تازہ ترینکالمملک ساجد اعوان

خود کش حملہ آور

میں نے آج صبح 16.08.2012کو ٹی وی آن کیا تو ایک نیوزالرٹ چل رہی تھی کہ کامرہ ایئربیس پر حملہ آٹھ خودکش حملہ آور ہلاک میرے پائوں سے زمین نکل گئی کہ اتنے بڑے ادارے پر حملہ کردیاگیا ہلاک ہونے والے حملہ آوروں کے پاس سے خود کش جیکٹ اور کافی اسلحہ ملا ہے کہ مختلف بیانات ٹی وی پر آرہے تھے سوچنے کی بات یہ ہے کہ وہاں تو مکھی بھی پر نہیں مارسکتی اور اتنے حملہ آور وہاں پر داخل کیسے ہوئے انکا مقصد کیاتھا کیا وہ وہاں پر کھڑے جہازوں کو تباہ کرنا چاہتے تھے اگر ایسا تھا تو انکو کیسے پتہ چلا کہ وہاں پر جہاز موجود ہیں میں نے اپنی زندگی میں ابھی تک جو دیکھا ہے جب کہیں حملہ ہوجاتاہے تو بعد میں سکیورٹی کو سخت کردیاجاتاہے بھائی کیا پہلے سکیورٹی کہاں ہوتی ہے دوسری بات کہ ذرائع کا کہنا تھا کہ انہیں پہلے ہی پتہ تھا کہ سکیورٹی فورسز کے دفاتر کو نشانہ بنایاجائے گا پہلے تو عوام کو یہ بتایاجائے کہ انکو کیسے معلوم تھا اگر معلوم تھا تو اس کو روکنے کے انتظامات کیوں نہیں کئے گئے جہاں جہاں بھی سکیورٹی موجود ہوتی ہے کسی کو چیک نہیں کیاجاتا ایسے ہی بعد میں مسائل پیدا ہوجاتے ہیں اور آج تک نہ جانے کتنے نقصانات ہوچکے ہیں ایک ہفتہ پہلے مجھے MHراولپنڈی جانے کا اتفاق ہوا MHکے سب گیٹ پر مجھے کسی نے چیک نہیں کیا کیونکہ؟ وہاں پر موجود ڈیوٹی والے کافرض بنتا تھا کہ وہ ہمارے NICچیک کرتا اور اپنا ریکارڈ رکھتا لیکن کسی نے یہ کرنے کی زحمت نہ کی حالانکہ یہ تو آرمی کا ادارہ ہے اس طرح جب حالات ہوں گے تو حادثات تو ہماری زندگی کا معمول بن جائیں گے اور بن رہے ہیں بات ہورہی تھی کامرہ ایئر بیس کی کب سے پاکستان کے حالات خراب ہیں کوئی اسکو ٹھیک کرنے کی کوشش نہیں کرتا اگر اداروں پر حملہ ہو گا تو غریب عوام کا کیا ہوگا ا س اڈے پر ماضی میں بھی حملے کی کوشش ہوچکے ہیں پاکستان میں کسی بھی فوجی اڈے پر دہشتگردی کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے مہران بیس کا واقعہ سب کو پتہ ہے جب ہر بات پتہ ہے تو ان اداروں کی سکیورٹی ہر وقت الرٹ کیوں نہیں رہتی میری تمام اعلیٰ عہدیداروں اورصدرپاکستان‘وزیراعظم پاکستان اور تمام اعلیٰ شخصیات سے درخواست ہے کہ آئو پاکستان کو مضبوط بنائو اس طرح کہ حملہ آوروں کے منہ توڑ جواب دینے کیلئے سکیورٹی ہر وقت الرٹ رہے ویسے بھی جہاں جہاں رش ہوتاہے وہاں پر بھی سکیورٹی دی جائے ۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker