن کے حوالے سے اب بھارت کو پہلا قدم اٹھانا پڑے گا کیونکہ بہتر تعلقات کے لئے مسئلہ کشمیر نے ہمیں روک رکھا ہے چونکہ اگر بھارت پہلا قدم نہیں لیتا تو ہماری کوششیں آگے نہیں بڑھ سکتیں،مسائل مذاکرات کے ذریعے حل ہونے چاہئیں کشمیریوں کو ان کے جائز حقوق دینا پاکستان ہی نہیں بھارت کے لئے بہت فائدہ مند ہے،بھارت کشمیریوں کو حق رائے دہی دے،پاکستان کی خواہش ہے کہ افغانستان میں امن ہو ہمیں خوشی ہے کہ پاکستان افغان امن حل میں اپنا کردار ادا کیا،جو بائیڈن انتظامیہ افغانستان میں امن کو اہمیت دے رہی ہے،پڑوسی ممالک سے تعلقات اچھے نہیں ہوں گے تو فائدہ نہیں اٹھا سکتے،بھارت سے بہہتر تعلقات کی کوشش میں 5اگست2019کو اس وقت بڑا دھچکا لگا،تب سے کشمیری وہاں محصور اور مزید ریاستی جبر کا شکار ہیں،عمران خان نے کہا وہ ملک کبھی بھی محفوظ نہیں رہ سکتا جہاں چند افراد امیر ہوں اور غریبوں کا سمندر ہو،نیشنل سیکیورٹی ڈائیلاگ وقت کی اہم ضرورت ہے کرنسی کی قدر کم ہونے سے مہنگائی بڑھی،عام آدمی متاثر ہوا،غذائی تحفظ بھی ایک بڑا مسئلہ ہے ہمارے ملک میں اس مباحثے کی بڑی ضروت ہے کہ اصل میں قومی سلامتی کیا ہے؟اب تک صرف ایک پہلو فوج کی حد تک دیکھا گیالیکن اصل قومی سلامتی میں اور بہت چیزیں ہیں جن میں موسمیاتی تبدیلیاں بھی شامل ہیں جو اس سے قبل کسی نے نہیں سوچیں،افواج کی بہتری اور ترقی کے ساتھ کئی اہم معاملات جڑے ہیں،11ستمبر کے بعد پاکستان ایک عذاب سے گذرااور جس طرح کے سیکیورٹی خطرات کا ہمیں سامنا رہا اس پر ہماری سیکیورٹی فورسز نے قربانیاں دے کر ہمیں محفوظ کیا،خوراک کا بہت بڑا مسئلہ ہے،تیزی سے بڑھتی آبادی کی وجہ سے ہم نے پہلی مرتبہ 4ملین ٹن گندم درآمد کیاب ایسا منصوبہ بنایا ہے کہ غذائی تحفظ فراہم رہے،ہمیں دو سال میں علم ہوا کہ ہمارے سرکاری محکموں میں عوامی سوچ ہی موجود نہیں سوچ تو دور کی بات ہے ہمارے پاس گندم کی پیداوار کا جائزہ ہی موجود نہیں تھا،جتنے پیداواری جائزے تھے سب غلط نکلے،ہم نے مہنگئی کو ختم کرنا ہے چین جس کی جتنی بھی تعرف کی جائے کم ہے اس نے 30سے35سال میں 70کروڑ افراد کو غربت سے نکال اوپر کیا،ہم بھی ایسا کرنے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں اس موقع پر وزیر اعظم نے نیشنل سیکیورٹی ڈائیلاگ ایڈوائزری پورٹل کابھی افتتاح کیا جس کا مقصد جامع سیکیورٹی فریم ورک کی بنیاد پر پاکستان کی نئی ترقی کی سمت کا تعین کرنا ہے،اس کانفرنس میں قومی و بین الاقوامی دانشوروں،اسکالرز،ماہرین اور غیر ملکی سفیروں نے شرکت کی،اس منصوبے کے انچارج معاون خصوصی معیذ یوسف نے کہااس سے عوامی اور قومی اور بیرونی مسائل کے حل میں مدد ملے گی،وزیر خراجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہماری ترجیح سیاست نہیں معیشت ہے اب ہم تنازعات کی بجائے باہمی تعاون ہماری ترجیح ہو گی،پاکستان مستقبل میں تنازعات کا حصہ بننے کی بجائے صرف اقتصادی شراکت داری میں ہی حصہ دار بنے گا،تمام اندرونی و بیرونی چینلجز سے نبٹنے کے لئے یہ حکومتی اقدام مستقبل میں جہاں ترقی کا ضامن ہو گا وہیں ہم نے اپنی جامع پالیسی پڑوسی اور ازلی دشمن بھارت پر بھی واضح کر دی ہے تاکہ وہ کسی زعم میں نہ رہے،

یہ بھی پڑھیں  ون ڈے رینکنگ میں قومی ٹیم کی پانچویں پوزیشن برقرار

یہ بھی پڑھیے :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker