شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / ’’حافظ محمد سعید،مولاناامیر حمزہ،محمدیحییٰ مجاہد ۔۔۔اور خوشامدی ٹولہ‘‘

’’حافظ محمد سعید،مولاناامیر حمزہ،محمدیحییٰ مجاہد ۔۔۔اور خوشامدی ٹولہ‘‘

اہل قلم مظلوم طبقہ تو ہے ہی مگر مظلوم ہونے کے ساتھ ساتھ محروم طبقہ بھی ہے ۔ہم لوگ تو کسی کے ساتھ محبت بھی نہیں کرسکتے اگر ہم ظا لم اورظلم کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں ،معاشرتی ،سماجی برائیوں پر لکھتے ہیں تو یہ عوام کے خادم خائف ہوجاتے ہیں اور کبھی پابند سلاسل کردیا جایا ہے تو کبھی اچانک نامعلوم افراد کا قاتلانہ حملہ ،کسی اخبار کی شہہ سرخی بن جاتے ہیں ۔اگر کسی فرد کی سماجی،ملکی وقومی خدمات پر اس کو خراج تحسین پیش کر دیں تو یہ سمجھا جاتاہے کہ کوئی موٹی رقم لی ہوگی ۔مذہب بھی سیاست کی بھیٹ چڑچکا ہے ۔سیاستدان ہمہ وقت اپنے اردگرد مخصوص افراد کا جم غفیر رکھتے ہیں جن کا کام صرف جی حضوری اور ہر غلط کام پربھی دل کھول کر داد دینا اور قصیدہ گوئی کرنا ہوتی ہے ایسے افراد کو کافی مراعات نظیراور منصب حاصل ہوتے ہیں ۔اور یہ لوگ کسی بھی صورت کسی باصلاحیت،قابل اور ذہین افراد کو ان سیاست دانوں کے قریب نہیں جانے دیتے کیونکہ ان کا یہ خطرہ لاحق ہوتا ہے کہ کہیں انکی روٹی روزی کم یابند نہ ہو جائے جبکہ حقیقت تو یہ ہے کہ اگر یہ جاہل خوشامدی لوگ پڑھے لکھے افراد کو آگے نکلنے کا موقع دیں تو آج ہمارا شمار دنیا کے ترقی یافتہ،ذہین قوم اور ممالک میں ہوتا یہی حال مذہبی جماعتوں کا ہے ۔جماعت الدعوۃ حافظ محمد سعید،مولانا امیر حمزہ ،یحییٰ مجاہد ودیگر مجاہدین سے محبت کی وجہ خالصتاًاللہ کی رضا ہے کیونکہ یہ لوگ دین کی دعوت دیتے ہیں،جہاد کی بات کرتے ہیں اور جابر حکمران کے سامنے کلمہ حق کہتے ہیں سب سے بڑی بات یہ مجاہد ہیں ۔اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے مجاہدین اور غازیوں کا مرتبہ کتنا بلند و بالا ،کس قدر عظمت والا ہے اس کے بارے میں تو سینکڑوںآیتوں میں اللہ تعالیٰ نے ان مردان حق کی مدح وثناء کا خطبہ ارشاد فرمایا ہے( سورۃ العدیت6-1)میں تو اللہ رب العزت نے مجاہدین اور غازیوں کے گھوڑوں،بلکہ ان گھوڑوں کی رفتار اور انکی اداؤں کی قسم یاد فرماکر ان کی عزت وعظمت کا اظہار فرمایا ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔قسم انکی جو دوڑنے والے (گھوڑوں)کی !ہانپتے ہوئے پھر آگ نکالنے والوں کی سم مارکر پھر حملہ کرنیوالوں کی صبح کے وقت پھر وہ اڑاتے ہیں اس وقت غبار پھر وہ درمیان میں گھس جاتے ہیں اس وقت (دشمن کی)جماعت میں بلاشبہ انسان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے ‘‘دوسرے مقام پر اللہ رب العزت جہاد کی فضیلت بیان کرتے ہیں (سورۃ الانفال پارہ 10آیت 60)’’اور اللہ کے لیے تیار رکھوجو قوت تمہیں بن پڑے (یعنی جو تمہارے اختیار میں ہے)اور جتنے گھوڑے باندھ سکو (یعنی تیار کرسکو)تاکہ ان سے ان دشمنوں کے دلوں میں دھاگ بٹھاؤ جو اللہ کے دشمن اور تمہارے دشمن ہیں اور ان کے سوا اوروں کے دلوں میں جنہیں تم نہیں جانتے مگر اللہ انہیں جانتا ہے اور اللہ کی راہ میں جو کچھ خرچ کروگے تمہیں پورا دیا جائے گا اور کسی طرح گھاٹے میں نہ رہوگے ‘‘(سورۃالنساء پارہ 5 آیت 74)میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں ’’تو انہیں اللہ کی راہ میں لڑنا چاہیے جو دنیا کی زندگی بیچ کر آخرت (خرید ) لیتے ہیں اور جو اللہ کی راہ میں لڑے پھر مارا جائے تو عنقریب ہم اسے بڑا ثواب (انعام )دیں گے‘‘(سورۃ الصف پارہ 28آیت 4)میں اللہ پاک ارشاد فرماتے ہیں ’’بے شک اللہ دوست رکھتا ہے انہیں جو اس کی راہ میں لڑتے ہیں صف باندھ کر گویا وہ عمارت ہیں سیسہ پلائی دیوار ‘‘مجاہدین اسلام (افواج پاک )اور حافظ محمد سعید ،مولانا امیر حمزہ ،محمدیحییٰ مجاہدودیگر مجاہدین سے والہانہ محبت کرنے کے پیچھے اللہ رب العزت کے یہ احکامات ہیں جن کی شان اورجن سے محبت اللہ پاک فرماتے ہیں ۔مجاہدین کی عزت وتکریم اور ان سے محبت کرنا اور اپنی بساط کے مطابق تعاون کرنا ہمارے ایمان کا حصہ ہے ۔ باعث تکلیف بات یہ ہے کہ چند لوگوں کا یہ کہنا اور ماننا ہے کہ ان افراد سے جس طرح کی اور جس حد تک وہ محبت کرتے ہیں یا کر سکتے ہیں کوئی دوسرا نہیں کر سکتا یہی لوگ ،عام محبت کرنے والے افراد کو ان سے ملنے نہیں دیتے اس بات کا بخوبی اندازہ ہے کہ مجاہدین جن سے اس وقت پورا عالم کفر کانپتا ہے انکی حفاظت قوم وریاست کی ذمہ داری اور اولین ترجیح ہونی چاہیے مگر اس کاہر گز مطلب یہ نہیں کہ محبت کرنے والوں کی محبت میں شک کیا جائے اور انہیں ملنے بھی نہ دیا جائے ۔حافظ محمد سعید ایک نظریہ کا نام ہے بھارت ،امریکہ کا حافظ صاحب،مولانا امیر حمزہ اور محمد یحییٰ مجاہد کو دہشت گرد قرار دینا اور حافظ صاحب کے سر کی قیمت رکھنا ،حافظ صاحب اور مولانا امیر حمزہ،محمد یحییٰ مجاہد کے صادق وامین ہونے کی گواہی ہے کیونکہ یہ ممکن ہی نہیں کہ کافر کبھی مومن سے راضی ہو ۔ایسے لوگ گوہر نایاب ہوتے ہیں صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں ۔جب تاریخ کے اوراق کی ورق گرادنی کرتا ہوں تو سوچتا ہوں کہ سلطان صلاح الدین ایوبی ؒ طارق بن زیاد ؒ محمود غزنوی ؒ سلطان محمد فاتحؒ ،محمد بن قاسم ،امام شموئیل ؒ کا ہم پلہ کوئی اور ہوسکتا ہے ؟اسی قد کاٹھ کا تو میری سوچ غیر ارادی طور حافظ محمد سعید پر جاکر ختم ہوجاتی ہے ۔یہ مقام اور مرتبہ بھی قسمت والوں کو نصیب ہوتا ہے ۔محمود غزنویؒ نے بزورتیغ سومنات کو کرچیوں میں بدل ڈالا تھا ۔آج اسی محمود غزنوی ؒ کے ہمرکاب حافظ صاحب کی آوازکی بازگشت ہندؤستان کے مندروں میں سنائی دیتی ہے جس کے خوف نے ان ہندؤوں نے نیندیں اڑادی ہوئی ہیں ۔محمد بن قاسم ؒ کے گھوڑوں نے راجہ داہر کی سلطنت کو اپنے پاؤں کے نیچے روند ڈالا تھا ،سلطان محمد فاتح نے خشکی پہ بحری بیڑہ چلا دیا تھا اور آیا صوفیہ پہ اسلام کا پرچم لہرادیا تھا ،طارق بن زیاد نے اندلس پہ اسلام کا پرچم لہرایا اور شاہ اندلس خودکشی کرنے پر مجبور ہوگیا آج انہی کا جانشین حافظ صاحب کہ جن کے جذبہ ایمانی، جہاد کی دعوت اور اللہ اکبر کے نعرہ کی گونج سے وائٹ ہاؤس ،دہلی اور دیگر طاغوتی ممالک کی درودیوار لرزتیں،کانپتیں ہیں ۔حافظ صاحب عالم اسلام کے ہیرو ہیں اور عالم اسلام کو ان پر فخر ہے کہ ایک شخص مظلوم کے حق کی بات لاہور چوبرجی القادسیہ میں کرتا ہے اور اسکی گونج بھارت اور امریکہ میں سنائی دیتی ہے ۔اور بھارت بھاگ کر اپنے آقا امریکہ کے پاس جاتا ہے اور وائٹ ہاؤس سے ایک آڈر جاری ہوتا ہے کہ پاکستان میں بلا امتیاز رنگ ونسل انسانیت کی خدمت کرنے والے حافظ محمد سعید اور انکے رفقاء کو نظر بند کر دیا جائے انکی تنظیم پر بین لگا دیا جائے۔ادھر ہمارے غلام ابن غلام حکمران حافظ صاحب کی سماجی اور قومی خدمات کو یکسر فراموش کرکے امریکہ اور بھارت کے احکامات پرمن وعن عمل درآمد کرتے ہیں افسوس صدافسوس مگر ہم غلام ہیں ہم کو کبھی آزادی نصیب ہی نہیں ہوئی ہندؤوں اور انگریزوں سے آزاد ہوکر ان چند لوگوں(موروثی سیاستدانوں )کی غلامی میں آچکے ہیں ۔مگر وہ دن دور نہیں جب ہم آزاد ہونگیں اور بھارت میں مندروں کی جگہ مساجد ہونگیں اور تررنگاکی جگہ سبز ہلالی پرچم لہرائے گا ۔اور ہندؤ مذہب کتابوں کی حد تک رہ جائے گا ۔آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مجاہدین کی مدد اور حفاظت فر مائیں آمین ۔ اس کالم کو تحریر کرتے ہوئے ڈر بھی لگ رہا ہے کہیں کوئی ساتھی ناراض ہی نہ ہوجائے اور بقول شاعر ۔عین ممکن ہے یہ عشق تجھے ولایت دیدے عین ممکن ہے تیرے ہوش ٹھکانے آجائیں ۔

یہ بھی پڑھیں  اقوام متحدہ نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر سلامتی کونسل کی میٹنگ بلا لی