امتیاز علی شاکرتازہ ترینکالم

کیا عورت انسان نہیں؟(2)

imtiazکیا عورت انسان نہیں ؟اس سوال کا جواب مرد کو تلاش کرنا ہے ۔لیکن ایک سوال آج میں عورت سے بھی کروں گا وہ یہ کہ کیا عورت صرف جسم کا نام ہے؟ میرے نزدیک عورت صرف جسم کا نام نہیں ہے ورنہ جسم تو جانور اور پرندے بھی رکھتے ہیں لیکن وہ انسان نہیں ہیں ۔ آج ہمیں یہ سوچنا ہے کہ عورت صرف جسم بن کر کیوں رہ گئی ہے ؟ایک وجہ تو سستی شہرت اور فوری بغیر محنت کئے دولت کمانے کی کوشش ہے ۔جو اس بے حس معاشرے میں عورت کو اپنے جسم کے کپڑے کم کرنے پر حاصل ہوجاتیں ہیں ۔یہاں پھر ایک اور سوال جنم لیتا ہے کہ ننگے جسم کی قیمت کون ادا کرتا ہے ؟کیا ایک برہنہ عورت کو دیکھ کر دوسری عورت کی حوس پوری ہوتی ہے ؟نہیں ہرگزایسا نہیں ہے بلکہ وہ مرد ہی ہے جو عورت کو عریاں دیکھ کرخوش ہوتا اور اسے شہرت اور دولت کا لالچ دے کر ایسی غلیظ حرکت کرنے کے لیے مجبور کرتا ہے ۔یہ معاشرے کی بے حسی نہیں تو اور کیا ہے کہ اتنی گندی فطرت کا مالک ہونے کے باوجود مرد باعزت ہی رہتا ہے لیکن عورت اپنا سب کچھ کھودیتی ہے ۔ میرے کہنے کا یہ مطلب نہیں کہ اس ساری بے حیائی میں عورت بے گناہ ہے عورت اپنی جگہ غلط ہے کیونکہ اگر عورت اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں پر شاکر رہے اور حوس لالچ سے دور رہ کر اپنے ایمان اور عزت و عصمت کی حفاطت کرے تو دنیا کی کوئی طاقت اسے بے حیائی کرنے پر مجبور نہیں کرسکتی ۔ خواتین کے موضوع پر اتنا لکھا جا چکا ہے کہ قلم اٹھاتے ہو ئے محسوس ہوتا ہے شاید اب کچھ باقی نہیں رہا ۔لیکن آئے روز وینا ملک کے سکینڈل سامنے آنے کے بعد جو انڈیا کے ایک رسالے میں ویناکی عریاں تصاویر کی اشاعت کے بعد منظر عام پر آنے شروع ہوئے ۔میں اپنے آپکو اس موضوع پر لکھنے سے نہیں روک سکا ۔اس موضوع پر مزید بات کرنے سے پہلے میں یہ بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ میرے نزدیک مرداورعورت دونوں ہی انسان ہیں ۔ اس لیے دونوں کا فر ض بنتا ہے کہ بے حیائی کے کاموں سے خود کودور رکھیں تاکہ عورت اور مرد دونوں کو وہ حقوق حاصل ہوسکیں جو انہیں اللہ تعالیٰ نے عطا کئے ہیں ۔خواتین کی حالت زار کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ خواتین کے حقوق کی پامالی تو اسلام سے پہلے بھی ہوتی تھی لیکن جب اسلام نے عورت کے حقوق کو تسلیم کیا تو دنیا کا وہ پہلا معاشرہ وجود میں آیا جس نے عورت کو عزت اور وقاردیا جو کہ اس کا حق تھا۔آپکو نہیں لگتا کہ جدت پسندی اور آزاد خیالی کے اس دور میں ہم انسانیت کے اصول بھول چکے ہیں۔ دنیا کا کوئی مذہب بھی انسانیت کی تذلیل نہیں کرتاجس معاشرے میں ماں بیٹی اور بہن کی عزت محفوظ نہ رہے وہاں ایک وینا ملک ہی پیدا نہیں ہوتی بلکہ وہاں ہرقدم پر ایسے کردار ملتے ہیں۔وینا ملک ایک عورت ہے میں اسے آج کسی بھی مذہب کی نظر سے نہیں دیکھتا صرف انسانیت کی نظرسے دیکھتا ہوں کیونکہ وینا بھی اسی حوا کی بیٹی ہے جو میری بھی ماں ہے۔ ایسی ہی حوا کی ایک بیٹی نے نوماہ تک مجھے اپنے وجود میں پالا ۔پھر جب میں دنیا میں آیا تو مجھے رونے کے سوا کچھ نہیں آتا تھااسی حوا کی بیٹی کو اللہ تعالیٰ نے میرے زندہ رہنے کا سامان کیا اللہ تعالیٰ نے جس جسم سے مجھے رزق عطا کیا کیوں میں اسی وجود کو تماشا بناتا ہوں ۔مجھے کیوں شرم نہیں حالانکہ اسلام نے ہمیں حیا کا درس دیا ہے ہمیں اپنی نظروں کو نیچی رکھنے کا حکم دیا ہے اور ہمارے آقاﷺنے ہمیں عذاب سے ڈرایا کہ جو اپنی آنکھو ں کوحرام (بدنگاہی) سے پُر کرے گا بروز قیامت اس کے آنکھو ں میںآگ کی سلائیاں ڈالی جائیں گی ۔ اگر ہم سب اپنا محاسبہ کریں کہ ہم اس حد یث مبارکہ پر کتنا عمل کرتے ہیں فلمیں ڈرامے اور بے پردہ عورت کو دیکھنا ہماری عادت بن چکی ہے عورت بچاری مرد کی خواہش پوری نہ کرے توکیا کرے حیاء تو ہمارے مردوں کی ختم ہو چکی ہے اگر ہم سوچیں کہ ہر کام میں ہم عورت کو ہی استعمال کیوں کرتے ہیں تو یقیناًہمارے سامنے ہماری بہت ساری خامیاںآئیں گی مثلا ٹیلی ویژن کی ہر Advertisement میں عورت ہی کیوں آتی ہے وہ بھی کم کپڑوں اور ننگے جملوں کے ساتھ؟۔ ہم اپنے کاروبار کا آغاز عورت کی بے پردگی سے کرتے ہیں جب ہم عورت سے ایسی ہی توقعات رکھیں گے انکے پردے کی پاسداری نہیں کریں گے اگر عورت کوئی بے حیائی کا کام کرتی ہے توسارا معاشرہ اسے تنقید کا نشانہ بناتا ہے لیکن مرد کو کوئی کچھ نہیں کہتا ۔

یہ بھی پڑھیں  سبی:فری لیگل گرین موومنٹ کے قیام کا اعلان

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker