تازہ ترینصابرمغلکالم

خون کے آنسو

sabir mughalزندگی سولی پر اٹک کر رہ گئی ہے میری ہی نہیں اس سولی پر آج ہم سبھی ہیں،آج ہر پاکستانی کی آنکھ سے خون کے آنسو جاری ہیں اور یہ ایسے آنسو ہیں جن کے اثرات ہمارے مرنے تک زندہ رہیں گے، ان کا ذکر کیسے کیا جائے؟ان کلیوں اور پھولوں کو یاد کیسے کیا جائے؟ان کے بارے میں کیسے کچھ لکھا جائے؟ان کی ماؤں کو تسلی کیسے دی جائے؟کچھ بھی سمجھ میں نہیں آرہا،ہاتھ کانپ رہے ہیں ،الفاظ بین کر رہے ہیں،دل ماتم کر رہا ہے ،آنکھوں سے جاری ہونے والے آنسو تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہے ،لگتا ہے بینائی تک ہم سے چھین لی گئی ہے،سب کچھ دھندلا اور مبہم نظر آرہا ہے،کل سے رو رہا ہوں ،میں نہیں بلکہ اب تو سارا پاکستان رو رہا ہے،وہ آنکھیں رو رہی ہیں جو انسانی جسم میں خالق کائنات کو سب سے پیاری ہوتی ہیں کیونکہ بڑے کہتے ہیں انہیں وہ (خدا عظیم خود بناتا ہے)ایک طرف شدید ترین محبت کا جذبہ اور دوسری جانب نفرت اور حد درجہ بڑھتی ہوئی نفرت ،آج نفرت کا جذبہ رکھنے والی کسی نا معلوم مخلوق کے ظلم و جبر نے شدید محبت رکھنے والے رشتوں کو رلا دیا،مار دیا،برباد کر دیا،ہمیں تو ان شہیدوں سے ہمدردی ہے لیکن محبت اور ہمدردی میں بہت فرق ہوتا ہے ،ہمارا یہ عالم ہے تو بھلا ان جگر گوشوں سے محبت رکھنے والے رشتوں،ماں ،باپ،بھائی ،بہن اور دیگر خونی رشتہ داروں کا دل پر آج کیا بیت رہی ہو گی،وہ مائیں جنہوں نے ان معصوم بچوں کو اپنے ہاتھوں تیار کر کے سکول بھیجا وہ کیسے ان کے خاموش جسموں سے لپٹ لپٹ کر چیخ و پکار کرتی رہی ہوں گی؟وہ باپ جس نے اولاد کے متعلق نہ جانے کیسے کیسے ارمان سجا رکھے تھے آج وہ اپنے سامنے بلکہ ہاتھوں انہیں لحد میں اتار رہا ہے،ایسی قیامت بھی ہمارا راہ تک رہی تھی،ایسی درندگی اور سفاکی بھی ہماری تاک میں تھی،اس دنیا میں کوئی ایسی بھی مخلوق بستی ہے جو بظاہر انسانی روپ میں ہے مگر نہ جانے وہ ہیں کون؟کیا بلا ہیں ؟ان کا دین و مذہب کیا ہے؟ان کے نظریات و مفادات کیا ہیں؟وہ چاہتے کیا ہیں؟ان کی خوشی و کامیابی کس کس ظلم و جبر میں پوشیدہ ہے؟وطن عزیز میں کئی سالوں سے جاری دہشت گردی اب تک 80ہزار کے لگ بھگ بچوں ،بوڑھوں،جوانوں اور عورتوں کو چاٹ چکی ہے،زندگی رب کریم کا ایک عظیم ترین تحفہ ہے، انسانی زندگی کو اس مالک و مختار نے ۔عقل۔عطا فرما کر اشرف المخلوقات بنایا،اس اسلامی ریاست میں کچھ ۔اسی مخلوق۔کے حامی و پروردہ بن گئے جنہیں بدقسمتی سے اعلیٰ ایوانوں تک بھی رسائی حاصل ہو گئی جو سمجھتے ہیں کہ وہ ہر چیز پر قادر ہیں(نعوذ بااللہ )،ان کی ناپاک سوچ کی بدولت پاکستان میں وہ مقولہ سچ ثابت ہونے لگا کہ۔موت خالق کائنات کا ایک عظیم تحفہ ہے ،یہ نجات کا ذریعہ ہے ہاں پیدائش ضرور ایک المیہ ہے ۔