امتیاز علی شاکرتازہ ترینکالم

خودکشیاں نہ کریں توکیا کریں؟

imtiaz aliترقی یافتہ دور میں انسان کی زندگی کامقصد صرف جسمانی لذت اور سکون وآرام بن گئے ہیں ۔انسان کسی مذہب یا فرقے کا پابند نہیں رہااُسے طاقت چاہیے ،حکومت چاہیے ،دولت چاہیے ،آرام چاہیے ان چیزوں کو حاصل کرنے کی راہ کوئی بھی رکاوٹ انسان برداشت نہیں کرتا ۔اپنے مقاصد حاصل کرنے کیلئے مذہب،فرقہ سمیت ہر چیز کا جائز،ناجائز استعمال کرناآج انسان کی عادت بن چکی ہے ۔ آج دنیا میں پتھر کے بتوں کی پرستش و پوجا پاٹ کا دور گزر چکا،آج انسان کو پتھر کے بتوں کی پوجا کرنے میں کوئی دلچسپی نہ ہے اب تو انسان اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے راستے سے بھٹکنے کے بعد دنیا،دولت ،حکومت ،طاقت،خواہشات اور شہوات یعنی نفسانی خواہشات کوپوجتا ہے۔ دنیا کا مال متاع اکٹھا کرنے کی ہوس ولالچ نے انسان کواندھا کردیا ہے ۔لیکن سچا مسلمان آج بھی خواہشات کا غلام ہے نہ ہی دولت و دنیا اور حکومت کی حرس اُسے اللہ تعالیٰ کے دین کے راستے سے بھٹکا سکتے ہیں۔مسلمانوں کی تاریخ گواہ ہے کہ مسلمان حاکم اپنے محکوموں میں دھن دولت بانٹ کر خوشی محسوس کیا کرتے اور ہمیشہ اس کام کے لیے بہانے تلاش کیا کرتے تھے ۔افسوس کہ آج ہمارے بُرے اعمال کی وجہ سے ایسے ظالم حکمران نازل ہوچکے ہیں جو ہمیں ہمارا حق دینے کی بجائے ہمارے جسم سے خون کا آخری قطرہ تک نچوڑنے کی کوشش میں مصروف رہتے ہیں ۔حکمران گدوں کی طرح عوام کے مردہ جسموں کونوچ رہے ہیں جبکہ عوام اب صرف ہڈیوں کے ڈھانچے بن چکے ہیں گوشت نام کی کوئی چیز عوامی جسموں پر باقی نہ ہے اور اگر کہیں کسی کے جسم پر تھوڑا بہت ماس باقی ہے بھی تو اُس میں خون نام کی کوئی شے باقی نہ ہے ۔لیکن حکمران پھر بھی عوامی جسموں سے خون نچوڑنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ جیسا کہ کاہنہ تھانہ میں بھرتی قومی رضاکاروں کے ساتھ ہورہا ہے ۔رضاکار جاوید احمد نے بتایا کہ ہم35لڑکے تھانہ کاہنہ نومیں 03-10-2010کو بطور رضا کار بھرتی ہوئے ۔کمپنی کمانڈر جناب سجاد بابر نے ہمیں بھرتی ہوتے وقت بتایا کہ آپ کو ہر مہینے سیلری ملے گی۔جب 3ماہ تک ڈیوٹی کرنے کے بعد ہمیں کچھ نہ ملا تو ہم تمام رضاکاروں نے ڈیوٹی کرنا چھوڑدی ۔کمپنی کمانڈر سجاد بابر صاحب نے پھر رابطہ کیا اور بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے رضاکاروں کے ڈیلی الاؤنس میں بھی اضافہ کردیا ہے ۔12اکتوبر2012 ء کے اخبارات میں بھی رضاکاروں کے الاؤنس میں اضافے کے حوالے سے خبر شائع ہوئی ۔جس میں لکھاتھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے رضاکاروں کے الاؤنس میں اضافے کی سمری منظور کرلی ہے ،جس کے بعد گزشتہ روز سیکرٹری خزانہ کو سمری بھجوا دی گئی ،آئندہ چند روز میں باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کردیاجائے گا۔قومی رضاکاروں کوتنخواہ کے علاوہ روزانہ کی بنیاد پر سپیشل الاؤنس ملتا ہے ۔کمانڈر پنجاب کا ڈیلی الاؤنس 200روپے سے بڑھ کر600روپے ،سینئر کمانڈر کا150سے بڑھ کر500روپے،ڈسٹرکٹ کمانڈر کا100سے بڑھ کر325روپے،کمپنی کمانڈر کا 75سے بڑھ کر 300روپے ،پلاٹون کمانڈر کا75روپے 275روپے جبکہ رضاکار کا روزانہ الاؤنس50روپے سے بڑھ کر 200روپے ہوجائے گا۔کمپنی کمانڈر نے بتایا کہ اب رضاکاروں کی سیلری ہرمہینے اپنے اپنے بینک اکاؤنٹ میں آجایا کرے گی۔آپ کامسئلہ حل ہوگیا ہے اب آپ لوگ ڈیوٹی پر آجائیں اور اپنے بینک اکاؤنٹ کھلوالیں تاکہ آپکوبروقت سیلری مل سکے ۔ہم نے فورا بینک اکاؤنٹ کھلوا کر اکاؤنٹ نمبر کمپنی کمانڈر کودے دیئے اور ڈیوٹی پر حاضرہوگئے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج تک ہمیں ایک پیسہ بھی نہیں ملا ۔جس کی وجہ سے ہمارے گھروں میں فاقے چل رہے ہیں ۔یہ داستان مجھے گزشتہ روز تھانہ کے رضاکاروں نے سنائی جن میں جاوید احمد،محمدپرویز،محمد عرفان ،عادل علی،محمدعرفان میؤ،انورعلی،محمدطارق،امجدعلی،محمدعمران،نعیم اسلم،تنویر اقبال قمر،سرفراز احمد،عرفان علی اور دیگرشامل تھے،ان سب کاکہنا ہے کہ رضاکار بھرتی ہوتے وقت کمپنی کمانڈر سجادبابر نے انہیں 9200روپے سیلری اور الاؤنس ملنے کا کہاتھا۔9200روپے اس مہنگائی کے دور میں بہت کم ہیں لیکن بے روزگاری کے عالم میں ہم نے قبول کرلی اور ملک وقوم کی خدمت کا جذبہ لئے ڈیوٹی شروع کردی ۔رضاکاروں کا کہناہے کہ ہم نہیں جانتے ہماری تنخواہ کہاں گئی لیکن ہمیں 3-10-2010سے آج تک ایک پیسہ نہیں ملاجس کی وجہ سے ہم قرض اُٹھاکرکھانے پر مجبور ہیں اور اب تو یہ حال ہے کہ کوئی قرض بھی نہیں دیتا ۔ ہم حکومت وقت سے سوال کرتے ہیں کہ خودکشیاں نہ کریں توکیا کریں؟اگرکوئی غیرسرکاری محکمہ ہماری مزدوری نہ دیتاتو ہم سرکار سے مدد مانگتے ،ہمیں تو سرکار ہی ہمارا حق نہیں دے رہی تو ہم کس سے انصاف مانگیں ؟رضاکار جاوید احمد روتے ہوئے کہنے لگاامتیاز صاحب خُداراہماری مدد کریں ۔میں نے اُسے دلاسہ دیتے ہوئے کہا بھائی اللہ تعالیٰ کوئی بہتر حل نکالے گا۔آپ بتائیں میں آپ کے لیے کیا کرسکتاہوں؟وہ کہنے لگا جناب اگر کسی طرح آپ ہماری فریادحکام بالا تک پہنچادیں تو ضرور کوئی نہ کوئی حل نکل آئے گا ۔میں نے اُ ن کی یہ مدد کرنے کی حامی بھر لی اور آج کی تحریر رضاکاروں کے نام کردی ہے ۔رضاکاروں کی نگران وزیراعلیٰ پنجاب اور دیگراعلیٰ حکام سے اپیل ہے کہ ہمیں فوری طور پرہمارا حق دیا جائے تاکہ ہمارے بجھے ہوئے چولہے جل سکیں ۔note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button