تازہ ترینڈاکٹر بی اے خرمکالم

یوم قائد پہ آتشزدگی کے سانحات

یوم قائد کے موقع پہ وطن عزیز پاکستان کے دو بڑے شہروں لاہور اور کراچی جسے کبھی روشنیوں کا شہر کہا جاتا تھا میں ایک جیسے آتشزدگی کے ہولناک واقعات رونما ہوئے جس میں مالی نقصانات کے ساتھ ساتھ بہت سے انسان بھی لقمہ اجل بن گئے دونوں واقعات میں مماثلت پائی جاتی ہے دونوں واقعات ایک ہی روز یعنی بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح ڈے پہ ہوئے جب لاہور میں برستے شعلے بند ہو رہے تھے توعین اسی وقت آگ کے شعلوں نے کراچی کی ایک گارمنٹس فیکٹری میں آگ برسانا شروع کر دی یہ بھی ایک اتفاق ہی ہے کہ دونوں مقامات میں حادثاتی ماحول میں بچ نکلنے کی سہومتوں کا فقدان نظر آیا آپ اسے بھی ایک اتفاق کہہ سکتے ہیں کہ دونوں جگہوں پہ آگ لگنے کی ایک ہی وجہ تھی یعنی بجلی کے سرکٹ میں خرابی کے باعث‌آگ لگی ان ہولناک واقعات میں جہاں فیکٹری مالکان نے غفلت کا مظاہرہ کیا وہاں حکومت نے بھی اپنی ذمہ داریوں کو احسن طریقہ سے نہیں نمٹایاعروس البلاد شہرکراچی میں گارمنٹس کی ایک فیکٹری میں لگنے والی خوفناک آگ کیا لگی تین سو سےزائد افراد کو نگل گئی اس گارمنٹس کی فیکٹری میں لگنے والی آگ نے کئی گھروں کے چولہے ٹھنڈے اور چشم و چراغ بچھا دیئے بھڑکتی اور پھیلتی آگ کے منظر دل کو ہلانے دینے والے تھےآہ و بکا اور ہر آنکھ اشکبار، لواحقین اپنے پیاروں کی زندگی کےلیے دعائیں کرتے رہے ہنگامی راستے نہ ہونے سے اموات میں اضافہ ہوا۔بلدیہ ٹاؤن میں قائم گارمنٹس فیکٹری میں لگنے والی آگ اس تیزی سے پھیلی کہ کسی کو جان بچانے کا موقع نہ مل سکا۔ فائربریگیڈ، پاک بحریہ، فضائیہ، سول ایوی ایشن اور دیگر اداروں کے فائر ٹینڈر کو بھی طلب کیا گیا لیکن تمام تر کوششوں کے باوجود آگ پھیلتی چلی گئی۔جو تادم تحریر بجھائی نہیں جا سکی لمحہ بہ لمحہ فیکٹری میں ہنگامی راستہ نہ ہونے سے ریسکیو آپریشن اور آگ بجھانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ تہ خانے میں دھواں اور پانی بھر جانے سے کئی افراد دم توڑ گئے۔ کئی ملازمین نے جانیں بچانے کے لیے کھڑکیوں اور چھت سے چھلانگیں لگادیں۔ فیکٹری میں جگہ جگہ بکھرا سامان وہاں موجود لوگوں کی بے بسی کی داستان سنا رہا ہے۔ کراچی میں آگ سے جھلس کر انسانی جانوں کے ضیاع کا یہ سب سے بڑا واقعہ ہے۔ گورنر سندھ نے اس قومی سانحے پر ایک روزہ سوگ کا اعلان کیا اور حکومت سندھ نے سانحے کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن تشکیل دے دیا
لاہور میں آگ لگنے کے واقعہ میں جہاں مالی نقصان ہوا وہاں ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں اس حادثےکی وجہ عموماً شارٹ سرکٹ بتائی گئی جس فیکٹری میں آگ لگی ہے۔ اس سمیت سینکڑوں فیکٹریاں دریائے راوی کی گزر گاہ کے علاقے میں بنائی گئی ہیں اور بظاہر ایسی تعمیرات ناجائز تجاوزات کے زمرے میں آتی ہیں، چونکہ اب دریائےراوی میں پانی نہیں ہے اور خشک ہو چکا ہے، اس لئے لوگوں نے بے خوف وبے دھڑک ہو کر دیکھا دیکھی متعدد عمارتیں تعمیر کر لیں اور اب بھی کرتے چلے جا رہے ہیں، لیکن جب بھی مون سون اور سیلاب آتا ہے تو یہ عمارتیں بھی ان کی زد میں آجاتی ہیں ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ان عمارتوں کے نقشے کس نے منظور کئے، انہیں ٹیلی فون ، بجلی ، گیس اور پانی کے کنکشن کیسے مل گئے۔ ظاہر ہے یہ ساری سہولتیں تو سرکاری ادارے فراہم کرتے ہیں یہ سب کچھ انتظامیہ سے ملی بھگت سے ہوتاہےاگر سرکاری ادارے ان غیر قانونی عمارتوں کے متعلق قانوی کاروائی عمل میں لاتے تو یقینا بڑے سانحات سے بچا جا سکتا تھا
یوم قائد کے موقع پہ ہونے والے دونوں بڑے حادثات کی تحقیقات کا حکم دیا گیا ہے، لیکن سوال اس امر کا ہے کہ جو لوگ اپنی قیمتی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں ان کا ذمہ دار کون ہے اور پھر اُن کے پیاروں کو ایسی تحقیقات سے کیا حاصل ہوگا؟…. پھر ہمارے ہاں عمومی طور پہ یہ بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ تحقیقاتی کارروائیاں عموماً معاملے سے توجہ ہٹانے تک مرکوز رہتی ہیں، جب سوگ کی فضا ختم ہوتی ہے اور لوگ واقعہ کو بھولنے لگتے ہیں تو تحقیقاتی کام بھی آہستہ آہستہ طاقِ نسیاں کی زینت بننے لگتا ہے اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ حادثے سے پہلے اس امر کا اہتمام ہو کہ حادثہ وقوع پذیر ہی نہ ہو اور نہ ہی ایسے سانحات دیکھنے کو میں جس سے قیمتی جانیں تلف ہوں

یہ بھی پڑھیے :

One Comment

Back to top button