بشیر احمد میرتازہ ترینکالم

کیا بھارت پسندیدہ ملک ہو سکتا ہے۔۔۔؟؟؟

bashir ahmad mirآذادی کی تحریک کو دہشتگردی کہنا تاریخی بد دیانتی ہے مگر بھارت نے دہشتگردی کی انتہاء کر دی اس نے اس وقت تک ایک محتاط اندازے کے مطابق 93,836کشمیری شہریوں کو گولیوں سے چھلنی کرکے شہید کیا ،6997زیر حراست شہریوں کو پُرتشدد انداز سے شہید کیا گیا،اب تک 1,20,724شہریوں کو جیلوں میں قید کھا ہوا ہے،حالیہ تحریک آذادی کے دوران 1,o5,977رہائشی مکانات جلائے گے ،22,765خواتین بیوہ ہوئیں ،1,07444بچے یتیم ہوئے جبکہ آبروریزی کے1o,o48واقعات ریکارڈ کئے گے ۔ان اعداد و شمار کے علاوہ گمنام قبروں کا انکشاف حال ہی میں ہوا جس کی تعداد ہزاروں میں بتائی جاتی ہے ۔آذادی کی شمع بجھانے کے لئے بھارت نے بہت جبر و استبداد کا مظاہرہ کیا مگر کشمیریوں نے ہر صورت آذادی کے حصول تک تحریک جاری رکھنے کی ٹھان رکھی ہے۔بھارت سے پوچھا جاسکتا ہے کہ اگر کشمیریوں کی جد و جہد آذادی دہشتگردی ہے تو ان کے ماتما گاندھی سب سے بڑے دہشتگرد کہلائے جا سکتے ہیں ۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دہشتگرد کون ۔۔۔؟؟؟ یہ ایسا سوال ہے کہ جس کا ابھی تک میں درست جواب نہ پا سکا،پہلی جنگ عظیم میں 17ملین شہریوں کا قاتل کون؟ دوسری جنگ عظیم میں 55ملین افراد کی موت کا ذمہ دار کون؟ ناگا ساکی پر بم برسا کر 2لاکھ انسانوں کی جانیں کس نے لیں ؟ ویتنام میں 5ملین شہری کس نے مارے ؟ بوسینیا میں 5لاکھ بے بس افراد کو کس نے موت کی نیند سلایا ؟ عراق میں 1.2ملین افراد کو کون نشانہ بنا گیا اور کشمیر کی آذادی کے ایک لاکھ سے زائد متوالوں کو کس جرم میں شہید کیا گیا ،اسی طرح آئے روز ڈرون حملوں میں کیوں اس وقت تک 40ہزار مسلمان مقتل گاہ میں سجے ۔ان ظالمانہ کارروائیوں کے نتیجے میں شہید ہونے والے کیا انسان نہیں تھے ،اب آتے ہیں خودکش حملہ آوروں کی جانب ،یہ لوگ غلط سہی مگر کیا بھارت ،امریکہ اور دیگر ممالک نے کیا انسانیت کا تحفظ کیا ۔
طاقت کی جنگ میں سب یہی کہتے ہیں کہ ہم درست سمت پر جا رہے ہیں ،حالانکہ دہشتگرد تو وہ خود بھی ہیں ،آج کل بھارت کو پسندیدہ ملک قرار دینے کی باتیں گردش کرتی ہیں ،کیا کوئی یہ بھارت سے پوچھ سکتا ہے کہ وہ کس طرح ایک لاکھ کشمیریوں کے قتل کے بعد پسندیدہ ہو سکتا ہے ،سنا کرتے تھے کہ بھارت کی عدلیہ آذاد اور کسی دباؤ کا شکار نہیں ہوا کرتی مگر حالیہ افضل گورو کی پھانسی کے فیصلے کے بعد کیا بھارت کی عدلیہ کو آذاد کہا جا سکتا ہے جس نے ایسے شخص کو پھانسی کے پھندے پر لٹکایا جو نہ شریک جرم تھا اور نہ ہی اس کی کوئی شہادت اس حملہ میں ملوث ہونے سے ثابت تھی ،کیا یہ عدالتی دہشگردی نہیں ۔
بھارت کا اصل چہرہ بے نقاب ہو گیا ،اگر وہ چند غلطیاں نہ کرتا تو پاکستان ممکن تھا کہ اس وقت تک اسے پسندیدہ ملک قرار دے چکا ہوتا،جب سے پسندیدہ کی خبریں سامنے آئیں تو بھارت نے سب سے پہلے لائن آف کنٹرول پر بلا اشتعال فائرنگ ،بھارتی وزیر اعظم ،وزیر خارجہ ،چیف آف آرمی اسٹاف سمیت بھارتی حکمرانوں نے تسلسل سے دھمکیاں دینا شروع کردیں کہ وہ سبق سیکھائیں گے ،پھر گورو
کی پھانسی سے یہ پیغام دیا گیا کہ وہ طاقت سے زیر و زبر کر سکتا ہے ۔لیکن بھارت کی پالیسی غلط نکلی اور اس نے دھوکہ دینے کی جو کوشش کی تھی کہ اسے کسی طرح پسندیدہ ملک قرار دے دیا جائے تو وہ آسانی سے اپنے مظالم اور توسیع پسندانہ عزائم پر پردہ ڈال سکے مگر کہتے ہیں کہ ظالم ،جابر اور قاتل کے دن تھوڑے ہوتے ہیں ،ہمیں بھارت کے مذموم عزائم کا پتہ چلنا قدرت الہی کا کرشمہ کہا جا سکتا ہے ورنہ جلد بازی میں پسندیدگی کا سرٹیفکیٹ لیکر بھارت نے جنوبی ایشیاء میں جو ظلم کرنے تھے وہ دہشتگردوں کی کارروائیوں کو مات دے جاتے ۔
دنیا اس وقت انتہائی معاشی بحران سے گذر رہی ہے جس کا ترقی پذیر ممالک پر دوگنااثرات مرتب ہو رہے ہیں ،مہنگائی ،بے روزگاری اور غربت نے بالعموم پوری دنیا اور بالخصوص جنوبی ایشیاء کو ہدف بنا رکھا ہے ۔اس بحرانی صورت حال میں منظم دہشت گردی کا ہونا خطرناک امر ہے ۔کشمیر چار ایٹمی قوتوں پاکستان ،چین ،روس اور بھارت کے درمیان واقع ہے ۔اس اہم حیثیت اور پر خطر خطے کو پر امن رکھا جانا بھارت کے لئے مفید ہے مگر بھارتی منصوبہ ساز جس ڈگر پر چل رہے ہیں اس سے لگتا یہ ہے کہ مستقبل میں بھارت کے دس سے پندرہ صوبے خودمختاری کی تحریک چلا کر مرکز سے الگ ہو جائیں گے ۔ایک اور خطرہ بھی واضح دکھائی دے رہا ہے کہ ممکن ہے کہ اگر کشمیریوں کو آذادی نہ دی گئی اور تنازعہ کشمیر کا متفقہ حل نہ نکالا گیا تو طالبان آسانی سے آتش فشاں کو اپنی چنگاری سے خاکستر کر سکتے ہیں ۔ان حالات کو سامنے رکھتے ہوئے بھارت کی بھاری ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ دہشتگردی کے خلاف جنگ کو نتیجہ خیز بنانے کے لئے سب سے پہلے باہمی تنازعات حل کرنے میں پہل کرئے ۔اگر وقت ضائع کیا گیا تو پھر اندرونی اور بیرونی طور پر کئی محاذ کھلتے ہی بھارت کو دن کے وقت تارے نظر آئیں گے ۔بھارت کی یہ بھول ہو گی کہ وہ سطحی فیصلوں سے تحریک آذادی کشمیر کو ختم کر لے گا۔بھارت کو پتہ ہونا چاہئے کہ جموں کشمیر چھ ہزار سالہ تاریخی ریاست ہے اور اس پر بیرونی حکمران کبھی بھی کامیاب نہیں ہوئے۔66سال سے قائم خونی لکیر محض اس بنیاد پر نظر آ رہی ہے کہ کشمیری پاکستان کی سلامتی اور استحکام کو پیش نظر رکھ کر انتہائی قدم نہیں اٹھا رہے ہیں اور کچھ ہمارے لیڈرز کی بھی کمزوری ہے جس کے سبب ایسا نظر آرہا ہے اگر کشمیری قیادت دم چھلہ بننے کے بجائے کشمیری تشخض کو سامنے رکھیں تو کوئی وجہ نہیں کہ بھارت 24گھنٹوں میں کشمیر سے دستبرداری کا اعلان نہ کر دے۔جب تک ہم گ،ع،م ،ن،پ،ل ،الف،ج ،کے چکروں میں پڑے رہیں گے بھارت سے آذادی لینا مشکل امر ہوگا۔کشمیری سیاسی قیادت بکھری ہوئی رہی تو پھر طالبان کی شکل میں ایک طوفان آتا دکھائی دے رہا ہے جس میں اپنے اور پرائے کی پہچان نہیں ہوگی اور کشمیر آزاد بھی ہوا تو اس کا حسن تباہ برباد ہو جائے گا جس سے بھارت کو بھی کئی حصوں میں بٹنے کا خطرہ مول لینا پڑے گا۔لہذا ہوشمندی کی ضرورت ہے کہ پاکستان اور بھارت مل بیٹھ کر اس خطرناک مسئلے کا حل نکالیں ۔تباہ کن اسلحہ اور زور دار دھمکیاں کسی طور دونوں ممالک کے مفاد میں نہیں ہیں ۔یہ امر باعث اطمینان ہے کہ پاکستان اور بھارت کے سنجیدہ حلقے مستقبل کے خطرات و مضمرات کا ادراک رکھتے ہوئے اچھی تجاویز دیکر اعتماد سازی کو ہموار کر رہے ہیں مگر یہ اقدامات اس وقت تک پائیدار امن کی ضمانت نہیں بن سکتے جب تک دونوں ممالک اپنے تنازعات کا حل نہ کریں تنازعہ ابھر کر فساد پیدا کرتا ہے اور فساد سے پھر جنگی جنون زور پکڑ کر تباہی کا باعث بن جاتا ہے ۔ضروری ہے کہ دونوں ممالک برابری کی بنیاد پر نتیجہ خیز اور مفید تر مذاکرات کی شروعات کریں جن میں محض کھانا پینا ،اٹھنا بیٹھنا ،گپ شپ کا روایتی انداز نہ ہو بلکہ ذمینی حقائق پر سیر حاصل بحث اور فیصلہ کن ایجنڈا ہو تاکہ درپیش خطرات سے نمٹا جا سکے ۔اگر وقت سے پہلو تہی کا مظاہرہ کیا گیا تو اس کے نتائج بھیانک نکلنے کا اندیشہ ہے جس کا ادراک ضروری ہے۔note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button