یہاں کسی کا پیدا ہوناکسی المیے سے کم بھی نہیں،مقروض،دہشت اور وحشت اس کے نصیب میں،محکوم اور نفرت زدہ،بے انصافی اور بے چارگی ان کا مقدر،پاک فوج جسے دنیا کی بہترین فوج ہونے کا اعزاز گذشتہ کئی سالوں سے حاصل ہے جو کسی نوعیت کے نا مساعد حالات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت سے مالاما ل ہے،اس ظلم کدہ کی بیج کنی کے لئے اس کے ہاتھ پاؤں با اختیاروں نے باندھ دئے،ایک طرف گلے کٹ رہے تھے تو دوسری طرف بعض ۔جید علماء۔دنیا کی اس گھٹیا ترین مخلوق کو ۔بھٹکے ہوئے بھائی۔قرار دے رہے تھے،ظلم کی یہ فصل لہلانے لگی تو پاک فوج کو وہ انتہائی اقدام اٹھانے پڑے جنہیں بہت پہلے اٹھا لیا جانا چاہئیے تھا،ان جید علماءء کے ساتھ ساتھ پاکستانی سیاسی قیادت پر بھی لرزہ طارسی تھا،وہ کسی ایسے فیصلے پر نہ جانے کیوں مفلوج تھے،شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن ۔ضرب عضب۔جاری ہوا تو تمام وطن عزیز کی تمام سیاسی شخصیات اور جماعتیں گونگی ہو گئیں،پاک فوج کی کامرانیوں پر کبھی کبھی ان کو خیال آتا کہ اب اس کامیابی پر تالی بجا دی جائے،قوت فیصلہ کا انسانی زندگی میں بڑا عمل دخل ہے اور خاص طور پر ان کے لئے جن کے ہاتھوں کسی ملک ،کسی ریاست یا کسی قوم کی باگ دوڑ ہو،اگر ان میں قوت فیصلہ کا فقدان ہو گا تو وہ اسی ملک اسی ریاست اور اسی قوم کی تباہی پر منتج ہو گا جس پر وہ حکمران ہوں،ایسے حکمران بھی خدا کا عذاب ہوتے ہیں،جن کا کامل یقین ۔کامل ذات پاک ۔پر نہیں بلکہ اغیار پر ہوتا ہے،کاسہ لیسی جن کا طرہ امتیاز ہو،جو ملک کو لوٹ لوٹ کر ۔سوئس بینکوں میں لے جائیں،وہاں بر وقت اور دور اندیش فیصلے کیسے ممکن ہیں؟ پشاور میں آرمی بپلک سکول میں ننھے فرشتوں کے ساتھ یہ حشر برپا کرنے والے بھی باریش تھے لیکن یہ انسان نہیں تھے انہیں تو انسان کہنے سے زبان بھی ناپاک ہو جاتی ہے اس موقع پر ان کے حواریوں کو کیا نام دیا جائے؟خیبر پختونخواہ کے صوبائی دارلحکومت میں خون کی یہ ہولی دنیاکی تاریخ کا یہ انمٹ داغ ہے ،اس داغ،دھبے اور خون میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو اس ۔غیر انسانی مخلوق۔کے لئے نرم گوشہ رکھتے تھے اور رکھتے ہیں،اس فصل کو پروان چڑھنے میں مدد دینے والا ،بیج،پانی،کھاد اور نگران سب قاتل ہیں ،ہاں وہ ان معصوموں کے قاتل ہیں ،انہیں سے ان شہیدوں کے ۔لہو۔کا حساب مانگا جائے ،جن کی شرست میں کمینگی کا پھپھوندر ہے ان کا مٹ جانا ہی اس ملک و ملت کے امن و سکون اور سلامتی کا ضامن ہے،آج انہیں قوم کے سامنے بلایا جائے جو کل ان کے خیر خواہ تھے نظر آرہے تھے جن کا ساری قوم کو پتا ہے ،اڑن کٹولے پر سیر کرنے والوں کی وجہ سے آج گھر گھر میں صف ماتم ہے،نہ تھمنے والے خون کے آنسو جاری ہیں،یہ بات بھی واضح رہے کہ اس شیطانی عمل میں بھارت ،روس جو چائنا کے ساتھ ۔برکس (BRICS)میں ساتھی ہیں اور دوسری جانب مغرب ہے یہ سب یکجا ہیں ،وقت کا تقاضا ہے کہ کشکول ،کاسہء لیسی اور غلامی کی بجائے ایک ملت و قوم ہونے کا ثبوت دیا جائے،

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
error: Content is Protected!!